آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریر: نرجس ملک

ماڈل: ثناء گِل، ماریہ خان، کائنات خان،

ایمان، احمد مقصود، عُمر چوہدری

ملبوسات: بِن یونس

آرایش: جاوید صادق

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

؎ ’’یوں نہ غم میں جلیں، عید نزدیک ہے.....بُھول کر غم ہنسیں، عید نزدیک ہے.....دوستو، ساتھیو اور پردیسیو.....آئو سب گھر چلیں، عید نزدیک ہے۔‘‘ ؎ ’’ہر آنگن میں سورج اُترے خوشیوں کا.....خواہش ہے، ہر آنگن چمکے عید کے دن۔‘‘ ؎ ’’جو ہیں غریب، اُن کی بھی دید و شنید ہو.....یہ عید بس ہماری نہیں، سب کی عید ہو۔‘‘ اصولی طور پر تو اجتماعی ایّام، تہواروں کا مقصد، معنی و مفہوم یہی ہونا چاہیے، لیکن حقیقتاً ایساہوتا نہیں۔ خصوصاً دورِ حاضر کی نفسانفسی، افراتفری، بھاگ دوڑ نے تو کچھ بھی ’’مجتمع‘‘ نہیں چھوڑا۔ ذہن، خیالات، منتشر، ریت رواج، باتیں حکایتیں جُدا جُدا۔ دُکھ سُکھ، غم، خوشیاں سانجھے رہے ہیں، نہ بندہ، بندے کا دارو۔ بس، ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہے۔ تب ہی تو ؎ ’’بہ فیضِ عید بھی پیدا ہوئی نہ یک رنگی.....کوئی ملول، کوئی غم سے بے نیاز رہا‘‘ اور ؎ ’’غریب ماں اپنے بچّوں کو بڑے پیار سے یوں مناتی ہے.....پھر بنالیں گے نئے کپڑے، یہ عید تو ہر سال آتی ہے۔‘‘

اسلام میں عید کا فلسفہ اور پس منظر کیا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکّے سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہلِ مدینہ (جن کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہوچکی تھی) جشن و مسّرت کے دو اجتماعی تہوار منایا کرتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے دریافت فرمایا کہ یہ دو دن جو تم مناتے ہو، اُن کی حقیقت (پس منظر) کیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا، ہم جاہلیت میں (قبل از اسلام) یہ دو تہوار منایا کرتے تھے (وہی رواج اب تک چلا آرہا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان دو تہواروں کے بدلے ان سے بہتر دو دن تمہارے لیے مقرر فرمادیئے ہیں۔ (لہٰذا اب وہی تمہارے ملّی و مذہبی تہوار ہیں) یومِ عید الفطر اور یومِ عیدالاضحی۔ (سنن ابی دائود)سو، یہ عیدین محض امتِ مسلمہ کے پُرمسرت اجتماعی، دینی و ملّی تہوار ہی نہیں، مومنوں کے لیے ربِ جلیل کی طرف سے انعامِ عظیم بھی ہیں۔ ’’عید الاضحی کی صُورت ملنے والے انعام سے ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اُن کے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سنّت کے اتباع میں اصلاحِ نفس، تزکیہ روح، ایثار و قربانی اور باہمی اتحاد و یگانگت کا درس ملتاہے، تو’’عید الفطر‘‘ پروردگارِ عالم، رب العرش کے اپنے مہینے ’’ماہِ صیام‘‘ کی عبادتوں، ریاضتوں کا وہ بہترین صلہ، انعام ہے، جس سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’جب عیدالفطر کا دن آتا ہے، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے، ’’اے میرے فرشتو!اُس مزدور کیا جزا ہے، جو اپنا کام مکمل کردے؟‘‘ فرشتے عرض کرتے ہیں، ’’اُس کی جزا یہ ہے کہ اُس کو پورا پورا اجرو ثواب عطا کیا جائے۔‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ’’اے فرشتو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ مَیں نے اپنے اِن بندوں کو رمضان کی عبادات و مناجات کے عوض اپنی رضا و مغفرت عطا کی۔‘‘ پھر بندوں سے خطاب فرماتا ہے، ’’میری عزّت و جلال، میرے کرم اور بلند مرتبے کی قسم، میں تمہیں کافروں کے سامنے ہرگز رسوا نہ کروں گا۔ بس اب بخشے بخشائے اپنے گھروں کو لوٹ جائو۔ تم نے مجھے راضی کردیا اور مَیں تم سے راضی ہوگیا۔‘‘

اگر ان دو عظیم تہواروں کے طفیل و توسّط سے بھی، جو مسلمانوں کےلیےحددرجہ محترم و مکرم، مقدّس و افضل، بابرکت و باسعادت ہیں، یک رنگی و یک جائی پیدا نہ ہوپائے، تو پھر تو اجتماعیت و یک جہتی کی کوئی صُورت ہی ممکن نہیں۔ چاند دیکھنے سے لے کر عید منانے کے رنگ و انداز تک میں ’’کُل‘‘ کا احساس نہ ہونا کس قدر افسوس کی بات ہے۔ جس طرح عمومی طور پر امّتِ مسلمہ ٹوٹ پھوٹ، انتشار کا شکار ہوتی جارہی ہے، وہی رنگ اب ہمارے خالص دینی و ملّی معاملات پر بھی غالب آگیا ہے۔ مانا کہ وقت کی دھول تلے بہت کچھ دبتا چلا جارہا ہے، مگر خدارا کم از کم اپنے ان دو خُوب صُورت ترین ایّام کو تو سال کے سال ہی سہی، جھاڑ پونچھ کے، قلعی کرواکے اُن کے اصل، خالص رنگ و رُوپ کے ساتھ محفوظ رکھنے کی کوئی سعی کرلیں۔ آپ کو کیا پتا ؎ کتنی پلکوں سے فضائوں میں ستارے ٹوٹے.....کتنے افسانوں کا عنوان بنا عید کا چاند۔ اور ؎ ’’کتنے ترسے ہوئے ہیں خوشیوں کے.....وہ جو عیدوں کی بات کرتے ہیں۔ ایک وہ طبقہ ہے، جس کے خوشیاں منانے کے بہانے ہی ختم نہیں ہوتے۔ سمجھ ہی نہیں آتا کہ کہاں، کتنا اور کیسے کیسے لٹایا جائے اور ایک وہ طبقہ ہے، جسے سال بھر میں بہ مشکل دو مواقع میسّر آتے ہیں، تو ان کا بھی بھرم رکھنا کسی کارِ آزار سے کم نہیں ہوتا۔ وہ ہے ناں ؎ اُس بچّے کی عید نہ جانے کیسی ہو.....جس کی جنّت ننگے پائوں پھرتی ہے۔ تو عید صرف اپنی ذاتی، انفرادی خُوشی، محض اپنی اور اہلِ خانہ کی زیب و زینت، طعام و اہتمام کا نام نہیں۔ یہ تو ایک اجتماعی، روحانی واخلاقی تہوار ہے۔ یہ عید ہر فرد کی اپنی الگ عید نہیں کہ جو جیسے چاہے، منالے۔ جس طور گزارنا چاہے، گزارے۔ ’’لیلۃ الجائزہ‘‘ بازاروں، ریسٹورنٹس میں گزرے، تو ’’روزِ انعام‘‘ موبائل اسکرینز کے سامنے یا سوتے ہوئے۔ یہ پورے ایک ماہ کی روحانی و اخلاقی تربیت کا ثمر، تشکّرو امتنان بھرپور خوشی و مسّرت، راحت و شادمانی کا دن ہے، تو اس کا پورا پورا حق ہے کہ اِسےاس کےشایانِ شان ہی منایا جائے اور تنہا نہیں، سب کے ساتھ۔ تو کیا اس کا ایک طریقہ یہ نہیں ہوسکتا کہ اس روز باہمی رواداری و اخلاص، ہم دردی و غم خواری، چاہت و الفت کے جذبات و احساسات کی جی بھر آب یاری کی جائے۔ اس تہوارِ خوشی کو صحیح معنوں میں ذہنی و قلبی راحت و سُکون کا سامان بنالیا جائے۔ تو چلیں، پھر ابھی سے عہد باندھ لیں، اس عید، آپ نے کسی کی دل آزاری نہیں کرنی۔ دل کا سارا میل صاف کرکے، سب روٹھوں کو مناکے، خود بھی خوش رہنا ہےاور دوسروں کو بھی حتی الامکان خوش رکھنے کی سعی کرنی ہے۔ اپنی سکینتِ قلب کے لیے دست بستہ معافی کی التجا کریں اور خود بھی سب کو معاف کردیں۔ ماتھے کے تمام بل ہٹا کے، ذات کے سارےجھگڑے نمٹا کے سب میں گُھل مل جائیں۔ خُوب ہنسیں بولیں، اِک اِک لمحے سے حَظ اٹھائیں۔ بچّوں سے بےحد نرمی و شفقت کا برتائو کریں کہ عیدیں تو درحقیقت اُن ہی کی ہوتی ہیں، تو انہیں اُن کے معصوم بچپن کے اِن بے ریا، خالص لمحات کو بہت یادگار بنالینےدیں۔ ہنسی ٹھٹھول، شوخیوں، شرارتوں میں بھی شائستگی و وقار کا دامن تھامے رہیں۔ خاص طور پر بڑوں، بزرگوں کے ادب و احترام میں ہرگز کوئی کمی نہ آنے دیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ نے اپنے ساتھ کم از کم ایک اُس شخص کی عید تو صحیح معنوں میں ’’عیدِ سعید، میٹھی، شیریں عید‘‘ بنانی ہے کہ جس کے پاس ؎ بے چارگی کے زخم ہیں اور بے بسی کے پھول.....دامن میں اور کچھ بھی نہیں عید کے لیے۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت، کسی ایک ضرورت مند کا مسیحا، مونس و غم خوار بن جائے، تٖو کیا عجب کہ اس عید کا منظر ہی کچھ اور ہو۔ وہ شہزاد قیس نے کہا تھا کہ ؎ غم کے ریلے میں دُھلے دل کی دُعا عید کا چاند.....چشمِ پُرنم کو ہے رم جھم کی سزا عید کا چاند.....پہلے آویزاں رہا گوہرِ مِژگاں پہ ہلال.....صبر کی ڈور کٹی، چَھن سے گِرا عید کا چاند.....سسکیاں ہجر گزیدوں کی سوا ہوتی گئیں.....جانے کس درد کی ہوتا ہے دوا عید کا چاند.....دیکھ کر مجھ کو ہنسا، مَیں نے کچھ ایسے دیکھا.....سال بھر ساتھ مِرے روتا رہا عید کا چاند.....چند لمحے نظر آتا ہے، چلا جاتا ہے.....کچھ تو ہے، جس پہ ہے ہم سب سے خفا عید کا چاند۔

تو بس، اس برس آپ کو اپنی ہی ساری خفگیاں، ناراضیاں ختم نہیں کرنی، اِس عید کے چاند کی خفگی بھی دُور کرنی ہے۔ ہماری طرف سے اس خُوب صُورت ’’اہتمامِ عید بزم‘‘ کے تحفے اور دل کی اتھاہ گہرائیوں سے نکلی اِس دُعا کے ساتھ؎ ’’ایسی ہزاروں عیدیں مبارک ہوں آپ کو.....سو سال تک اسی طرح دیکھیں بہارِعید‘‘ عیدِ سعید کی مبارک باد قبول فرمائیں۔ اللہ کرے، یہ ’’عیدالفطر‘‘ کُل اُمتِ مسلمہ کے لیے بے حد سعد و مبارک ثابت ہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں