آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

صادقہ خان

کافی عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ کوسارہی وائٹ ہولز ہوتےہیں لیکن با لآ ٓخر سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کوسار حقیقتاًََ وجود رکھتے ہیں اور بہت بڑے بلیک ہولز سے وجود میں آتے ہیں

فلکیات میں دل چسپی رکھنے والے افراد جانتے ہیں کہ بلیک ہول خلا میں ایک چھوٹے نکتے یا مقام کو کہا جاتا ہے جو ارد گرد سے ہر شے کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے۔ اس کے گرد کشش ِ ثقل کا دائرہ اس قدر طاقتور ہوتاہے کہ وہاں سے روشنی کا اخراج بھی ممکن نہیں ہوتا۔ لہٰذا بلیک ہول کا’’ایونٹ ہورائزون‘‘ وہ مقام ہے، جس میں گرنے والی شے ہمیشہ کے لیے فنا ہوجائے گی۔ ماہرین ِ فلکیات کے مطابق زیادہ تر بلیک ہولز اس وقت وجود میں آتے ہیں جب کسی ستارے (سپر نووا ) کی بیرونی تہہ گریویٹی کے دباؤ کے باعث معدوم ہونے لگتی ہے اورمسلسل دباؤ سے گھٹ کر ایک بال جتنی رہ جاتی ہے ،جس کا سائز اتنا ہوگا جتنا کہ امریکا کے شہر نیویارک کا ہے ۔ بلیک ہولز کے بارے میں 1970 ءسے ا ب تک بے شمار نظریات پیش کیے جاچکے ہیں جن میں مایہ ناز سائنسداںاسٹیفن ہاکنگ کا کام بھی قابل ِذکر ہے۔اس موضوع پر ان کی متعدد کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں ۔ جن پر کائنات کی ابتدا کے متعلق سب سے زیادہ مستند نظریہ ’’بگ بینگ ‘‘ یعنی سنگولیرٹی وجود میں آیا ۔ اسی دوران بہت زیادہ ریڈیائی موجیں خارج کرنے والےکچھ ایسے ستاروں کا مشاہدہ کیا گیا جو بڑی کہکشاؤں کے عین مرکز میں پائے جاتے تھے ۔ ان کہکشاؤں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے مرکز میں بہت زیا دہ ماس والے بلیک ہولز ہوتے ہیں۔ جن کے گرد ایک گھومتی ہوئی ’’ایکریشن ڈسک ‘‘ ہوتی ہے جو دراصل گاڑھے مادّوں اور گیسوں پر مشتمل تہہ ہے۔ ابتدا میں ان اجسام کو ستارے ہی سمجھا گیا تھا، مگر ہبل دوربین سے گہرے اور قریبی مشاہدےکے بعد معلوم ہوا کہ یہ نہ تو ستارے ہیں اور نہ ہی بذاتِ خود کہکشاں ہیں ۔ البتہ ان کا مرکز چونکہ بہت زیادہ متحرک ہوتا ہے۔ لہٰذا ان سے مسلسل ریڈیائی شعاعیں خارج ہوتی رہتی ہیں اس بنیاد پر انہیں ’’کاسی ا سٹیلر ریڈیو سورس‘‘یا ’’کوسار‘‘ کا نام دیا گیا۔ ان سے جو برقی مقناطیسی شعاعیں خارج ہوتی ہیں ان کا ا سپیکٹرم یا سات رنگوں کی پٹی (طیف)ریڈیو اوروزیبل ویوز سمیت تمام ویولینتھ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس طیف سے کوسار کے بارے میں جو معلومات حاصل ہوئی ان کے مطابق یہ تقریباً دس ارب سال پہلے وجود میں آئے۔ 1970 ءمیںا سٹیفن ہاکنگ نے معلوم کیا تھا کہ جب ایک بلیک ہول اپنے ایونٹ ہورائزون سے باہر انرجی خارج کرتا ہے تو اس کی انرجی کم ہو نے سے وہ سکڑ کر آہستہ آہستہ معدوم ہو جاتا ہے ، اس پر بہت سے سوالات اٹھائے گئے کہ آیا جو اجسام بلیک ہول کے اندر جائیںگے کیا وہ ہمیشہ کے لیئے فنا ہو جائیں گے ؟کیوں کہ بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزون پر تمام فزیکل قوانین غیر مؤ ثر ہوجاتے ہیں ۔ گرچہ طبیعیات کے کلاسیکل قوانین یہی کہتے ہیں، مگر طبیعیات کے کوانٹم کے قوانین نے ایک نیا تصور پیش کیا کہ اشیاء کا بلیک ہول سے سالم باہر آجانا بھی ممکن ہے ۔

کوانٹم فزکس کے جدید ماڈل کے مطابق جب کوئی ستارہ اپنی ہی گریویٹی کے دباؤ کے باعث سکڑتے سکڑتے اس حد تک پہنچ جاتا ہے جہاں سے مزید دباؤ برداشت کرنا ممکن نہ ہو تو گریویٹی لوپس کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے وہ بلیک ہول اپنی ہیئت تبدیل کرکے وا ئٹ ہول میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی کے لیے سیکنڈ کے ہزارویں حصے سے بھی کم عرصہ درکار ہوتا ہے، مگر پھر بھی وہ بلیک ہول اربوں ، کھربوں سالوں تک دکھائی دیتا رہتا ہے، کیوں کہ گریویٹی روشنی کی شعاعوں کو پھیلا کر وقت کی مدت کو بڑھا دیتی ہے۔ دار صل وائٹ ہول ایک ایسی شے ہے جو حقیقتاً ہماری کائنات میں کہیں وجود نہیں رکھتے یا اگر موجود بھی ہیں تو اب تک ان کی کوئی واضح شہادت نہیں مل سکی ۔ ان سے ہمارا واسطہ صرف کونٹم میکینکس اور حسابی اعداد و شمار کے وقت پڑتا ہے، کیوں کہ انہیں بلیک ہول کا بالکل متضاد سمجھا جاتا ہے ، یعنی یہ بلیک اینڈ وائٹ ہولز مل کر کائنات میں تا بکاری اور خارج ہونے والی بے حساب توانائی کو توازن میں رکھے ہوئے ہیں ۔ اس کو یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزون جس توانائی کو نگلتا ہے ،وائٹ ہول کا ایونٹ ہورائزون اس کو کسی اور کائنات میں اگل دیتا ہے، مگر سائنسدانوں کی اکثریت وائٹ ہولز کی موجودگی ہی کی منکر ہے، کیوں کہ یہ کسی صورت ممکن نہیں کہ کائنات کسی ریڈی میڈ سنگولیرٹی کی بدولت وجود میں آئی ہے ۔

مگر اسٹیفن ہاکنگ کا کہنا تھا کہ ایک کائنات کا بلیک ہول ، وارم ہول کے ذریعے وائٹ ہول سے منسلک ہے جو ہمیں کسی اور کائنات میں لے جاسکتا ہے ، یعنی بلیک ہولز مختلف کائناتوں کے درمیان سرنگ کا کام دیتے ہیں ، مزید یہ کہ بلیک ہول آپ کو مستقبل میں لے کر جائےگا تو وائٹ ہول، وارم ہول کے ذریعے ماضی کی کھڑکی کھولنے کا سبب بنے گا ۔ کافی عرصے تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ کوسارہی وائٹ ہولز ہوتےہیں لیکن بلا ٓخر سائنس دان اس نتیجےپر پہنچے ہیں کہ کوسار حقیقتاًََ وجود رکھتے ہیں اور بہت بڑے بلیک ہولز سے وجود میں آتے ہیں جب کہ وائٹ ہولز کی کائنات میں مو جود گی اب تک ایک معمہ ہے۔ گرچہ اس موضوع پر وقتا َ فوقتا َ مختلف تحقیق اورمقالے شائع ہوتے رہتے ہیں ،مگر وثوق سے یہ بات کہنا کسی صورت ممکن نہیں کہ کوسار ہی وائٹ ہولز ہیں ۔ ماہرین کے مطابق شواہد ملے ہیں کہ ہماری ملکی وے کہکشاں سے گیسیں خارج ہوتی رہتی ہیں عین ممکن ہے کہ یہ اخراج وائٹ ہولز ہی کے ذریعے ہوتے ہیں، جس سے یہاں توانائی کا توازن برقرار رہتا ہے ، مگر یہ سب کچھ ابھی تک حسابی مفروضات تک محدود ہے۔

گرچہ ابھی تک ملکی وے کہکشاں کے مرکز پر کوئی کوسار دریافت نہیں ہوا، مگر یہاں ایک طاقتور برقی مقناطیسی شعاعوں والا بلیک ہول ضرور ہے جسے ’’ سیجی ٹیرئیس اے‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔اتنی زیادہ ماس کی قلیل جگہ میں مو جودگی کیسے ممکن ہوئی ۔اس کی وضاحت بہت سے سائنسدانوں نے وائٹ ہول نظریئے کے ذریعے کرنے کی کوشش کی ہے، کیوں کہ کوئی بھی شے وائٹ ہول کے ایونٹ ہورائزون کے کتنے ہی قریب کیوں نہ پہنچ جائے اس کے انتہائی قریب جانا ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں ایک بڑی پیش رفت اس وقت ہوئی جب کچھ عرصے پہلے ایک بہت بڑے گیس کے بادل کو سیجی ٹیرئیس اےکے مرکز کی طرف بڑھتے دیکھا گیا ، تب ماہرین ِ فلکیات نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہاں کسی بڑی تباہی یا دھماکے کااندیشہ ہے ، یا اس بادل کے باعث بلیک ہول کی ایکریشن ڈسک حد سے زیادہ روشن ہو جائے گی ،مگر سائنسدانوں کی توقع کے برخلاف ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔لامحالہ وہاں ان گیسوں کو کوئی مختصر راستہ ملا ہے ،جس سے یہ اخراج ممکن ہوا اور وہ یقینا َ ملکی وے کا وائٹ ہول ہو سکتا ہے، جس کا بلیک ہول کی طرح اپنا مخصوص ماس ، چارج اور گردشی حرکت کا معیار ہوگا ۔

اس طرح اسٹیفن ہاکنگ کے اس نظریے کی تصدیق ہوئی کہ سیجی ٹیرئیس اے وارم ہول کے کنارے پر واقع ایک بلیک ہول ہے، جس کی اپنی بہت طاقتور ریڈی ایشن خارج کرنے والی ایکریشن ڈسک ہے اور یہ زمان و مکاں کے لیےایک سرنگ کا کام دیتا ہے۔ملکی وے میں جس طرح بلیک ہول کی موجودگی کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ اگر یہاں کبھی ایک وائٹ ہول بھی دریافت ہوجائے تو شاید اس سے ماہرین ِ فلکیات کو ایک کائنات سے دوسری کائنات میں جانے کا راستہ بھی مل جائے گا۔ ٹائم ٹریول یا وقت کا سفر جو اَب تک سائنس فکشن کا پسندیدہ موضوع رہا ہے ۔اس نظریے سے حقیقت میں ڈھالا جا سکتا ہے ، مگر یہ سب شاید اتنا آسان نہیں ۔اس کے لیےہماری کہکشاں کے عین مرکز پر عمل پزیر ایک کئی سمتوں سے عمل کرنے والی فورس کی ضرورت ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ شاید اسی کے ذریعے ہماری ملکی وے گلیکسی ،دیگر تمام کہکشائیں اور یہ کائنات اپنا توازن برقرار رکھے ہوئے ہیں ۔

سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے مزید
ٹیکنالوجی سے مزید