آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 14؍ربیع الثانی 1441ھ 12؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

باغبانی کے جسمانی اور ذہنی صحت پر اثرات

ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ باغبانی، تھراپی کے اثرات رکھتی ہے۔ یہ ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میںگارڈننگ ایکسرسائز پر زور دیا جاتا ہے اور باغبانی کے ذہنی و جسمانی صحت پر پڑنے والے مثبت اثرات سے متعلق لوگوں میں شعور اُجاگر کیا جاتا ہےتاکہ وہ اس مشغلے کو اپناکر صحت میں بہتری لائیں۔

ماہرین کے مطابق، باغبانی ایک بہترین ورزش ہے، جس میں تمام ’مسلز گروپس‘ استعمال ہوتے ہیں۔ مزید برآں، باغبانی کی محنت طلب سرگرمیاں جیسے گھاس کاٹنا اور کھدائی کرنا، نہ صرف انتہائی ایروبِک سرگرمیاں سمجھی ہوتی ہیں، بلکہ ان سے پٹھے بھی مضبوط ہوتے ہیں۔

باغبانی کا دورانیہ

ماہرین ایک صحت مند زندگی گزارنے کے لیے روزانہ 10ہزارقدم برق رفتاری کے ساتھ چلنایادوڑنا ضروری قرار دیتے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 10ہزارقدم تقریباً 5میل بنتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ 5میل چل یا دوڑنہیں سکتے تو آپ کے پاس دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ روزانہ خود کو 60منٹ تک باغبانی کی مختلف سرگرمیوں میں مصروف رکھیں، جس کے فوائد 5میل تک دوڑنے کے برابر ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ایک گھنٹے کی باغبانی آپ کی 300کیلوریز جلانے کے لیے کافی رہتی ہے۔

آپ کو اس بات کا علم یقیناً ہوگا کہ مختلف ورزشوں کے مختلف فوائد ہوتے ہیں۔ مثلاً: اگر آپ اپنے بازؤں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس کی اپنی ایک مخصوص ورزش ہوتی ہے، اس طرح اگر آپ اپنی ٹانگوں کے پٹھوں کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں تو اس کی اپنی مخصوص ورزش کرنا ہوگی۔ اسی طرح ذہنی صحت کے لیے اکثر یوگا یا مراقبہ تجویز کیا جاتا ہے۔ ایسے میں باغبانی کا ایک حیران کن مثبت پہلو یہ ہے کہ یہ ایک ’یونیورسل ایکسرسائز‘ ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ باغبانی کی ورزش سے آپ کے جسم کے ہر حصے اور یہاں تک کہ دماغی صحت پر بھی یکساں اثرات اور فوائد دیکھے جاتے ہیں۔

باغبانی کی سرگرمی یا ورزش ہماری مجموعی جسمانی اور ذہنی صحت پر کس طرح مثبت انداز میں اثرانداز ہوتی ہے، آئیے جانتے ہیں۔

ذہنی صحت پر اثرات

کہتے ہیں کہ اگر آپ ذہنی سکون اور اطمینان چاہتے ہیں تو خود کو مشینی ماحول سے دور اور فطری ماحول کے قریب لے جائیں۔ درخت، پودے اور سب سے بڑھ کر زمین، یہ ساری چیزیں ہمیں فطرت سے جوڑتی ہیں اور باغبانی کی محض ایک یہی خوبی ہماری ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ مزید برآں، جب آپ دھوپ میں وقت گزارتے ہیں (یاد رکھیں دھوپ میں اپنی جلد کی حفاظت کے لیے سن اسکرین استعمال کرنا نہ بھولیں) تو یہ آپ کے موڈ کو ریگولیٹ کرتی ہے اور آپ کو مفت میں وٹامن ڈی بھی حاصل ہوتا ہے۔ ٹریڈ مِل پر دوڑنے سے آپ فطرت کے قریب نہیں ہوتے، تاہم باغبانی آپ کو فطرت کے قریب رہنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

توجہ مرتکز کرنے کی خصوصیت

باغبانی کا ایک اور فائدہ بھی ہے، یہ آپ کو بِلاکوشش ایک کام پر توجہ مرتکز کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس خصوصیت کے ذہنی صحت پر مثبت اثرات ثابت شدہ ہیں۔ درحقیقت، ہمارے روز مرہ میں ایسی کئی سرگرمیاں شامل ہوچکی ہیں، جن پر توجہ مرتکز کرنے کے لیے ہمیں کوشش کرنی پڑتی ہے اور اس پر ہماری اضافی ذہنی توانائیاں خرچ ہوتی ہیں، جیسے اسمارٹ فونز، انٹرنیٹ اور دیگر الیکٹرانک گیجٹس کا استعمال۔ جب ہماری بلاکوشش توجہ مرتکز کرنے کی خصوصیت کم یا ختم ہوجاتی ہے تو ہمارے مزاج میں تناؤ اور کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے اور سوچنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ باغبانی ہمیں فطری ماحول فراہم کرتے ہوئے ہمیں فطرت کے قریب لے جاتی ہےجو ہمارے اندر بلاکوشش توجہ مرتکز کرنے کی خصوصیت پیدا کرتا ہے۔ دماغ کی یہ کیفیت ہماری ذہنی توانائی کو پھر سے تازہ کردیتی ہے۔

جسمانی صحت پر اثرات

امریکن ہارٹی کلچرل تھراپی ایسوسی ایشن کے مطابق، باغبانی ایک آئیڈیل ورزش ہے، کیونکہ اس سے تین طرح کی فٹنس حاصل ہوتی ہے: طاقت، برداشت اور لچک۔ جھک کر گھاس کاٹنے یا کسی بالائی چیز تک پہنچنے سے جسم میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ کھدائی کرنے یا باغبانی کا سامان اُٹھانے سے جسمانی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور اگر آپ ایک دن بھی اپنے باغیچے میں گزار چکے ہیں تو آپ کو بخوبی اندازہ ہوگا کہ باغبانی آپ کی قوتِ برداشت میں کس قدر حیران کن اضافے کا باعث بنتی ہے۔ یقیناً، یہ ایک اچھی خبر ہے۔ لیکن اچھی خبر یہیں تک محدود نہیں۔

باغبانی کے مقامات

اگر آپ کے گھر میں باغیچہ نہیں ہے تو بھی فکر کی کوئی بات نہیں۔ آپ اپنے اپارٹمنٹ کی بالکونی یا گھر کے صحن میں بھی سبزیاں، پودےاور پھول اُگا سکتے ہیں۔ اگر اور کچھ نہیں تو آپ اپنے گھر میں اِن ڈورپلانٹس بھی لگا سکتے ہیں۔

بچوں کے لیے بہترین مشغلہ

اگر آپ کے بچے ہیں تو اس وقت وہ یقیناً موسم گرما کی چھٹیوں سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے۔ تاہم، ان کی موسم گرما کی چھٹیوں کو بے کار مت جانے دیں، اگر وہ کوئی سمر کیمپ جوائن نہیں کررہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ آپ انھیں گھر پر کوئی ’سمر گارڈننگ پروجیکٹ‘ کرنے کو دیں۔ بچوں کی یہی عمر ہوتی ہے، جس دوران آپ ان میں ایسی صحت مند عادتیں اور ہنر پیدا کرسکتے ہیں، جو زندگی بھر ان کے کام آسکیں۔ تو اس موسم گرما اسمارٹ فونز کو خیرباد کہیں اور اپنے بچوں کو فطرت کے قریب کرتے ہوئے انھیں کھرپی پکڑائیں اور مٹی میں تھوڑا گندا ہونے دیں۔

تو قارئین، باغبانی کی ورزش کو گلے لگائیں اور یاد رہے لیف بلوؤر (Leaf Blower)، گیس پاورڈ ٹرنر (Gas Powered Turner) اور گھاس کاٹنے والی مشین کا استعمال ممنوع ہے اور کوشش کریں کہ آج کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان گارڈننگ گیجٹس کا استعمال ترک کردیں کیونکہ باغبانی سے بہتر کوئی ورزش نہیں۔

صحت سے مزید