آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’کمر درد‘‘ وجوہات، احتیاط، تشخیص اور علاج

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے 84فی صد امکانات ہیں کہ آپ زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر کمر کے درد کا شکار ہوجائیں۔ کمر کا درد عموماً ریڑھ کی ہڈی، اس کے پٹھوں اور نسیجوں کے تناؤ یا کھچاؤ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ درد نہایت سنگین صورت بھی اختیار کر سکتا ہے اورسرطان یا ریڑھ کی ہڈی سے متعلق ایسے مسائل کا مؤجب بن سکتا ہے، جو اعصابی بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، دنیا بھر میں لوگوں کو معذور بنانے کی ایک اہم وجہ کمر درد بھی ہے۔

خوش قسمتی سے، آپ کمر درد سے چھٹکارا حاصل کرنے یا اس میں کمی کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ اگر احتیاط سے صورتِ حال میں بہتری نہ آئے تو گھریلو ٹوٹکوں اور ورزش کے ذریعے آپ چند ہفتوں میں دوبارہ فعال بن سکتے ہیں۔ کمر درد جب بہت بڑھ جاتا ہے تو مریض کی حالت کو دیکھتے ہوئے سرجری بھی کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کیا جائے؟

کمر میں درد ہونے کی صورت میں آپ کو ڈاکٹر سے فوری طور پر رجوع کرنا چاہیے۔ بالخصوص اگر آپ کو آنتوں یا مثانے میں مسائل پیدا ہوجائیں، کمر درد کے ساتھ بخار ہوجائے، زخم ہوجائے یا درد ٹانگوں تک خصوصاً گھٹنوں کے نیچے پنڈلیوں تک جائے، ٹانگوں میں کمزوری محسوس ہو یا سُن ہونے لگیں، اور آپ کا وزن کم ہونے لگے۔

کمر درد کی وجوہات

دو طرح کے کمر درد ہوسکتے ہیں، عارضی اور دائمی۔ عارضی کمر درد اچانک اور شدید ہوتا ہے، جو گِرنے یا کوئی بھاری چیز اُٹھانے سے ہوجاتا ہے اور یہ چھ ہفتے سے زیادہ نہیں رہتا۔ چھ مہینے سے زیادہ برقرار رہنے والا کمردرد دائمی سمجھا جاتا ہے اور وہ اتنا عام نہیں ہوتا۔

رِسک فیکٹرز

کسی بھی شخص کو عمر کے کسی بھی حصے میں کمردرد کی شکایت ہوسکتی ہے، یہاں تک کہ بچپن اور ٹین ایج میں بھی کمردرد کی شکایت ہوجاتی ہے۔ تاہم درج ذیل عوامل کمر درد کی شکایت پیدا ہونے میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

عمر:بڑھتی عمر خصوصاً 30سال کی عمر کے بعد کمردرد کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ورزش کی کمی: آپ کی پیٹھ اور پیٹ کے کمزور پٹھے کمر درد کی وجہ بن سکتے ہیں۔

زائد وزن: جسم کا اضافی وزن آپ کی کمر پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔

بیماریاں: گٹھیا کی بیماری کی کچھ اقسام یا کینسر، کمر درد کا باعث بن سکتے ہیں۔

وزن غلط طریقے سے اُٹھانا: بھاری وزن اُٹھاتے وقت ٹانگوں کے بجائے کمر پر وزن ڈالنا۔ اس کے علاوہ بیٹھنے کے بجائے جُھک کر وزن اُٹھانا۔

نفسیاتی صور تحال: ڈپریشن اور انزائٹی میں مبتلا افراد کو کمردرد کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

تمباکونوشی: تمباکونوشی کے باعث ریڑھ کی ہڈی کے نچلے حصےتک خون کے پہنچنے کی رفتار سست پڑجاتی ہے، جس کے نتیجے میں نچلے حصے کے مہروں کو مناسب غذائیت نہیں پہنچ پاتی۔ تمباکونوشی کے باعث شفایاب ہونے یا زخم ٹھیک ہونے کی رفتار سست پڑجاتی ہے۔

احتیاطی تدابیر

آپ اپنی جسمانی حالت میں بہتری اور درست جسمانی میکانیات (Body Mechanics) پر عمل پیرا ہوکر کمردرد سے چھٹکارا یا اس کے باربار ہونے کو روک سکتے ہیں۔ اپنی کمر کو صحت مند اور مضبوط رکھنے کے لیے آپ ذیل میں درج عمل کرسکتے ہیں۔

ورزش: ایسی ایروبک سرگرمیاں کریں، جو آپ کی کمر پر وزن یا دباؤ نہ ڈالیں، آپ کی کمر کی طاقت اور قوتِ برداشت میں اضافہ کریں اور ان میں آپ کے پٹھے بہتر طور پر کام کرسکیں۔ چہل قدمی یا سوئمنگ کرنا بھی اچھا انتخاب ہوسکتا ہے۔

پٹھوں کی مضبوطی اور لچک: پیٹ اور پیٹھ کے پٹھوں کی ورزشیں کریں، جن سے کولہوں اور ٹانگ کے اوپری حصے میں لچک پیدا ہو، تاکہ آپ کی کمرکو آرام محسوس ہو۔ ڈاکٹر یا فزیو تھراپسٹ اس سلسلے میں آپ کی بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں کہ آپ کے لیے کون سی ورزشیں بہتر رہیں گی۔

وزن کی صحت مند سطح : وزن کا زیادہ ہونا کمر کے پٹھوں کا تناؤ بڑھا دیتا ہے۔ اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو اس میں کمی لاکر آپ کمر کے درد میں بہتری محسوس کرسکتے ہیں۔

تمباکونوشی چھوڑدیں: تمباکونوشی سے جان چھڑاکر بھی آپ کمر درد میں کمی لاسکتے ہیں۔

جسم سیدھا رکھیں: جھکیں مت، ریڑھ کی ہڈی کو سیدھا رکھیں۔ جسم کو دُرست پوزیشن پر رکھ کر آپ کمردرد کی شدت میں کمی لاسکتے ہیں۔ بیٹھتے وقت اپنے کولہوں اور گھٹنوں کو ایک ہی سطح پر رکھیں اور کم از کم ہر آدھے گھنٹے بعد اپنی پوزیشن بدلیں۔

وزن اُٹھانے میں احتیاط: بھاری وزن اُٹھانے سے پرہیز کریں اور اگر کبھی وزن اُٹھانا پڑے تو اپنی ٹانگوں کا استعمال کریں۔ اپنی پیٹھ کو سیدھا رکھیں، صرف اپنے گھٹنوں کو موڑیں اور وزن کو اپنے جسم کے قریب رکھیں۔

تشخیص

ڈاکٹر آپ کی کمر کا جائزہ لینے کے بعد آپ کے بیٹھنے، کھڑا ہونے، چلنے پھرنے اور ٹانگوں کو حرکت دینے کی صلاحیت کا اندازہ کرے گا۔ معالج آپ کو اپنے کمر درد کو 1سے 10 کے اسکیل پر ریٹ کرنے کا بھی کہہ سکتا ہے۔ اس کے بعد اس کا دوسرا سوال یہ ہوسکتا ہے کہ اس درد کے ساتھ آپ کتنا کچھ کرپاتے ہیں۔ اس طرح ڈاکٹر اندازہ لگاپائے گا کہ آپ کے کمردرد کی کیا وجوہات ہیں اور کیا آپ پٹھوں کے کھچاؤ کا شکار ہیں۔

اس جائزے کی بنیاد پر، ڈاکٹر مخصوص وجوہات جانچنے کے لیے آپ کو کچھ ٹیسٹ کروانے کے لیے کہہ سکتا ہے، جن میں ایکسرے، ایم آر آئی یا سی ٹی اسکین، بلڈ ٹیسٹ (انفیکشن )، بون اسکین (اوسٹوپوروسس یا ہڈی میں پچکاؤ کا پتہ لگانے کیلئے) شامل ہیں۔ ڈاکٹر آپ کو ’نَرو اسٹڈیز‘کا بھی مشورہ دے سکتا ہے۔ اس کیلئے ’الیکٹرومایوگرافی‘ (EMG)ٹیسٹ ہوتا ہے، جو اعصاب سے پیدا ہونے والی برقی تحریک اور آپ کے پٹھوں کے ردِ عمل کو جانچنے کا کام کرتا ہے۔

علاج

آپ کے کمردرد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر آپ کو اوور دی کاؤنٹر (OTC) درد کش ، سوزش کش اور Nonsteroidal ادویات تجویز کرسکتا ہے۔عمومی ادویات سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے پر ڈاکٹر ساتھ میں Muscle relaxant، اوپر سے لگانے والی کریمیں اور اِسکن آئنٹمنٹ تجویز کرسکتا ہے۔ دائمی درد کی صورت میں ڈاکٹر ، کمر کے قریب کسی حصے میں سوزش کش خصوصیات کا حامل انجکشن لگاسکتا ہے، جس سے چند ماہ تک آپ کو آرام مل سکتا ہے۔

صحت سے مزید