آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار10؍ ربیع الثانی 1441ھ 8؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کیا مصنوعی ذہانت انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے؟

کیا آج کے زمانے میں کوئی کیلکیولیٹر کو اپنی نوکری کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے؟ تاہم جس زمانے کیلکیولیٹر متعارف کروانےکی تیاری کی جارہی تھی، بہت سارے ریاضی دان اس جادوئی آلے سے پریشان تھے۔ اب یہ ہر جگہ دستیاب ہے اور اسے کوئی اپنی نوکری کے لیے خطرہ نہیں سمجھتا۔

آج مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے حوالے سے گلوبل جابز مارکیٹ میںاسی طرح کی ایک گرما گرم بحث جاری ہے:

’کیا مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ، مستقبل میں انسانوں کی جگہ لے سکتی ہے؟‘

اعدادوشمار بتاتے ہیں ہے کہ عالمی رائے عامہ میں، مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں ہونے والی ترقی اور پیش رفت کو تعلیم کی سطح، اُجرت، تکنیکی مہارت اور یہاں تک کہ صنف سے براہِ راست جوڑا جارہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پالیسی ساز، ٹیکنالوجی کے میدان میں رونما ہونے والی برق رفتار تبدیلیوں کا مقابلہ کرنیکی کوشش کررہے ہیں، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی بھی زمینی حقائق کو مدِنظر نہیں رکھ رہا۔ کچھ مزدور، کارکن اور افرادی قوت ایک ایسے تیزی سے قریب آتےمستقبل سے خوفزدہ دِکھائی دیتے ہیں، جہاں انھیں لگتا ہے کہ ان کیلئے کوئی کام نہیں ہوگا۔

تاہم افرادی قوت کی منڈیوں میں پائی جانے والی بے چینی اور خدشات کے برعکس، ماہرین سمجھتے ہیں کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

اسی نوعیت کی تشویش کا اظہار 250سال پہلے اس وقت بھی کیا گیا تھا، جب دنیا پہلے صنعتی انقلاب میں داخل ہورہی تھی۔ 20ویں صدی میں داخل ہونے کے بعد ان کی تشویش کی شدت میں اور بھی اضافہ ہوا۔ تاہم بعد میں ان کے خدشات غلط ثابت ہوئے اور اس کے برعکس ٹیکنالوجی کے باعث انسان تیز تر ترقی کرتا چلا گیا۔

جہاں تک ممکن ہے خود ضرب کریں

کیا آج کے زمانے میں کوئی رضاکارانہ طور پر خود سے تھکا دینے والی ریاضی کی کیلکیولیشنز کرنا پسند کرتا ہے؟ اسی طرح مصنوعی ذہانت (AI)کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ نچلی سطح کے کام، جو مسلسل ایک ہی انداز میں انسان کررہے ہوتے ہیں، وہ مشینوں کو کرنے کی تربیت دے دی جائے، جس سے کام میں مستعدی آئے گی اور مزدور بہتر اور زیادہ پیداواری کام کرنے پر توجہ مرکوز کر سکیں گے۔

بڑھتی کھپت کو پورا کرنے کے لیے کیلی فورنیا میں، انگور چُننے والوں کو عمومی اوقات سے بڑھ کر کام کرنا پڑتا ہے۔ مالکان نے اس مسئلے کا حل ٹیکنالوجی کے استعمال کی صورت میں نکالا۔ اب کیلی فورنیا میں انگوروں کا معائنہ اور اس کے بعد چنائی، خود کار نظام کے تحت مشینیں کرتی ہیں۔ اس طرح اب ان مزدوروں کو عمومی اوقات کار سے زیادہ اور رات کی شفٹوں میں کام نہیں کرنا پڑتا اور مزدور اپنا فاضل وقت خطے کی اُبھرتی ہوئی سیاحت کی صنعت کے زیادہ بہتر کاموں میں خرچ کرتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ کیلی فورنیا کے متذکرہ خطے میں آٹومیشن میں تین گنا اضافہ ہوچکا ہے، لیکن ساتھ ہی گزشتہ ایک عشرے کے دوران وہاں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے۔

اسی طرح سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی سائبر سیکیورٹی انالسٹ اپنا پورا وقت چھوٹے اور معمولی کاموں میں خرچ کرتے ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ سائبر سیکیورٹی پروفیشنلزجدید فارنزک علم حاصل کرنے پر توجہ دیں، جو انھیں سائبر حملوں کا قبل از وقت تجزیہ کرنے اور مؤثر جوابی کارروائی (حملہ روکنا) کے لیے بہتر طور پر تیار کرسکے۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وقت کے ساتھ سائبر حملوں کی شدت، پیچیدگی اورفریکونسی میں اضافہ ہوتاجارہا ہے۔

کامیابی کی کنجی انسانوں کے پاس ہے

کیا آپ کبھی ایسے ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے کا تصور کرسکتے ہیں، جہاں ہر کام کیلکیولیٹر کرتے ہوں؟ نہیں! کامیابی کی کنجی اب بھی انسانوں کے پاس ہے۔ مصنوعی ذہانت تبدیلی پر اثرانداز ہوتی اور افراد کو ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید بااختیار بناتی ہے۔

کوشش اور کامیابی کو تقسیم مت کریں

اجتماعی علم کا حصول ٹیم لرننگ کے مقصد کو آگے بڑھاتا ہے۔ آج کی انتہائی مسابقتی دنیا میں مؤثرکارکردگی کے لیے اشتراک کرنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم بن گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے قلیل وقت میں مؤثر ابلاغ اور ٹیم ورک کے ذریعے مطلوبہ یا مطلوبہ سے بہتر نتائج حاصل کرنا ممکن ہے۔

’بائیر-سیلر مارکیٹ پلیس‘میں مصنوعی ذہانت پر چلنے والے سسٹمز، فیڈبیک کے ذریعے مسلسل سیکھنے اور خود کو بہتر کرنے کے عمل سے گزرتے ہیں۔ اس طرح وہ وقت گزرنے کے ساتھ خریدار کی ترجیحات کا بہتر طور پر اندازہ کرسکتے ہیں۔

جدت میں ہی انسانیت کا مستقبل ہے

کاغذ اور قلم سے کیلکیولیٹر اور پھر اسپریڈ شیٹ کی جدت نے ریاضی دان کی ضرورت کو کم نہیں کیا بلکہ اس جدت نے ریاضی دان کی قدر کو اور بڑھا دیا ہے۔ جیسے جیسے جدید انالیٹکس انجن ترقی کرتے جائیں گے، ریاضی دان کی قدر و قیمت میں بھی مزید اضافہ ہوتا جائے گا کیونکہ بہرحال، جدید ایپلی کیشنز اور ان کی تشریح (انٹرپریٹیشن) انسان ہی کرسکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی جدت کے نتیجے میں مارکیٹ ڈیمانڈ میں غیرمتوقع اور اَن دیکھے طریقوں سے زبردست اضافہ ہوا ہے، حد تو یہ ہے کہ گزشتہ 10سال میںآنے والی جدت کے نتیجے میں اب کیلکیولیٹر کا بطور انفرادی ڈیوائس استعمال کم ہوتاجارہا ہے۔ اب کئی لوگ کیلکیولیٹر کا کام اپنے اسمارٹ فون یا اسپریڈشیٹ سے لیتے ہیں۔ ممکن ہے آنے والے 10برسوں میں مصنوعی ذہانت، افرادی قوت اور ورک پلیس کو وہاں لے جائے، جس کے بارے میں ہم آج صرف خواب دیکھ سکتے ہیں۔

تعلیم سے مزید