آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

آرتھر کومزید وقت دینا غلط، پاکستان کرکٹ ٹیم کی ضرورت غیرمعروف کوچ، بازیدخان

  بر منگھم(نمائندہ خصوصی)سابق ٹیسٹ بیٹسمین اور مشہور کرکٹ مبصر بازید خان کا کہنا ہے کہ مکی آرتھر کو کوچنگ سے فارغ کرکے نئے وژن والے لوپروفائل کوچ کا تقرر کیا جائے۔ پاکستان کرکٹ مزید کسی ایسے کوچ کی متحمل نہیں ہوسکتی جوبڑے نام والا ہو اور کسی کو جو اب دے بھی نہ ہو اور وقت پڑنے پرکسی اور اسائنمنٹ کے پیچھے بھاگ جائے۔ ورلڈ کپ کے بعد ایسی تبدیلی لائے جائے جو ہوا کا تازہ جھونکا ثابت ہو، اب نئی تبدیلی ناگزیر ہے۔ محسوس ہورہا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے مجوزہ ڈھانچہ بنانے کیلئے کسی نے ریسرچ نہیں کی، مجھے نئے نظام پر کچھ تحفظات ہیں، پاکستان کی آبادی کے حساب سے چھ ٹیمیں کم ہیں، آسٹریلیا کے لیے چھ ٹیمیں ٹھیک ہیں۔ ہمیں دنیا کے دیگر ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں کے ہم پلہ آنا پڑے گا۔ بازید بڑے کرکٹ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے دادا ڈاکٹر جہانگیر خان، ماموں جاوید برکی اور چچا عمران خان (پاکستان کے موجودہ وزیراعظم) نے ٹیسٹ کرکٹ کھیلی جبکہ بہنوئی بابر زمان فرسٹ کلاس کرکٹر رہ چکے ہیں۔ وہ جنگ کو

انٹر ویو دے رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ لو پروفائل کوچ ہی پاکستان کرکٹ کی ضرورت ہے، پشاور زلمی کے عبدالرحمن یا ان کی طرح کے کوچز لائے جائیں۔ جو پی سی بی اور میڈیا کو جوابدہ ہو اور جسے نوکری جانے کی فکر ہو، جس کا پیٹ بھرا ہوا ہے وہ زیادہ کھائے گا تو بدہضمی ہو جائے گی۔ لو پروفائل کوچز جوابدہ ہوں گے، نوکریاں جانے سے انہیں فرق پڑے گا جب کہ بڑے کوچز کو فوری دوسری نوکری مل جاتی ہے۔ غیر معروف کوچ میڈیا کو بھی جوابدہ ہو گا اور بورڈ بھی ایسے شخص کو احتساب کے لیے سامنے لائے گا۔ ورلڈ کپ کے بعد اب مکی آرتھر کو مزید چانس دینا درست نہیں ہے، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مکی آرتھر اگلے سال میں ٹیم کو کھڑا کر دے گا تو یہ درست نہیں ہے، آرتھر کے دور میں ٹیسٹ اور ون ڈے ٹیم مشکلات سے دوچار رہی۔ اگلے چار سال کی پلاننگ ورلڈ کپ 2023 کو سامنے رکھ کر کی جائے۔ حسن علی، شاداب خان اور فخر زمان نے پاکستان کو آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی جتوائی لیکن گزشتہ دو سال سے ان تینوں کی کارکردگی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے، ڈپارٹمنٹس نے کھلاڑیوں کو مالی آسائش فراہم کی لیکن یہ نظام 1947 سے کمزور ہے ہم ہر ورلڈ کپ کے بعد سوچتے ہیں کہ تبدیلی آئے گی لیکن بظاہر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ہم نے چار سال ورلڈ کپ کی تیاری کی اور ورلڈکپ سے قبل آسٹریلیا، جنوبی افریقا اور انگلینڈ سے ون ڈے سیریز ہار گئے۔ ٹیم کی حکمت عملی کا حال یہ ہے کہ ورلڈکپ میں ویسٹ انڈیز، بھارت اور آسٹریلیا سے ہار کر ہم نے اپنا وننگ کمبی نیشن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کا ڈومیسٹک کرکٹ کا ڈھانچہ بہت مضبوط ہے، یہ درست ہے کہ پاکستان کرکٹ کے موجودہ ڈھانچے سے بڑے بڑے کھلاڑی آئے لیکن اب اس ڈھانچے میں تبدیلی ناگزیر ہو گئی ہے، فرسٹ کلاس کرکٹ میں پیسہ لگانے کی ضرورت ہے۔ 

اسپورٹس سے مزید