• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علّامہ اقبالؒ، سنجیدہ اور متین ہونے کے باوجود بڑے بذلہ سنج اور خوش طبع شخصیت کے مالک تھے۔ گفتگو خواہ کسی بھی قِسم کی ہوتی،وہ اس میں کہیں نہ کہیں مزاح کا پہلو ضرور ڈھونڈ لیتے۔ مہذّب اور شائستہ لطائف کی قدرکرتےاورخود بھی لطائف سناکر یا مزاح سے بھرپورباتیں کرکے دوست احباب کو پہروں ہنساتے رہتے۔ بعض اوقات تو اپنی مزاحیہ گفتگو کے ذریعے سنجیدہ ترین مسائل بھی حل کر دیتے ۔ ایک جگہ شاعرِ مشرق نےخود فرمایا؎ ہر حال میں میرا دلِ بے قید ہے خرّ م…کیا چھینے گا غنچے سے کوئی ذوقِ شکرخند۔ذیل میں چند واقعات پیش کیے جا رہے ہیں، جن سےعلّامہ اقبال کی حسِ مزاح کی عکّاسی ہوتی ہے۔

لطیف مزاح: گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میک لیگن نے ایک مرتبہ علّامہ اقبال سےدریافت کیا ’’ آپ کے خیال میں کوئی ایسا موزوں شخص ہے، جسے ’’شمس العلماء‘‘ کے خطاب سے نوازا جا سکے؟‘‘ علّامہ نے جواب میں کہا ’’ مولوی میر حسن، پروفیسر مَرے کالج، سیالکوٹ اس خطاب کے لیے مناسب شخصیت ہیں۔‘‘گورنر نے کہا مَیں نے ان کا نام پہلی دفعہ سُنا ہے۔ ’’کیا انہوں نے کوئی کتاب بھی تصنیف کی ہے؟‘‘ جواب میں علّامہ اقبال نے کہا ’’انہوں نے کوئی کتاب تو نہیں لکھی، البتہ ان کی ایک زندہ تصنیف ضرور موجود ہے۔‘‘ گورنر نے قدرے حیران ہو کر پوچھا ’’وہ کون؟‘‘ مَیں ان کی زندہ تصنیف ہوں، وہ میرے استادِ محترم ہیں۔‘‘علّامہ اقبال نے جواب دیا۔ گورنر ان کے جواب سے بہت محظوظ ہوا اور ایک سادہ سی تقریب میں مولوی صاحب کے لیے شمس العلماء کا خطاب تجویز کر دیا گیا۔

افطاری کے لیے سامان:ماہِ رمضان میں ایک مرتبہ پروفیسر حمید احمد خان، پروفیسر عبدالواحداورڈاکٹر سعید اللہ، علّامہ اقبال کے گھر حاضر ہوئے، کچھ دیر بعد مدیرِ انقلاب، مولانا غلام رسول مہر اورعبدالمجید سالک بھی تشریف لے آئے۔ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی، یہاں تک کہ افطاری کا وقت ہوگیا۔ علّامہ اقبال نے اپنے ایک ملازم، رحما کو بلایا اور کہا ’’افطاری کے لیے سنگترے، کھجوریں، کچھ نمکین اور میٹھی چیزیں، جو کچھ ہوسکے ،سب لے آئو‘‘۔ سالک صاحب نے عرض کیا ’’ اتنا سامان منگوانے کی کیا ضرورت ہے؟ کھجوریںہی کافی ہیں۔‘‘ علّامہ اقبال نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ’’سب کچھ کہہ کر ذرا رعب تو جما نےدیں، کچھ نہ کچھ تو لے ہی آئے گا۔‘‘

بندہ ٔشیطان: جن دنوں علّامہ اقبال کی بینائی کم زور ہوگئی تھی، نصراللہ خان، جو 1934ء -1938ء، روزنامہ زمین دار سے وابستہ رہ چکے تھے،آپ کو سوِل اینڈ ملٹری گزٹ پڑھ کر سناتے تھے۔ ایک روز نصراللہ خان اپنے ایک عزیز کے ساتھ(جو منکرِ خدا ہوکر دہریہ ہو چکے تھے) علّامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے ’’میرے یہ عزیز حلقۂ شیطان میں جاشامل ہوئے ہیں‘‘۔ آپ انہیں کچھ سمجھائیں۔ جواباً علّامہ نے ہنس کر فرمایا ’’جس کو اللہ نہ سمجھا سکا، اسے میں کیا سمجھا ؤں گا؟‘‘

غیر متوقع جواب: ایک مرتبہ علّامہ اقبال، مال کےایک مقدمے کی پیروی کے لیے ریاست پٹیالہ تشریف لے گئے۔اُن کا قیام علّامہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری کے ہاں تھا۔ دوسرے روز وزیر ِمال ،خزان سنگھ سوری اور علّامہ اقبال کا سامنا ہوا۔ بحث سننے کے لیے ریاست کے تمام وکلاء عدالت کے کمرےمیں جمع تھے۔ خزان سنگھ سوری کسی زمانے میں علّامہ اقبال ؒ کا کلاس فیلو رہ چکا تھا۔ دورانِ سماعت ، وزیر ِ ِمال نے وکلاء پر اپنی بڑائی جتانے کے لیے علّامہ اقبال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’’آپ میرے کلاس فیلو ہیں۔‘‘ علّامہ اقبال نے جواب دیا ’’جی ہاں، میں کلاس میں ذکی تھا اورآپ غبی۔‘‘ جواب اتنا برجستہ اور غیر متوقع تھا کہ سب وکلاء ہنس پڑے۔

لطیف طنز: خان نیاز الدّین خان، جالندھر کی بستی،دانش منداںکے رئیس اور علم و ادب سے شغف رکھنے والے بزرگ تھے۔ علّامہ اقبالؒاور ان میں ایک قدر ِمشترک یہ بھی تھی کہ دونوں اعلیٰ نسل کے کبوتروں کے شوقین تھے۔ خان صاحب علّامہ اقبال کو اکثر جالندھر سے اعلیٰ قسم کے کبوتر بھیجتے۔ کہتے ہیں کہ جانوروں اور پرندوں میں اپنے بچّوں سے محبّت اور ان کی پرورش کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خان صاحب نے جو کبوتر بھیجے تھے، اُن میں ایک جوڑا ایسا تھا،جو ان اوصاف سے بالکل عاری تھا، چناں چہ علّامہ نے انہیں ایک خط میں لکھا ’’آپ کے کبوتر بہت خوب ہیں، مگر افسوس کہ زمانۂ حال کی مغربی تہذیب سے متاثر معلوم ہوتے ہیں، مطلب یہ کہ بچّوں کی پرورش سے انتہائی بے زار ہیں۔‘‘

آموں کا موسم: اُردو زباں کے بلند پایہ شاعر مرزا غالب کی طرح علّامہ اقبال کو بھی آم بہت مرغوب تھے۔ موسم کے آغاز ہی سے خود بھی بازار سےآم منگواتے اور دوست احباب کوبھی بھیجتے رہتے۔ ایک دفعہ آموں کے موسم میں اکبر الہ آبادی نے علّامہ کو الٰہ آباد سے لنگڑا آم بھیجا۔ رسید دیتے وقت آپ نے درج ذیل شعر بہ طور شکریہ لکھ بھیجا ؎اثر یہ تیرے انفاس مسیحائی کا ہے اکبرؔ … الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک پہنچا۔

موٹر میں کتّے: فقیر سید وحیدالدّین کے ایک عزیز کو کتّے پالنے کا بہت شوق تھا۔ ایک دن فقیر صاحب اپنے ایک عزیز کی گاڑی میں علّامہ اقبال سے ملنے آئے،کتّے بھی گاڑی میں موجود تھے۔ خود تو وہ علّامہ کی خدمت میں جا بیٹھے، لیکن کتّےگاڑی ہی میں چھوڑ دئیے۔ کچھ دیر بعد علّامہ اقبال کی چھوٹی صاحب زادی منیرہ بھاگتی ہوئی آئیں اور کہنے لگیں ’’ابا جان، موٹر میں کتّےآئے ہیں‘‘۔ علّامہ اقبال نے فقیر وحیدالدّین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ’’نہیں بیٹی، یہ تو آدمی ہیں۔‘‘

ناقابلِ اشاعت نگارشات اور اُن کے قلم کار برائے صفحہ متفرق

٭بجلی سے متعلق دل چسپ معلومات،کتابیں،سانحۂ ساہی وال اور پولیس کا کردار، مارچ کا مہینہ پاکستانی عوام کے لیے کیوں اہم ہے؟،چلو چلو ھنگلاج چلو، شری مُرلی چند جی ،گوپی چندگھوکلیہ،شکار پور٭انتہا پسندی،نرجس مختار، خیر پور میرس٭حضورِ اکرم ﷺ اور مساواتِ انسانی، عبدالخالق نجمی،رائیونڈ،لاہور٭سرکاری سطح پرجشن ِمیلاد النبی ؐ،سارہ رحیم٭جنگل کا بادشاہ’’ببّر شیر‘‘،قدرتی ماحول میںآبادی کولاحق خطرات ،مرزا محمد رمضان ٭مدینہ منوّرہ میں اسلامی ریاست کاارتقاء،انعم وصی، کراچی٭ملیر کے لیڈروں پر ایک نظر،عبدالباسط قریش، ملیر، کراچی٭بجلی کا بُحران اور اُس کا حل،لمحۂ فکریہ پاکستان اور ہم،مہر منظور جونیئر، ساہی وال، سرگودھا٭ویلنٹائن ڈے،اسلامی معاشرےکے لیے ناسور،نئے فضلاءکرام کی ذمّے داریاں، محمدصدیق مدنی،چمن٭ظلم و بربریّت کے پہاڑاور جنگل کا قانون ،کشمیر ڈے،عائشہ طارق،لاہور٭آخر کیوں؟، اقصیٰ، مقام نہیں لکھا ٭جانور بھی عاقل اور جذباتی ہوتے ہیں، خواجہ تجمّل حسن، کراچی٭مملکتِ آصفیہ کے آخری تاج دار، اعلیٰ حضرت میر عثمان علی خاں،میر حسین علی امام، کراچی٭اِک طالب ِعلم کی حیثیت سے ملک میں ہمارا کردار،نمرہ وحید اعوان، کراچی٭کیڑا تو پھر کیڑا ہوتا ہے، خطیب احمد،مقام نہیں لکھا٭کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ،نوشاد انور،نارتھ ناظم آباد، کراچی٭موضوعات نہیں لکھے، زوبیہ اعوان، قائد آباد، کراچی٭مسئلۂ کشمیر اب نہیں تو کبھی حل نہیں ہوگا، میاں عبد الحمید خالد، اسلام آباد٭یہ کیسی بے یقینی ہے، اُمّ ِ سحرش، مقام نہیں لکھا٭قرآنی حقائق اور آثارِ قدیمہ،مدثّر اعجاز، لاہور٭ جب غالب ہم سے بچھڑے، سمیع اللہ شاہ، بنّوں٭علم ِ نجوم ، ایک معتبر روحانی علم، سیّد ابنِ مظفّر شیرازی، گرین ٹاؤن ،لاہور٭ہمارے مسیحا، نام نہیں لکھا، کورنگی، کراچی ٭اپریل فول، حمیرا حنیف، میر پور خاص ٭پاکستان اور عالمی برادری کا ضمیر،کیا امّتِ مسلمہ اور اجتماعی ضمیر کشمیر کے لیے کچھ کرے گا؟ نسرین خلیل، کراچی ٭عالمی دنوں کا لُنڈا بازار، امجد محمود چشتی ، میاں چنوں ٭شاعرِمشرق علامہ محمّد اقبالؒاپنے بڑے بیٹےآفتاب اقبال کی نظر میں ، اشفاق نیاز، سیال کوٹ ٭بقائے امن کے لیے سیاست کی بہ جائے مسائل کے تصفیے اور تدبّر و حکمت کی ضرورت ، خواجہ غریب نواز ؒ کے مشن کی افادیت اور اس کےعصری تقاضے، غلام مصطفیٰ رضوی، نوری مشن مالی گاؤں٭حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا جذبۂ خدمتِ خلق ،موجودہ دَو رکے حکمرانوں کے لیے مثالی نمونہ، کسبِ حلال کی فضیلت، محمد ریاض علیمی، نیو کراچی ٭کراچی میں تجاوزات کے خلاف کارروائی، بشیر سدّزوئی، مقام نہیں لکھا ٭ظہیر الدّین بابر کا یومِ پیدائش، مرزا ارسلان افتخار، ملتان ٭ٹی وی پر بے حیائی اور عُریانیت کا ناچ، مانگ رہی ہے آزادی، کشمیر کی وادی، بھیڑیں اور بھیڑئیے…بھیک اور بھوک ، راجہ شاہدرشید، مقام نہیں لکھا٭ ایوانِ وَفا…معاشرتی و ملکی اصلاح، اچھی حکومت کے لیے چند مثبت تجاویز، عِرفان رشید، سرگودھا٭نیا سال اور اسلامی معاشرہ، مومنہ سلیم،مقام نہیں لکھا٭ بہ طور ریاست نیوزی لینڈ اور وطنِ عزیز میں فرق، سیّد جعفر شاہ کا ظمی، مقام نہیں لکھا ٭اسمارٹ فون اور روحانیت، اسماء بنتِ محمّد اجمل، کراچی ٭ عزم و ہمّت کی زنجیر، یوم ِ یک جہتیٔ کشمیر، سلطان محمود شاہین، مقام نہیں لکھا ٭ایٹمی حملے کی صُورت میں اپنی جان کیسے بچائی جائے، زمّرد سلطانہ، وزیر آباد٭ اسرائیل سے سفارتی تعلقات، محمّد کاشف، کراچی٭میلہ بیساکھی ،بدلتے موسموں کا جشن ،عبداللہ نظامی، مقام نہیں لکھا۔

تازہ ترین