آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 16؍ذوالحجہ 1440ھ 18؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا یافتہ ٹیسٹ اوپنر شرجیل خان ڈھائی سالہ سزا ختم ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم میں واپسی کے لئے تیار ہیں۔

وہ اپنے جرم پر پشیمان ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ سے مکمل تعاون کے بعد دوبارہ اپنی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں، ڈھائی سال بائیں ہاتھ کے اوپنر کی زندگی کا مشکل ترین وقت رہا، لیکن وہ اپنے تلخ ماضی کو بھلا کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

اگلے چند دنوں میں شرجیل خان،پی سی بی کے اینٹی کرپشن یونٹ سے رابطہ کرکے ری ہیب پروگرام میں شرکت کریں گے،ری ہیب پروگرام کے لئے انہیں پبلک کے سامنے جا کر اپنے جرم کا اعتراف کرنا ہوگا اور معافی مانگنا ہوگی۔

2010  کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں سلمان بٹ،محمد عامر اور محمد آصف نے بھی معافی مانگتے ہوئے اپنے جرم کا اقرار کیا تھا۔

شرجیل خان پابندی کے باوجود حیدرآباد میں پرائیویٹ جگہ پر بولنگ مشین کے ذریعے بیٹنگ کر رہے ہیں اور دن رات اپنی فٹنس پر کام کر رہے ہیں، توقع ہے کہ ستمبر میں شروع ہونے والے فرسٹ کلاس سیزن میں شرجیل خان ری ہیب مکمل کرنے کے بعددوبارہ حصہ لیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈھائی سال کی پابندی کے دوران شرجیل خان نے شادی کر لی اور نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ دوبارہ پاکستان ٹیم میں جگہ بنانا چاہتے ہیں۔

شرجیل خان کی عدم موجودگی میں امام الحق اور فخر زمان پاکستان ٹیم کا مستقل حصہ بن گئے ہیں،لیکن شرجیل کی واپسی سے دونوں کے لئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شرجیل خان ان دنوں بہاولپور میں اپنے سسرال میں ہیں اور چند دن میں وہ لاہور جاکر پی سی بی حکام سے ملیں گے اور انہیں پیشکش کریں گے کہ وہ پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کے تحت ری ہیب پروگرام میں جانے کے لئے تیار ہیں۔

پی سی بی ترجمان سمیع الحسن نے جنگ کو بتایا کہ شرجیل خان کو سب سے پہلے اپنے جرم کا اعتراف کرنا ہوگا اور پھر ری ہیب پروگرام مکمل کرکے وہ دوبارہ قومی کرکٹ میں واپس آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چھ ماہ قبل شرجیل خان نے پی سی بی سے آخری بار رابطہ کیا تھا اور محمد عامر کے کیس کو بنیاد بناکر وہ چھ ماہ قبل کرکٹ کھیلنا چاہتے تھے، اس کے بعد شرجیل کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

آئی سی سی نے عامر کو کم عمری کا فائدہ دیا تھا۔

سمیع الحسن نے کہا کہ ری ہیب پروگرام چند ہفتوں کا ہوگا، شرجیل خان پابندی ختم ہونے کے چار دن بعد دس اگست کو تیس سال کے ہوجائیں گے، جارحانہ بیٹنگ کرنے والے شرجیل نے پاکستان کی جانب سے ایک ٹیسٹ، 25ون ڈے انٹر نیشنل اور 15ٹی ٹوئنٹی انٹر نیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔

اگست 2017 میں پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث کرکٹر شرجیل خان پر کرکٹ سے متعلق کسی بھی قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے پر پانچ سال کی پابندی عائد کر دی تھی۔ پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی کے مطابق شرجیل خان کو پانچ میں سے ڈھائی برس کی معطلی کی سزا لازماً کاٹنا ہو گی۔

اس ڈھائی برس کے عرصے میں اگر شرجیل کا رویہ اور سرگرمیاں مثبت رہیں تو بقیہ سزا معطل کی جا سکتی ہے۔ شرجیل خان کو دس فروری 2017کو معطل کیا گیا تھا۔

شرجیل خان پر یہ پابندی پاکستان کرکٹ بورڈ کے تین رکنی ٹریبونل نے پانچ ماہ کی کارروائی کے بعد عائد کی تھی،ٹریبونل  کے سربراہ جسٹس ( ریٹائرڈ ) اصغر حیدر تھے اور اس کے اراکین میں لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ) توقیر ضیا اور وسیم باری شامل تھے۔

شرجیل خان پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن ضابطہ اخلاق کی پانچ شقوں کی خلاف ورزی کا الزام تھا جن کا تعلق مشکوک افراد سے ملنے، اس بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو مطلع نہ کرنے اور مشکوک افراد کی خراب کارکردگی کے لیے پیشکش قبول کرنے سے تھا۔

شرجیل خان پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان سپر لیگ کے پہلے میچ میں مبینہ طور پر دو ڈاٹ گیندیں کھیلنے کی بک میکر کی پیشکش قبول کی اور اس پر عمل بھی کیا۔ پاکستان سپر لیگ ٹو میں  اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، جس میں متعدد پاکستانی کرکٹرز مبینہ طور پر ملوث پائے گئے تھے جن میں سے دو کرکٹرز شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔

یہ دونوں پاکستان سپر لیگ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ شرجیل خان اور خالد لطیف پر الزام تھا کہ انہوں نے مبینہ طور پر پاکستان سپر لیگ شروع ہونے سے پہلے دبئی میں مشکوک افراد سے ملاقات کی تھی، جہاں ان کے درمیان ایک ڈیل ہوئی تھی۔

اس ڈیل میں مبینہ بک میکر یوسف انور اور کرکٹر ناصرجمشید کے نام سامنے آئے تھے۔ اس کیس میں آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ سر رونی فلینیگن بھی پیش ہوئے تھے اور اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ اس پورے معاملے میں آئی سی سی نے برطانوی کرائم ایجنسی سے ملنے والی معلومات سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹھوس شواہد سےآگاہ کیا تھا، جن کی بنیاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ نے ان کرکٹرز کے خلاف کارروائی کی تھی۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید