آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لاہور(صابر شاہ)امریکا اگرچہ ان کچھ ممالک میں شامل ہے جنہوں نے قیام پاکستان کے بعد 20اکتوبر 1947کو پاکستان کیساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تاہم گزشتہ 7دہائیوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اتارچڑھائو آتے رہے۔’’ جنگ گروپ اور جیو ٹیلی ویژن نیٹ ورک ‘‘کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت انتہائی خراب ہیں اور عدم اعتماد کی فضا قائم ہے۔ تحقیق میں سامنے آیا ہےکہ پاکستان نے 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کے دورہ چین کیلئے اہم کردار اداکیا تھا جس کے بعدامریکا اور چین کےدرمیان کشیدہ تعلقات میں نرمی آئی۔1979میںامریکا نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالےسے تحفظات کا اظہارکیا۔ 1990 میں’’پریسلر ترمیم ‘‘ کے باعث اس وقت کے امریکی صدر کو کانگریس کے سامنے یہ یقین دہانی کروانی پڑی کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں، اس یقین دہانی نے ایک تہلکہ مچادیااورپھر امریکا پاکستان کی جانب سے 28مئی 1998میں کئےگئے جوہری حملے سے خوش نہیں ہوا اور پھر 1999میں مشرف کی جانب

سے نواز شریف کا تختہ الٹانے پر امریکا کچھ تھوڑا بہت خوش ہوا۔27 جنوری 2011 کو سی آئی اے کنٹریکٹر ریمنڈڈیوس کی جانب سے لاہور میں فائرنگ کے واقعے، 2 مئی 2011 کوایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف خفیہ آپریشن اور 26 نومبر 2011کو سلالہ چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئے اور پھر اسامہ کیخلاف امریکی آپریشن میں امریکا کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹرشکیل آفریدی کی رہائی کے حوالے سےایشوز بھی امریکا اور پاکستان کے درمیان اختلافات کی وجہ بنا۔مئی 2016میں امریکی کانگریس نے ایف 16طیاروں کیلئے فنڈز روک لیے ، اس سے ایک ہفتہ قبل پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیاتھا، مئی 2016 میں ہی پاکستان نے امریکا کے اس احمقانہ دعوے( کہ وہ پاکستان پر دبائو ڈال کر شکیل آفریدی کو رہا کروالیںگے) کی مذمت کی تھی، اس وقت ٹرمپ امریکی صدارتی امیدوار تھے۔

اہم خبریں سے مزید