آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ19؍ ذوالحجہ 1440ھ 21؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) ایم کیو ایم کے سابق مرکزی رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ شمائلہ نذر اور ان کے 2 بیٹے عالی شان اور وجدان انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور شمائلہ بے گھری کے خطرے سے بھی دوچار ہیں، کیونکہ ان کے فلیٹ کے مالک نے انھیں فلیٹ خالی کرنے کے نوٹس دے رکھے ہیں۔ شمائلہ فاروق نہ صرف شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں بلکہ وہ کئی ماہ سے مکان تلاش کررہی ہیں اور کوئی انھیں مکان کرائے پر دینے کو تیار نہیں ہے، نومبر2016میں جبڑا ٹوٹ جانے کے بعد ہسپتال میں داخل رہنے کے بعد سے وہ مکمل طورپر صحتیاب نہیں ہوسکی ہیں اور اب سہارے کے بغیر چل بھی نہیں سکتیں، 9 سال قبل شوہر کے قتل کے بعد ابھی تک کسی نے ان کی اور ان کے بیٹوں کی خیر خبر نہیں لی، اس وقت وہ ایک پزا شاپ اور میکانک کی ورک شاپ کے اوپر ایک چھوٹے سے بوسیدہ فلیٹ میں مقیم ہیں، اس کا ایک دروازہ ایک سڑک پر کھلتا ہے، جہاں اکثر منشیات فروش اور رات کو بے گھر افراد گھومتے رہتے ہیں۔ اس نمائندے نے حال ہی خبر دی تھی کہ شمائلہ فاروق صحت کے مسائل کی وجہ سے

تقریباً مفلوج ہوگئی ہیں اور اب ڈاکٹر ان کا معائنہ کرے گا تاکہ وہ رعایتی شرح پر دوائیں حاصل کرسکیں، میڈیکل سینٹر کے باہر ان کی اس نمائندے سے ملاقات ہوئی، وہ اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ بیساکھیوں کے سہارے چل رہی تھیں۔ انھوں نے شائستگی کے ساتھ سوالوں کے جواب دینے سے انکار کردیا لیکن ان کے چہرے کے تاثرات سیکڑوں کہانیاں سنا گئے، وہ بہت ہی کمزور، خوفزدہ، ٹوٹی پھوٹی اور بے یارومددگار نظر آرہی تھیں۔ گزشتہ 9 ماہ سے وہ ایک مناسب فلیٹ حاصل کرنے کیلئے مختلف اسٹیٹ ایجنٹس کے دفاتر کے چکر لگا چکی ہیں لیکن بے سود، ایک جگہ انھیں ساڑھے 4 ہزار پونڈ ڈپازٹ کرانے کیلئے کہا گیا لیکن وہ اس رقم کا انتظام نہیں کرسکیں جبکہ ان کے فلیٹ کا مالک انھیں فلیٹ خالی کرنے کیلئے 3 نوٹس دے چکا ہے۔ شمائلہ نذر اور ان کے بیٹوں کے اکائونٹ میں ایک پیسہ موجود نہیں ہے، شمائلہ نے بارنیٹ ایریا میں ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ سے نصف میل سے بھی کم فاصلے پر 2 اسٹیٹ ایجنٹس سے ملاقات کی لیکن چونکہ ان کے گھر کا کرایہ مقامی بارنیٹ کونسل ادا کرتی ہے اور اس پورے علاقے میں ایسا کوئی مکان نہیں ہے جو لوکل گورنمنٹ کی طرف سے انھیں ملنے والے کرائے کے مطابق ہو۔ لوکل کونسل نے تصدیق کی ہے کہ شمائلہ کو کونسل کی جانب سے ایک ہزار پونڈ دیئے جاتے ہیں، جس سے وہ فلیٹ کا کرایہ، خوراک اور یوٹیلٹی بلز ادا کرتی ہیں، ان کاکوئی دوسرا ذریعہ آمدنی نہیں ہے اور انھوں نے ایک دن کیلئے بھی کہیں ملازمت نہیں کی، کیونکہ ان کے بچوں کو لانے لے جانے والا اور کوئی نہیں ہے۔ ان کے بیٹے 14سالہ عالی شان اور 12 وجدان ایک سرکاری سکول میں 9 ویں اور 7 ویں جماعت میں زیر تعلیم ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ نے انھیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا، جہاں وہ 3 سال تک رہیں، موجودہ فلیٹ پر وہ گزشتہ 3 سال سے مقیم ہیں، لندن میں عمران فاروق کے قتل کے بعد ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے میڈیا کے سامنے آنسو بہاتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے بیٹوں کو پرائیویٹ سکول میں تعلیم دلائیں گے اور ان کی بیوہ کی تاحیات دیکھ بھال کریں گے۔ الطاف حسین نے کہا تھا کہ وہ عمران فاروق کی فیملی کی اسی طرح دیکھ بھال کریں گے، جس طرح وہ اپنی بیٹی فضا کی کر رہے ہیں۔ الطاف حسین نے اپنی تقریروں میں عمران فاروق کی بیوہ کو مکان خرید کر دینے کا بھی وعدہ کیا تھا لیکن اب ایم کیو ایم کے رہنما پراپرٹی کی ملکیت پر آپس میں دست وگریبان ہیں لیکن اپنے شوہر سے محروم کردی جانے والی بیوہ کوپوچھنے والا کوئی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شمائلہ فاروق نے ایم کیو ایم لندن کے رہنمائوں سے مدد کی اپیل کی تھی لیکن انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ ایم کیو ایم مالی مشکلات کا شکار ہے اور ان کو 2 کمروں کا فلیٹ خرید کر دینے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ انھیں بتایا گیا کہ پارٹی کو مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور وکلا کو فیس کی مد میں اور انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کی دیکھ بھال پر بھاری رقم خرچ ہو رہی ہےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ لندن میں ایم کیو ایم کی 8 قیمتی پراپرٹیز ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی انھیں 2 کمرے دیئے جاسکتے ہیں لیکن کسی بھی مرحلے پر نہ تو ایسا کیا گیا اور نہ ہی اس کی پیشکش کی گئی جبکہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنمائوں کی فیملیز ان پراپرٹیز میں مقیم ہیں اور ان سے لطف اندوز ہو رہی ہیں جبکہ دو پراپرٹیز کے حوالے سے الطاف حسین، محمد انوراور طارق میر کے ساتھ تنازع چل رہا ہے۔ خیال کیا جاتاہے کہ لندن میں ایم کیو ایم کی اور بھی پراپرٹیز ہیں، جن میں سے کوئی ان کے نام کی جاسکتی ہے یا اسے فروخت کرکے رقم انھیں دی جاسکتی ہے کہ وہ کہیں فلیٹ خرید لیں۔ حال ہی پولیس نے ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کر کے نقد رقم ضبط کرنے کی درخواست واپس لے کر پولیس نے انھیں 5لاکھ پونڈ واپس کئے ہیں، یہ رقم انھیں دے کر الطاف حسین شمائلہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرسکتے ہیں۔

یورپ سے سے مزید