آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جس تیزی سے وقت گزر رہا ہے، اتنی ہی تیزی سے جاب مارکیٹ بھی اپنے رنگ بدل رہی ہے۔ لہٰذا نوجوانو ں کو اپنی نظر مارکیٹ پر رکھنی ہوگی اور بدلتی صورتحال کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانی ہوگی۔ اس کے لیے آج کی نسل کو یہ جاننا ضروری ہے کہ جاب مارکیٹ کو اس سے کیا توقعات ہیں اور مقابلے کی فضا میں وہ کس طرح خود کو ممتاز و ممیّز رکھتے ہوئے توقعات کو پورا کرسکتے ہیں۔ ساتھ ہی کمپنیوں کو بھی مختلف جابز کے لیے ملازمین کو سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔

کمپنی کا مستقبل

جاب مارکیٹ میں سخت مقابلہ ہے لیکن یہ مقابلہ صرف جاب ڈھونڈنے والوں کے درمیان ہی نہیں ہے بلکہ اب کمپنیوں کو بھی نئے ملازمین رکھنے کیلئے ایک قدم آگے جانا پڑتاہے اور بہترین ٹیلنٹ حاصل کرنے کیلئے لائق امیدواروں کو ترغیبی پیکج دینے کے بارے میں سوچنا ہوتاہے۔ کسی بھی اسامی کیلئے موزوں امیدوارسے کیے گئے انٹرویو سے جب کمپنی مطمئن ہو جاتی ہے تو پھر امیدوار کی باری آتی ہے کہ وہ کمپنی کے بارے میں معلوم کرے کہ آیا وہ کمپنی اس کے مستقبل کیلئے سازگار ہے یانہیں اور کہیں وہ اس کمپنی میں کیریئر کے حوالے سے جمود کا شکار تو نہیں ہو جائے گا۔

کیا کام کرنا ہوگا؟

کمپنی اپنی ضروریات کے مطابق کسی شخص کو نوکری پر رکھنے کا فیصلہ کرتی ہے تو توقع کی جاتی ہے کہ امیدوار اپنے فرائض (Job Description) کو احسن طریقے سے نبھائے گا۔ اسی لئے کسی بھی کمپنی میں نوکری کے خواہشمند امیدواروں کو ان فرائض کے بارے میں پیشگی معلوم ہونا چاہئے۔ کمپنی بھی اپنے کام کی ڈیمانڈ کے مطابق انہی امیدواروں کو انٹرویو کیلئےبلاتی ہے، جو فرائض کی انجام دہی کیلئے موزوں ہوں۔ گوگل اور ایمازون جیسی کمپنیوں کانام اوربرانڈ ہی کافی ہے لیکن چھوٹی کمپنیوں کو اپنے مشن اورکلچرکو نوجوانوں تک پہنچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ ایگزیکٹوز کی تلاش اور لیڈرشپ کی منتقلی کے حوالے سے سرگرداں فرم رسل رینالڈ اینڈ اسٹیٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر آف فنانشل سروسز جسٹن کیریلی کا کہناہے کہ بہترین جاب ڈسکرپشن تھوڑی بہت مارکیٹنگ، ادا کیے جانے والے کردار (Role) کی حقیقت نگاری، لازمی مہارتوں، استعداد اور آر گنائزیشن کلچر کا امتزاج ہوتی ہے۔ روزانہ ادا کی جانے والی ذمہ داریاں ہی زیادہ تر جاب ڈسکرپشن کی بنیاد ہوتی ہیں جبکہ امیدوار کو ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے کے مواقع فراہم کرنے والی ذمہ داریاں اس میں کم ہی شامل ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نسل کو ایک ہی کمپنی سے جڑے رہنے یا معمول کے کام کرنے سے اکتاہٹ ہونے لگتی ہے اوروہ دو سے تین سال میں دوسری کمپنی میں روزگار حاصل کرلیتے ہیں، جس سے ٹرن اوور بڑھنے لگتاہے۔ کمپنیوں کو جاب ڈسکرپشن بیا ن کرتے وقت یہ سوچنا پڑے گاکہ بہترین امیدوار کو اگر ترقی کے مواقع نہیں ملیں گے تو وہ بہتر کیریئر کی تلاش میں کہیں اور چلے جائیں گے۔

مراعاتی پیکج کیا ہوگا؟

اکثر امیدوار انٹرویو سے پہلے ہی جان لیتے ہیں کہ کمپنی انہیں کتنی تنخواہ اور مراعات دے سکتی ہے۔ اگر ایک کمپنی عمدہ مراعات دینے کے قابل ہے تواسے اس کی تشہیر کرنی چاہئےاور معروف کمپنیاں ایسا کرتی بھی ہیں۔ تاہم بیشتر چھوٹے اداروں کیلئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرسکیں، اگر کچھ کمپنیاں میڈیکل کی مراعات دے بھی رہی ہیں تو دیگر مراعات فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔ بہترین ٹیلنٹ حاصل کرنے کے لیے آپ کوکمپنی میں ’’ملازمت کے مواقع‘‘ قابل قدر بنانے ہوں گے۔

انٹرویو میں شفافیت

ٹیلنٹ کی تلاش کیلئےکام کرنے والی فرم ’گلاس ڈور‘ کےایک حالیہ سروے کے مطابق انٹرویو کے دوران کل مراعاتی پیکج کی معلومات نہ ہونے سے امیدوار فرسٹریشن کا شکار ہوجاتےہیں۔ گلاس ڈور کی گلوبل ہیڈ جولی کوکولس کا کہنا ہے، ’’ ملازمت کے متلاشی معاوضہ اور فوائد کے ساتھ ساتھ کل مراعاتی پیکج کو بھی واضح طور پر سمجھتے ہیں، جو ملازمت کے موقع کی قدروقیمت کا اندازہ لگانے کیلئے لازمی ہوتاہے ‘‘۔ اس لئے کمپنیوں کو چاہیے کہ جس قدرممکن ہوسکے درخواست کنندگا ن کو انٹرویو کے دوران معلومات فراہم کریںتاکہ بعد میں کسی قسم کا ابہام نہ رہے۔

جولی کا کہنا ہے ، ’’ کوئی بھی اپنا وقت برباد کرنا نہیں چاہتا، چاہے وہ کمپنی ہو یا امیدوار، اس لیے یہ ضروری ہو جاتاہے کہ دونوں فریق اپنے بارے میں تمام تر معلومات سیدھے سادے طریقے سے ایک دوسرے کو بتادیں تاکہ درست فیصلہ کیا جاسکے ‘‘۔

اضافی قابلیت

کمپنیوں میں خودکار نظام اور کاروباری ترجیحات میں تبدیلیوں کے باعث اضافی قابلیت کی اہمیت نہ صرف ملازمین بلکہ مالکان کیلئے بھی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اضافی قابلیت کو چمکانے کیلئے کمپنیوں میں ٹریننگ کا رحجان رائج ہوتا جارہاہے۔ جنریشنZ ورکرز (1990ءسے1999ء کے درمیان پیدا ہونے والے ) کیلئے کئے گئے ایک سروے کے مطابق اس جنریشن کے 91 فیصد امیدوار اپنے مالکان کا انتخاب کرنے سے پہلے ان کی کمپنی میں ٹریننگ کے مواقع کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔ صرف نئے ورکرز ہی نہیں بلکہ اسمارٹ پروفیشنلز بھی متعلقہ انڈسٹری میں مستقل ترقی کے خواہاں ہوتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ انہیں زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ اگر کمپنیاں اس حوالے سے (ٹریننگ وغیرہ کی) لاگت کےبارے میں فکرمند ہیں تو ایسا سوچنے کی ضرورت نہیں۔ ملازمین پر خرچ کی جانے والی رقم منافع کے ساتھ (Return of investment) واپس آتی ہے کیونکہ ملازمین پہلے سے زیادہ تربیت یافتہ اور ہوشیار ہوتے ہیں اور نئی مہارتوں کے ساتھ کمپنیوں کو بلندیوں پر لے جانے میںجُت جاتے ہیں۔

کامرس سے مزید