آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور سابق ریاست لسبیلہ کے گدی نشین جام میر محمد یوسف 2 فروری کو 59 سال کی عمر میں دل کا شدید دورہ پڑنے سے سفر آخرت پر روانہ ہو گئے اور اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں پاکستان سے وحدت و یکجہتی کا ایک نڈر اور سچا وکیل دنیا سے اٹھ گیا۔
جام یوسف قیام پاکستان کے تقریباً 6 سال بعد تولد ہوئے اس لئے انہوں نے تحریک پاکستان کا دور نہیں دیکھا لیکن ان کے والد جام میر غلام قادر ان ممتاز شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے بلوچستان میں نہ صرف پاکستان کے تصور کو متعارف اور اجاگر کیا بلکہ انتہائی مخالفانہ ماحول میں پاکستان کے ساتھ اس صوبے کے الحاق کی راہ ہموار کی۔ اس لحاظ سے جام یوسف نے ایک ایسے شخص کے گھر میں پرورش پائی اور اس کی نگرانی میں سیاسی زندگی کے اسرار و رموز سیکھے جسے بانیان پاکستان کی پہلی صف میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
جام غلام قادر نے ایسے وقت میں اپنی ریاست کا پاکستان سے الحاق کیا جب ریاست قلات کے دونوں منتخب ایوان متفقہ طور پر الحاق پاکستان کی تجویز مسترد کر چکے تھے اور قوم پرستوں نے قلات کی آزادی اور جداگانہ حیثیت کے حق میں زبردست مہم چلا رکھی تھی۔ لسبیلہ قلات کی ایک ماتحت خود مختار ریاست تھی جس کا قلات میں ہونے والے فیصلوں سے متاثر ہونا لازمی امر تھا مگر جام غلام قادر نے جو تحریک

پاکستان کے دوران قائداعظم کے قریب رہے، حالات کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے یک طرفہ طور پر پاکستان کے ساتھ ریاست لسبیلہ کے الحاق کا اعلان کر دیا۔ اس سے قلات کی دو دوسری ریاستوں خاران اور مکران کے والیوں میر حبیب اللہ نوشیروانی اور نواب میر بھائی خان کو بھی تحریک ملی اور انہوں نے بھی قلات کی طرف دیکھنے کی بجائے براہ راست پاکستان سے الحاق کے معاہدے کر لئے۔ لسبیلہ اور خاص طور پر مکران کی ساحلی ریاستوں کے الحاق کے ساتھ ہی بلوچستان کے ساحل اور خاران کے بے پناہ قدرتی وسائل پر پاکستان کو دسترس حاصل ہو گئی۔ اس سے ریاست قلات کو شدید دھچکا پہنچا اور اس کی علیحدگی کا راستہ مسدود ہو گیا۔
اپنا ساحل کھو دینے سے پیدا ہونے والے حالات کے اس رخ کے باعث خان قلات کو پاکستان سے الحاق کے بارے میں قائداعظم کے مشورے کی اصابت تسلیم کرنا پڑی اور بالآخر انہوں نے قائد کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیئے۔ اس طرح پورا بلوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا، اس کے بعد جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہو رہا ہے وہ تاریخ کا حصہ ہے اور اس کے متعلق مخالفت اور موافقت میں ہر طرح کے دلائل دیئے جا سکتے ہیں مگر پاکستان سے الحاق کے حوالے سے جام غلام قادر کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
جام میر محمد یوسف اپنے نامور باپ کی طرح ایک شریف النفس اور نسبتاً کم گو انسان تھے۔ جام غلام قادر 1973-74 اور پھر 1985-88 کے دور میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ رہے جبکہ جام محمد یوسف یکم دسمبر 2002 سے 19 نومبر 2007 تک اس منصب پر فائز رہے۔ ان کی وزارت اعلیٰ کی مدت باقی تمام وزرائے اعلیٰ سے زیادہ تھی اور وہ حلقہ پی بی 44 لسبیلہ سے بلوچستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
اس وقت وہ قومی اسمبلی کے رکن اور وزیر نجکاری تھے بلوچستان میں بطور وزیراعلیٰ انہوں نے کئی قابل قدر ترقیاتی کام کرائے، نواب اکبر بگٹی کا قتل انہی کے دور میں ہوا جسکی وجہ سے ان کے اچھے کام پس منظر میں چلے گئے۔ جام صاحب عارضہ قلب کے علاوہ شوگر کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔ ہفتے کی رات ان کی آخری مصروفیت اپنی پارٹی کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات تھی جس میں بلوچستان کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ چوہدری صاحب بتاتے ہیں کہ جام صاحب کی طبیعت خراب تھی مگر تشویشناک نہیں۔ آخری ملاقات میں وہ بالکل نارمل تھے، اگلے روز پھر ملاقات کا وعدہ کر کے چلے گئے۔ دل کا اچانک دورہ پڑنے سے یہ وعدہ پورا نہ ہو سکا۔ اس خاموش طبع اور مرنجان مرنج شخص کے آخری دن کی مصروفیت بھی بلوچستان کے حوالے ہی سے تھی۔
انہوں نے اس روز مغرب اور عشا کی نمازیں چوہدری شجاعت کے ڈرائنگ روم میں ادا کیں اور عینی شاہدین کے مطابق ایسے خضوع و خشوع سے دعائیں مانگیں کہ ان کا دامن آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ اس آخری ملاقات میں انہوں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ ”ہمارا (بلوچستان کا) خیال کریں اور ایسے فیصلے کریں جس سے ہماری نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو جائے۔ ہمارا کیا ہے ہم ہوں یا نہ ہوں مگر ملک چلنا چاہئے“۔ وہ دھیمے مزاج مگر مضبوط قوت ارادی کے مالک تھے۔ الحاق کے فیصلے پر قوم پرست جام غلام قادر سے خوش نہیں تھے مگر بلوچستان کی محرومیوں کو اجاگر کرنے پر ان کے مداح بھی تھے۔ جام یوسف نے بھی ہمیشہ بلوچستان کی داخلی خودمختاری اور فیصلہ سازی کے حق کی حمایت کی اور عوام کی غربت اور پسماندگی کے خاتمے کے لئے اقتدار کے اندر اور باہر ہر سطح پر کوششیں کیں۔ وہ ایک خلیق اور ملنسار آدمی تھے۔ ان کے حلقہ احباب میں وہ قوم پرست لیڈر بھی شامل تھے جو سیاسی طور پر ان کے شدید مخالفین میں شمار کئے جا سکتے ہیں۔
جام صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن بلوچستان خصوصاً لسبیلہ کے لوگ ان کی قومی سیاسی و سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔وہ عام لوگوں سے بھی نہایت عجزوانکسارسے ملتے اورتوجہ سے ان کے مسائل سنتے ۔اپنی انہی خوبیوں کی بدولت وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں