آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر18؍ ربیع الثانی 1441ھ 16 دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز


’’آج وہ کشمیر ہے محکوم و مجبور و فقیر، کل جسے اہلِ نظر کہتے تھے ایرانِ صغیر‘‘۔ درویش نے جب سے شعور کی دنیا میں قدم رکھا ہے مسئلہ کشمیر کی حقیقتوں اور نزاکتوں کو پڑھتا، سنتا، سمجھتا اور سمجھاتا چلا آرہا ہے لہٰذا میں نے ہمیشہ یہ چاہا ہے کہ دونوں ممالک کو مل بیٹھ کر اس مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ پاکستان کا سرکاری یا علامتی موقف تو یہ رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے سے حل کیا جائے جبکہ انڈیا کا موقف ہے کہ شملہ معاہدے کے بعد اقوامِ متحدہ کی قراردادیں غیر موثر ہو چکی ہیں۔اعلانِ لاہور میں بھی اسی اتفاق رائے کا اعادہ کیا گیا ہے اور یہ چیز ہر دو ممالک کو معاملہ اقوامِ متحدہ یا کسی بھی تیسرے فریق یا ثالث کے پاس لے جانے سے روکتی ہے۔ اب مودی سرکار نے یکطرفہ طور پر ہر چیز تہس نہس کر دی ہے۔

ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ لے جانے والے خود پہلے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو تھے اور انہوں نے کشمیری رہنما شیخ عبداللہ کے ساتھ مل کر اپنے آئین میں کشمیریوں کے حقوق کو تحفظ دلوانے والی یہ جو شقیں شامل کروائی تھیں۔ ان کے نزدیک یہ درحقیقت ایک طرح سے اقوامِ متحدہ کی روح کے زیر اثر تھیں کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کے مطابق کشمیریوں کو خصوصی حیثیت حاصل رہے گی۔ مابعد 1954میں آئین کے آرٹیکل 35Aکے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت اور 1927والے کشمیریوں کے منفرد حقوق کو تحفظ دیتے ہوئے دیگر بھارتی باشندوں پر یہ بندش لگا دی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں نہ تو پراپرٹی خرید سکتے ہیں اور نہ ہی وہاں کا ڈومیسائل حاصل کرتے ہوئے سکونت اختیار کر سکتے ہیں۔بھارتی عوام میں کئی دہائیوں سے ان آئینی شقوں یا کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خلاف تحفظات و جذبات پائے جاتے تھے۔ جس پر اُنہیں جواب دیا جاتا تھا کہ دیگر ریاستوں میں بھی قوانین کے کئی حوالوں سے تفاوت پایا جاتا ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے تقسیم کے فوری بعد جس طرح بھارت سے الحاق کا اعلان کیا تھا اُس کی حیثیت بھی دیگر ریاستوں سے مختلف تھی۔ انہوں نے کسمپرسی و بیچارگی کے عالم میں بھی اپنی یہ شرائط وزیراعظم پنڈت نہرو اور گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے منوا لی تھیں۔ تقسیم سے لے کر آج تک دونوں ملک مسئلہ کشمیر پر کئی جنگیں لڑ چکے، اپنے قومی وسائل اپنے عوام پر خرچ کرنے کے بجائے اسلحہ بندیوں پر خرچ کر رہے ہیں۔ سب یہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ بدلتے حالات کے ساتھ اب بزور کوئی بھی ملک دوسرے سے کشمیر کی ایک انچ زمین نہیں چھین سکتا۔

اس وقت واقعاتی صورتحال یہ ہے کہ کشمیر کا جو حصہ بھارت کے پاس ہے اس کے تین حصے ہیں۔ 1:جموں، یہاں زیادہ تر کشمیری پنڈت آباد ہیں، اس خطے سے بھارت کو کوئی مسئلہ نہیں بلکہ شکایت رہتی ہے کہ انتہا پسند کشمیری، پنڈتوں کے لئے مسائل کھڑے کرتے رہتے ہیں تاکہ وہ علاقہ چھوڑ جائیں۔ 2:لداخ، چین کی سرحد سے ملحق اس خطے میں بیشتر بدھ، ہندو اور اہلِ تشیع مسلمان آبادی ہے۔ یہاں بھی بھارت کو آبادی کی طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ 3:کشمیر وادی، سرینگر اور اس سے ملحق اضلاع یہاں کے بالخصوص ڈھائی تین اضلاع میں بھارت کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور یہی خطہ سیاست کا اصل گڑھ ہے جبکہ کشمیر کا دوسرا حصہ جو ہمارے پاس ہے اس کے بھی تین حصے ہیں۔ ایک ہمارے زیر کنٹرول مظفر آباد والا وہ حصہ ہے جسے ہم آزاد کشمیر قرار دیتے ہیں، دوسرا وہ حصہ جس کا نام گلگت بلتستان ہے اور تیسرا وہ حصہ جو ہم نے جنرل ایوب کے دور میں چین کو دے دیا تھا۔

درویش نے دو دہائیاں قبل اپنے ایک آرٹیکل ’’مسئلہ کشمیر کا آخری حل‘‘ میں تجویز کیا تھا کہ جب یہ طے ہے کہ پاکستان اور بھارت میں سے کسی نے بھی ایک انچ رقبہ زمین سے دستبردار نہیں ہونا اور نہ ہی کوئی عالمی طاقت انہیں اس حوالے سے مجبور کر سکتی ہے تو بہتر یہ ہوگا کہ ہر دو ممالک کی قیادتیں مل بیٹھ کر اپنے ممالک اور کشمیریوں کے مفاد میں یہ طے کر لیں کہ اپنے قبضوں کو قائم رکھتے ہوئے خطہ کشمیر کی یکجہتی کو تسلیم کر لیں۔ تمام علاقہ جات کے باسیوں کے لیے باہمی آمدورفت میں حائل تمام رکاوٹیں ہٹا دیں۔ ان کی مشترکہ منتخب اسمبلی کے قیام میں معاونت کرتے ہوئے دونوں ممالک یہ طے کریں کہ وہ کشمیری بھائیوں کو مزید کیا کیا سہولتیں دے سکتے ہیں۔ کنٹرول لائن کی حیثیت برائے نام ہو البتہ ہر دو خطوں کی نمائندگی ان کے اپنے اپنے ممالک کی اسمبلیوں میں بھی موجود ہو۔مگر افسوس اس نوع کی تجاویز پر غور نہ کیا گیا۔

مودی سرکار نے تو اپنی انتخابی مہم میں اپنے عوام سے اپنے انتخابی منشور اور انتخابی تقاریر و اعلانات کے ذریعے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی صورت آئینی ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دونوں دفعات 370اور 35Aکو ختم کر دیں گے۔ آج سے بڑھ کر ان کو سازگار موقع کیا مل سکتا تھا جب پاکستان اپنے اندرونی خلفشار، جبری ماحول، کمزور خارجہ پالیسی کا شکار ہے۔ اگر پاکستان کچھ عالمی آوازیں اٹھوانے میں کامیاب ہو بھی گیا تب بھی شاید وہ اس قابل نہ ہوں گی کہ مودی سرکار کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول سے روک سکیں۔ مودی سرکار کے مذموم ہتھکنڈوں کے سامنے اگر کوئی بڑی رکاوٹ کھڑی ہو سکتی ہے تو وہ اُن کی اپنی آئینی عدالتیں یا ان کی سپریم کورٹ ہے۔ کشمیر کی ہائیکورٹ تو ماقبل اس حوالے سے فیصلہ دے بھی چکی ہے، بھارت کی سپریم کورٹ میں بھی اس حوالے سے چار اپیلیں پڑی ہیں۔ ان کا اپنا آئین یہ کہتا ہے کہ کسی بھی ریاستی مسئلہ پر آئینی ترمیم کے لئے اُس ریاستی اسمبلی سے اس کی منظوری لازم ہے، لہٰذا یہ غیر آئینی صورتحال بھی مودی سرکار کے خلاف جائے گی۔ آج کانگرسی رہنما راہول گاندھی کے یہ الفاظ کس قدر واضح ہیں کہ مودی سرکار نے کشمیر کے ٹکڑے کر دیئے ہیں۔ مودی سرکار نے آئین کی جو خلاف ورزی کی ہے اس سے بھارتی قومی سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔