آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ17؍ ربیع الاوّل 1441ھ 15؍ نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کشمیر پھر لہو لہو اور تاریخ پھر تار تار


برصغیر کی تقسیم میں اگر کوئی بڑا ہاتھ ہوا ہے تو وہ سابق جموں و کشمیر کی ریاست کے ساتھ ہوا۔ لیکن جو المیہ کشمیر کے ساتھ ہوا وہ ابھی تک جاری ہی نہیں بلکہ بد سے بدتر ہوا جاتا ہے۔ کشمیر کی بھارت سے الحاق کی رام کہانی اور بھارت کے آئین کی شق 370 کی تاریخ کھنگالتے جایئے، آپ صرف اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ کس طرح کشمیریوں کو خودمختاری اور استصوابِ رائے کا جھانسا دیتے دیتے بالآخر بھارت کی دیگر ریاستوں سے بھی کم درجہ کے دو یونین علاقوں میں بدل دیا گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ اختیار کھو بیٹھا تھا، شیخ عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اُس کے خلاف ’’کشمیر چھوڑو‘‘ کی تحریک چلا چکی تھی، پاکستان کے فوجی اور قبائلی دستے سری نگر پہ دستک دے رہے تھے کہ اس دگرگوں حالت میں مہاراجہ ہری سنگھ کو 26 اکتوبر 1947 کے الحاق کی دستاویز پہ دستخط کرنے پڑے۔ لیکن اُن کے الحاق میں آرٹیکل 370 کی طرح کی کوئی شق نہ تھی۔ چھ ماہ تک (مئی تا اکتوبر 1949) نہرو، پاٹیل، گوپال سوامی آئینگر اور شیخ عبداللہ و مرزا افضل بیگ میں آرٹیکل 370 پہ اختلافی مباحثہ چلتا رہا اور 27 اکتوبر 1949 کو آئین ساز اسمبلی نے اس کی منظوری دے دی۔ مہاراجہ کا الحاق نامہ ہو یا 370، سب کی منشا یہی تھی کہ مرکز کے پاس فقط خارجہ، دفاع اور کرنسی کے محکمے ہوں گے اور جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی نے اپنا آئین، اپنا جھنڈا اور اپنا صدرِ ریاست اور علیحدہ تشخص برقرار رکھتے ہوئے 17 نومبر 1956 کو جموں و کشمیر آئین کی منظوری دے دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آرٹیکل 370 کے پاس ہوتے ہی چھ ماہ کے اندر اندر اس کی بتدریج تحلیل کا آغاز بھی ہو گیا تھا۔ اور شیخ عبداللہ کو 8 اگست 1953 کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ 11 برس اپنے دوست نہرو کی جیل میں رہے۔ یقیناً کشمیر کی خصوصی حیثیت کی شق 370 عارضی اور عبوری تھی کیونکہ ابھی اس کے مستقبل کا فیصلہ استصوابِ رائے کے ذریعہ ہونا تھا۔

پارٹیشن کا فارمولہ گاندھی جی نے محمد علی جناح کو 1944 میں پیش کر دیا تھا کہ ملحقہ مسلم اکثریتی اضلاع میں استصوابِ رائے کی بنیاد پر بھارت کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ بعد ازاں کیبنٹ مشن پلان (16مئی 1946) کے ذریعے برصغیر کو ایک ڈھیلی ڈھالی فیڈریشن کے ذریعے اکٹھا رکھنے کی آخری سعی کی گئی جسے قائداعظم نے تو قبول کر لیا، کانگریس نے نہیں اور جن سنگھ کے رہنما مکھرجی نے اکھنڈ بھارت کو متحد رکھنے کی اِس آخری کوشش کو حقارت سے ردّ کر دیا۔ لاہور میں نہرو، مائونٹ بیٹن اور لیاقت علی خان کی 8 دسمبر 1947 کو ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم نے معاملہ کو استصوابِ رائے کی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کے ذریعے حل کرنے کی تجویز دی۔ نہرو کو اس پر ہچکچاہٹ تھی لیکن 27 دسمبر 1947 کو نہرو اس پر راضی ہو گئے، البتہ گاندھی جی نے اس کی منظوری دیتے ہوئے استصوابِ رائے کی تجویز سے ’’آزادی‘‘ کاآپشن نکال دیا۔ پاکستان پہلے ہی سے یو۔این جانا چاہ رہا تھا لیکن بھارت کی جانب سے جنگ بندی کی اپیل سے یو۔این نے اس معاملے میں مداخلت کی اور پھر بھارت نے مسلسل اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی توثیق کی اور پاکستان نے بھی۔ دونوں ریاستوں کے استصوابِ رائے بارے رویے بدلتے رہے۔ جب تک شیخ عبداللہ کشمیر کے حکمران رہے پاکستان استصوابِ رائے سے ہچکچاتا رہا جب وہ 1953 میں گرفتار کر لیے گئے تو ہمارے لیے اقوامِ متحدہ کی قرار دادیں سوغات تو بنیں لیکن ان پر عملدرآمد کے لیے پاکستان کو اپنے زیرِ قبضہ علاقے سے فوجیں واپس بلانی پڑتیں۔ یوں یہ معاملہ اُلجھ کر رہ گیا۔ پھر معاہدہ شملہ ہوا بھی تو کشمیر کو ایک تنازعہ تسلیم کیا گیا اور باہمی بات چیت سے اس کے حل کا عہد یو۔این چارٹر کے مطابق کیا گیا۔

کشمیر پر تین جنگیں بھی ہو چکیں کہ جنت کشمیر کس کا مالِ غنیمت ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہماری شہ رگ ہے۔ بھارتی مہا قوم پرست اور کانگریسی اسے بھارت کا اٹوٹ انگ اور سر کا تاج کہتے ہیں۔ نظریں وادیٔ کشمیر کی حسین وادیوں اور خوبصورت دوشیزائوں پہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 53-A کے خاتمے سے کشمیر میں باہر کے لوگوں کے شہری بننے اور جائیدادیں خریدنے پہ لگی بندش ختم ہو گئی ہے۔ اصل مسئلہ کشمیر کی کالونائزیشن کا ہے اور اس حمام میں برصغیر کے سب متحارب حکمران ننگے ہیں۔ چین سمیت سبھی کا مسئلہ سابق ریاست کے مختلف علاقوں پہ قبضہ جمائے رکھنے کا ہے۔ بھارت نے الحاق اور خصوصی حیثیت کا جو کرم خوردہ پردہ مقبوضہ ریاست پر اپنے ناجائز قبضے کے لیے اوڑھ رکھا تھا وہ اب اُس نے اُتار پھینکا ہے۔ بھارتی ہندو قوم پرست اب بھارتی جمہوریہ کو ہندو راشٹریہ میں بدلنے کی جانب تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کے لیے اب وہ جواہر لعل نہرو کو وِلن اور ہندو فرقہ پرست لیڈروں شیامہ پرساد مکھرجی، دین دیال اُپادھیا کو اصل قومی ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ بھارت کے جمہوریت پسند کمربستہ ہوں کہ اُن کی جمہوریہ ایک ہندو راشٹریہ بننے جا رہی ہے۔ کشمیری تو پہلے سے ہی 370 سے عاجز تھے، جو نہیں تھے انھیں اب سمجھ آ جانی چاہیے۔ اب ننگے یونین راج کے خلاف نبرد آزما ہوئے بنا چارہ نہیں رہا۔ اب اُن کی ڈیماگرافی بدلنے اور کشمیر کو جیل خانہ بنانے کا عزم ہے۔ یہ نسل کشی ہے جو فسطائیت ہی کی دین ہے۔ اب بھارت نے کشمیر کی جغرافیائی تقسیم پہ مہر ثبت کر دی ہے (اِدھر ہمارا، اُدھر تمہارا)۔ کشمیریوں کو اپنی آواز بلند کرنے دیں ۔ یہ انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کا سوال ہے اور اس پر ڈٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بھی جمہوری اُصولوں کا احترام کریں۔ اپنے محروم لوگوں کو انصاف دیں اور کشمیریوں کے ساتھ کی جانے والی بہیمانہ زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ آئندہ کشیدگی بڑھنے جا رہی ہے، اُس سے نپٹنے اور امن برقرار رکھنے کے لیے، اور کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے کسی آئوٹ آف باکس حل کی تلاش کی جائے جس سے کشمیریوں کی آزادی کی آسیں پوری بھی ہوں اور برصغیر جنگ و جدل سے بچا رہے۔

(اس مضمون میں زیادہ تر حقائق اے جی نورانی کی کتاب آرٹیکل 370 اور کشمیر پر لیمب کی کتاب و دیگر کتب سے لیے گئے ہیں)