آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 24؍ذوالحجہ 1440ھ 26؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حرف بہ حرف … رخسانہ رخشی
سالہا سال سے آرٹیکل 370اور35Aکے ساتھ کشمیری اپنی جنگ لڑ ہی رہے تھے اور انہیں یقین بھی تھا کہ ہم اپنی لڑائی لڑتے لڑتے ایک دن سرخرو ہوجائیں گے اور آزادی ہمارا نصیب ہوگی مگر ساری دنیا نے دیکھا کہ اگست کے مہینے میں جب ہم جوش و خروش سے عید اور آزادی کا جشن منانے جارہے تھے کہ ان خوشیوں پر شب خون جیسا حملہ کردیا ان آرٹیکل یعنی370اور35Aختم کرکے۔ یوں پورے بے امن خطے کو مزید شب دیجور میں دھکیل دیا بھارت نے۔ کشمیریوں کیساتھ ساتھ اس خطے کے مسلمان بھی دن رات کے رنج و الم میں مبتلا ہوگئے۔ حالانکہ کشمیری عوام نے صرف اپنی آزادی کی جنگ لڑی ہے اپنی نسلیں بھی پروان چڑھائی ہیں تو صرف یہ کہہ کر کہ ہمیں آزاد ہونا ہے، ہمیں ہندوئوں کی غلامی سے آزاد ہونا ہے۔ مگر بھارت کی جارحیت، ذلالت اور خباثت دیکھئے کہ ایک تو نہتے، بے بس، لاچار اور مظلوموں پر ستم ڈھائے چلا جارہا ہے پھر کرفیو اور گولہ بارود بھی انہیں کے خطے میں برسا رہا ہے۔ آگ اور خون کے اس کھیل میں آگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ ہمارے ذہن رہ رہ کر دشمن کی چالیں گھوم رہی ہیں کہ کیسے اس نے تاک کے تیر مارا اور وہی بات کہ کافر اور یہود کی چا سمجھنا آسان بات نہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ہی ہم عوام اور ہمارے حکمران امریکی ’’کامیاب دورے‘‘ کے سرور میں جھوم

رہے تھے کہ بہت عظیم استحصال ہوا، پاکستانی کمیونٹی نے امریکہ جیسے ملک میں کامیاب جلسہ کیا اور تو اور اس بات کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا کہ ٹرمپ نے ذاتی دلچسپی دکھائی ہے کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔ مگر زمانہ چال غضب کی چل گیا۔ کشمیری دیکھتا رہ گیا اور ہم سب دکھی ہوگئے تیر کمان سے نکل جائے تو واپس نہیں آتا۔ اب بھارت نہیں چاہے گا کہ کبھی آرٹیکل 370اور35Aکو بحال کرے۔ لاکھ ہم پٹیشن دائر کریں، عدالتوں کے دروازے پکڑلیں، مودی نے اپنی عوام کو خوشخبری اور دنیا کو دکھانا تھا کہ ہم کتے اختیارات رکھتے ہیں۔ بھلے ہی تیرکمان میں واپس نہیں آسکتا مگر اتحاد ایک ایسی طاقت جو کئی تیروں کا مقابلہ کرکے اسے پچھاڑ سکتی ہے آخر ایک وقت ایسک ضرور آئے گا جب تمام مسلمانوں کا اتحاد ہوگا اور وہ دنیا کے ہر ستم زدہ خطے میں ایک طاقت بن کر ابھریں گے۔ ہم مسلمانوں کا اتحاد یکجہتی ہی کوئی سبب و سبیل پیدا کرے گی دشمن لاکھ دل میں خندق وہ کینہ رکھے ہم زیر ہونے والے نہیں۔ ہم اور ہماری قوم کی مائیں بہادر ہیں وہ کئی بیٹے بھی ملک و قوم پر شہید کردے تو کبھی شکوہ نہیں کرتی بلکہ فاخر رہتی ہے کہ میں شہیدوں کی والدہ ہوں۔ اس کے برعکس ہندوستانی مائوں میں ایسے جذبے بہت کم ہیں۔ ان کا ایک بیٹا جنگ میں مارا جائے تو وہ اگلے خاندان کے کسی بھی بچے کو نہیں بھیجتیں۔ بقول ایک انڈین شہید کی ماتا کے کہ وہ اپنے پوتے کو اور خاندان کے کسی بھی بچے کو انڈین آرمی میں نہیں بھیجے گی کیونکہ میرا بیٹا انڈین آرمی میں رہ کر کارگل کی لڑائی لڑتا مرا اور کسمپرسی کی حالت میں تھا۔ ٹوٹے ہوئے جوتے تھے اور پھٹی ہوئی وردی تھی اسکی اور یہ سب کارگل کی طرف کا مقابلہ کرنے کیلئے کافی نہیں تھا۔ لہٰذا میں خاندان کے کسی بھی بچے کو نہیں مشورہ نہیں دونگی بھارتی فوج میں جانے کا بلکہ میرے اسکول کے 300بچے بھی بھارتی آرمی میں جانے کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ بھارت کی فوج خوب بھی تنگ ہے کسمپرسی سے کہ عوام تو بھوکوں مر ہی رہی ہے فوج کو بھی دال اور چنوں پر رکھا ہوا ہے بھارتی حکام نے ان حکام بالا کا بس نہیں چلتا کہ یہ عوام و آرمی کو نفرت کا ذہر ہی کھلا کلا ھر بہادر بنائیں۔ آج بھارت میں بچوں اور بڑوں کو نفرت میں بھیگے نشتر اور ہتھیار پکڑے جارہے ہیں یہ نفرت کی آگ میں جل رہے ہیں اور ہم بہادری سے لڑنے پر یقین رکھتے ہیں وہ بھی دشمن کی نفرت و کینہ کا جواب دینے کیلئے۔ نفرت کی جنگ اور بہادری کی جنگ میں فرق ہوتا ہے۔ بھارت کی اور ہماری جنگ کشمیر کی جنگ ہے۔ اس جنگ میں ہمیں کشمیر کی زمین سے زیادہ کشمیری عوام کا ساتھ دینا ہے۔ سیاسی بساط سے ہٹ کر قومی و معاشرتی سطح پر سوچنا ہے۔ عوام کا سوچنا ہے جو ہندوئوں کے نرغے میں ہیں جنہیں بھوکا پیاسا رکھ کر بھارتی کونسا تیر مارلیں گے۔ نہتے کشمیریوں پر کاری ضربیں لگائی جارہی ہیں اور کشمیریوں کو ادھ موا کیا جارہا ہے۔ کرفیو لگا کر ان پر مزید قیامت صغرا بپا کی جارہی ہے۔ یعنی کربلا کا ساماں کیا جارہا ہے۔ بھوک پیاس سے بلکتے بچوں کیساتھ یا ان کی معصوم سوالیہ نظروں کیساتھ کیا ہم نظریں ملاپائیں گے۔ کیا ہم عید منائیں گے؟ عید تو خیر ہمارا مذہبی تہوار ہے اس خوشی کو سادگی سے بھی منالیا جائے تو کوئی حرج نہیں مگر خدا کیلئے زخی اور لہو لہو زندگی گزارنے والے کشمیریوں کو آزادی کا دن دکھا دکھا کر جوش و خروش سے نہ منائیں ان کے دل پر کیا گزرے گی جب ایک شور اور جوش و جذبے کا عالم ہوگا مگر اس میں کشمیریوں کی درد بھری آہیں ہونگی۔ کرچی کرچی کشمیریوں کے دل کرفیو میں کیسے تڑپ رہے ہوں گے گھر میں کچھ کھانے پینے کا سامان ہے یا نہیں بچے بھوک و پیاس سے ترسیں کسی یہود و کافر کو کیا۔ فلسطینی اور کشمیری ایک ہی جیسی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نہتوں پر زندگی تنگ کرنا بزدلی ہے۔ کرفیو کے ماحول میں کشمیریوں نے جمعے کی نماز نہیں پڑھی تو عید کیا منائیں گے ان ظالمین کے شکنجے میں جکڑے کشمیری بہن بھائی شہر کے حالات ایک گھنائونا روپ دھارے ہونگے جہاں خون جگر پی پی کر اور اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہے ہونگے ایمان والے عزم و ہمت والے مسلمان لوگ جن کیلئے ہم کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں کم از کم ان کے غم میں شریک ہوکر خوشیاں عید کی اور14اگست کا جوش و خروش دھیمے انداز میں منائیں۔ ان کیلئے سوچیں کہ کیا گزرے گی ان پر پہلے بھی بھارت انہیں مار رہا تھا مگر اب لیگل طریقے سے مارے گا۔ ازل سے غلام رہنے والے ہندو اب اپنی غلامی کا بدلہ دے رہے ہیں ہمیں چاہیے بھلے ہی ہم درخت لگائیں مگر جھنڈے، جھنڈیوں، پرچم جیسے پیراہن پر خرچ کرنے کی بجائے وہی پیسے کشمیری عوام کی بھلائی پر خرچ کریں کہ وہ سکون سے جی نہیں سکتے، مگر ہماری مدد سے ان کے دل میں ہمارے لئے یہ خیال ہوگا کہ ہم ان کیساتھ ہیں۔

یورپ سے سے مزید