آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

راولپنڈی پولیس نے کم عمر بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر ان کی غیر اخلاقی فلمیں بنانے والے سفاک ملزم اور اس کی بیوی کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے دوران تفتیش 45بچیوں پر ظلم کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان کے قبضہ سے متعلقہ 10 وڈیو فلمیں بھی برآمد ہوئیں۔ دوران تفتیش انتہائی شرمناک یہ بات سامنے آئی کہ اس گھنائونے کاروبار میں ملزمان کے ایک بڑے عالمی گروہ سے روابط ہیں اور پیسے لے کر غیر اخلاقی وڈیو فلمیں ان کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ملزمان کسی بھی صورت قانون کی گرفت سے بچنے نہیں چاہئیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ملک میں ایسے جرائم روکنے کیلئے قوانین موجود ہیں پھر بھی یہ سب کیوں اور کیسے ہو رہا ہے۔ اگر ملزمان قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں تو کیوں نہ متعلقہ قوانین کی اصلاح کی جائے اور بچنے کے راستے بند کئے جائیں۔ ملک کے اداروں میں ذمہ دار، فرض شناس افسروں اور اہلکاروں کی بھی کمی نہیں اس ضمن میں متعلقہ سی پی او نے بجا طور پر ہدایت کی ہے کہ ملزمان کے خلاف ہر وقوعہ کی الگ الگ ایف آئی آر درج کی جائے اور ہر مقدمہ میں ان کا الگ الگ چالان کیا جائے۔ بلاشبہ یہ کیس اس نوعیت کا ہے کہ ملزموں کو سزا دلوانے میں پولیس کو آخری حد تک جانے کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی مہذب معاشرہ انسانیت کے ناتے چائلڈ پورنو گرافی کی اجازت نہیں دیتا، ہمارے معاشرے میں تو اس کا تصور بھی نہیں کیا جانا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف مروجہ قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے اور انسانیت کے دشمنوں کو کڑی سزائیں دی جائیں بلکہ والدین پر بھی قانونی طور پر ذمہ داری ڈالی جائے کہ وہ اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے تمام ممکن اقدام کریں، جس علاقے میں ایسا واقعہ ہو وہاں کی پولیس کو بھی ذمہ دار ٹھہرا کر اسے قانون کی گرفت میں لایا جائے کیونکہ اکثر علاقوں میں متعلقہ پولیس کی چشم پوشی بھی ایسے گھنائونے جرائم کا سبب بنتی ہے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998

ادارتی صفحہ سے مزید