آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی: کم عمر لڑکے کی تشدد سے ہلاکت، مزید 3 گرفتار


کراچی کے علاقے بہادر آباد میں تشدد سے ہلاک ہونے والے کم عمر مبینہ چور کے مقدمے میں پولیس نے مزید 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

ان 3 افراد کی گرفتاری کے بعد اس واقعے میں اب تک گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد 5 ہوگئی ہے۔

بہادر آباد میں شہریوں کے تشدد سے کم عمر مبینہ چور ریحان کی ہلاکت کے کیس میں ملوث مزید 3 ملزمان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں انس، شاہ رخ اور مسعود شامل ہیں، ملزمان کو فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے، جس کے بعد واقعے میں ملوث اب تک گرفتار ملزمان کی تعداد 5 ہو گئی ہے۔

ان سے قبل ملزم دانیال اور زبیر کو گرفتار کیا گیا تھا، کم عمر مبینہ چور ریحان کی ہلاکت کا مقدمہ اس کے والد محمد ظہیر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ریحان کے والد نے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کے لیے تھانے میں درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔

ریحان کے والد کا مؤقف ہے کہ ملزمان نے اس کے بیٹے کو بدترین تشدد سے ہلاک کیا اور ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی، جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیلا، مقدمہ دہشت گردی کی عدالت میں چلنا چاہے۔


مقتول کے والد ظہیر کے مطابق ان کے بیٹے کو گھر میں لوہے کی گِرل کے ساتھ باندھ کر نیم برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ویڈیو بنائی گئی، بیٹا کہتا رہا کہ میرے والدین کو بلا دو لیکن کسی کے دل میں رحم نہیں آیا، انہوں نے میرے بیٹے کو تڑپا تڑپا کر مارا ہے، ایسے ہی ملزمان کو مارا جائے۔

دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ ریحان پر ماضی میں بھی تھانہ بہادر آباد میں چوری اور منشیات کے مقدمات درج تھے، ریحان کا مزید کرمنل ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے۔

مقتول ریحان کا 6 بہن بھائیوں میں تیسرا نمبر تھا، مقتول کی نمازِ جنازہ خدا داد کالونی کی علاقائی مسجد میں ادا کر کے مقامی قبرستان میں اس کی تدفین کر دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں گذشتہ روز تشدد سے ہلاک ہونے والے 15 سالہ ریحان کے اہلِ خانہ نے شاہراہِ قائدین پر احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔

مقتول کے ورثاءکے مطابق ان کے بچے کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، بچے نے اگر چوری کی تھی تو اسے پولیس کے حوالے کیا جاتا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس ملزمان کے خلاف درج مقدمے میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کرے۔

قومی خبریں سے مزید