آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنرل باجوہ خطے کے سب سے اہم فوجی لیڈر بن کر سامنے آئے، سخت سیکورٹی خطرات کا سامنا کیا

اسلام آباد( تجزیہ جان اچکزئی) وزیراعظم عمران خان نے بالآخر تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے جنرل قمر باجوہ کی بحیثیت آرمی چیف مزید تین برس کے لیےتقرری کر دی ہے۔


وزیر اعظم آفس سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس توسیع کی بنیادی وجہ خطے کی سیکورٹی صورت حال کو قرار دیا گیا ہے۔ماضی کے برعکس سول ۔فوجی تعلقات پاکستان میں بہترین نظر آرہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان خوش قسمت ہیں کہ جنرل قمر جاوید باجوہ آرمی چیف ہیں اور عمران خان کو فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے۔چاہے وہ بھارت سے مسائل کا معاملہ ہو، ٹی ایل پی کے خلاف کریک ڈائون، پاکستان کے نئے ویزا نظام کا قیام یا پاک۔افغان سرحد طورخم پر آپریشن وغیرہ۔بہر حال سول۔فوجی تعلقات قومی اہمیت کے حامل مسئلے کے لیےکسی بھی سول رہنما کی ضرورت ہوتے ہیںاور جنرل باجوہ کی نگرانی میں یہی وزیر اعظم کو حاصل ہے۔یہی وجہ ہے عمران خان کی پہچان ان کی طرز حکومت، فرسٹ جنریشن اصلاحات ، غربت کے خاتمے اور عام مردوخواتین کو سہولتیں فراہم کرنے کے حوالے سے ہوگی۔اسی تناظر کے خلاف وزیر اعظم نے یہ لازمی سوچا ہوگا کہ جنرل باجوہ کو 2019کے اختتام پرگھر نہیں جانا چاہیئے ۔جنرل باجوہ کو آئندہ تین برس کے لیے آرمی چیف برقرار رکھنے کی ممکنہ وجہ داخلی اور خارجی جیو اسٹریٹیجک اور دفاعی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہے۔ایک طرف حکومت ان کی قیادت، صلاحیتوں سے خطے اور عالمی سطح پر فائدہ اٹھائے گی تو دوسری جانب جنرل باجوہ ملک کی اسٹریٹیجک پالیسیوں کو درپیش مشکلات کا تدارک کرتے ہوئے اپنے آپ کو خصوصی حالات کا اہل ثابت کریں گے۔جنرل باجوہ ملک کی مضبوطی کے لیے خاصے متحرک ہیں ، خاص طور پر سیکورٹی ، اقتصادی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے اور وہ ملکی سیکورٹی اسٹیٹ میں بنیادی تبدیلی لاکر اسے ترقی کی راہ پر گامزن ، پراعتماد قوم اور معاشرے میں تبدیل کررہے ہیں۔خطے میں پاکستان کے کردار میں بہتری لاکر جو کہ پہلے جنگ، دہشت گردی، شدت پسندی اور کرپشن وغیرہ سے نبردآزما تھا ، جنرل باجوہ نے نئی قیادت کو مسائل سے نکلنے میں مدد فراہم کی ، جو کہ افغانستان، بھارت اور وسط ایشیا کے عدم استحکام کے باعث تھی۔خارجہ پالیسی سے شروع کریں تو جنرل باجوہ اس خطے کے سب سے اہم فوجی لیڈر بن کر سامنے آئے ہیں۔انہوںنے ہر سطح پر سخت سیکورٹی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے خطے میں طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔حالیہ امریکا ۔افغان مذاکرات میں طالبان کو آمادہ کرنااور حتمی معاہدے پر عمل درآمدتاکہ افغانستان کو جہادیوں کی آماجگاہ بننے سے بچایا جاسکے، جنرل باجوہ کے فعال کردار کی عکاسی ہے۔وہ بھی ایسے موقع پر کہ جب واشنگٹن کی قومی سیکورٹی ترجیحات آہستہ آہستہ انسداد دہشت گردی سے ہٹ کر ریاستی خطرات جیسا کہ روس اور ابھرتے چین کی جانب مبذول ہورہی ہے۔جنرل باجوہ کا سب سے اہم کام طالبان/حقانی اور امریکا کے درمیان عدم اعتماد ختم کرکے ان تمام قیاس آرائیوں کا خاتمہ کیا جو واشنگٹن میں ہورہی تھیں، جس کا پروپیگنڈہ مغربی میدیا بھارتیوں کے ذریعے کررہا تھا۔جنرل باجوہ کے سوا کسی پاکستانی لیڈر میں یہ قابلیت نہیں تھی کہ وہ اسٹریٹیجک سطح پر تمام مسائل حل کرتا۔بھارت جیسا سخت حریف پڑوسی ہمیشہ ہی چیلنج رہا ہے۔پاک فضائیہ نے 27فروری کو بھارت کو جو سبق سکھایا ، وہ جنگی تاریخ کے کورسز میں پڑھایا جائے گا۔پاکستان کی بھارت سے متعلق پالیسی میں انہوںنے پس پردہ ڈپلومیسی پر توجہ دیتے ہوئے کشمیر پر توجہ مرکوز رکھی اور لائن آف کنٹرول پر امن رہا۔بھارتی پالیسی سازوں کے لیے سب سے بری پیش رفت کرتارپور راہداری کا افتتاح تھا، جس نے بھارت کو چکرا کر رکھ دیا۔ابتدائی طور پر تذبذب کا شکار رہنے کے بعد دہلی نے سرکاری وفد کو کرتارپور کی افتتاحی تقریب میں بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی اور وہ آرمی چیف قمر باجوہ کے اقدام کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوگئی۔تاہم، وہ افغانستان کا معاملہ تھا جہاں جنرل باجوہ نے بھارت کو سخت دھچکہ پہنچایا اور امریکا کو یہ یقین دلادیا کہ افغانستان میں بھارت کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا۔کوئی دوسرا پلان نہ ہونے کے باعث بھارتی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ اپنی تمام محنت پر پانی پھرتے دیکھتی رہی۔خطے میں پاکستان کے اثرورسوخ کو بڑھانے کے لیے جنرل باجوہ ایران گئے ۔ایک عام سے تھری اسٹار ہوٹل میں رہائش اختیار کرتے ہوئے جنرل باجوہ نے تنہا ہی سی پیک سے متعلق تہران کے خدشات دور کیے، پاک۔سعودی تعلقات اور جنرل راحیل شریف کے دور میں کمزور ہوتے پاکستان۔تہران تعلقات کو پھر استحکام بخشا۔ایران کے صدر ، حسن روحانی کے دورہ کے موقع پر اس وقت کے آر می چیف ، جنرل راحیل شریف نے تمام سفارتی ضروریات کو نظر انداز کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کی شکایت کی تھی ۔مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی مضبوط موجودگی میں جنرل باجوہ کا کردار اہمیت کا حامل ہے ۔انہوں نے جی سی سی ممالک خاص طور پر یو اے ای کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات بہتر بنائے۔یو اے ای کے یمن میں پاکستانی فوجیوں کو بھیجنے کے مطالبے کو مسترد کرنے کے باعث پاکستا ن کے تعلقات یو اے ای سے بہتر نہیں رہے تھے ، ان میں اچانک بہتری جنرل باجوہ کی پس پردہ ڈپلومیسی کے سبب آئی۔ان کی کوششوں کے سبب ہی وزیر اعظم عمران خان کا یو اے ای کا دورہ کامیاب رہااور اربوں ڈالرز کے قرضوں کے معاہدے اور موخر ادائیگی کی سہولت پر آئل ملا۔جنرل باجوہ کی کوششوں کا نقطہ عروج یہ تھا کہ یو اے ای کے ولی عہد شیخ محمد بن زائد بن سلطان النہیان نے تقریباً11برس بعد اسلام آباد کا دورہ کیا۔ان کی سخت محنت کا نتیجہ پاکستان اور سعودی عرب کے دوطرفہ تعلقات کا نئے بلندیوں کو چھونا ہے جو کہ دفاع، خارجہ پالیسی اور سرمایہ کاری میں واضح ہے۔سعودی عرب 14ارب ڈالرز کی ریکارڈ سرمایہ کاری پاکستا ن میں کرنے پر راضی ہوا، جو کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلیمان کے فروری ، 2019کے دورہ پاکستان کے موقع پر ہوا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکا جتنا زیادہ اپنے جی سی سی ساتھیوں کو چھوڑتا ہے ۔سعودی عرب اتنا زیادہ ہی انحصار پاکستان کی اسٹریٹیجک ضمانتوں پر کرتا ہے۔جنرل باجوہ نے روس کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون میں بھی اضافہ کیا، جس کی وجہ سے سیکورٹی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات مضبوط ہوئے۔جنرل باجوہ کی نگرانی میں ترکی کے ساتھ تعلقات بھی بہتر ہوئے ۔یہ چین اور سعودی عر ب کے بعد تیسرا ملک ہے ، جو پاکستان کا قریبی دوست ہے۔جنرل باجوہ نے مصر، قطر اور چین کے کامیاب دورے کیے ، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا حلقہ بڑھ رہا ہے اور وہ خلیج ، جنوبی ایشیا ، وسطی ایشیا اور بحیرہ روم تک پہنچ چکا ہے۔داخلی سطح پر قانون کی حکمرانی اور پاکستان کو محفوظ، مستحکم اور ابھرتی ہوئی قوم بنانے کا وعدہ جنرل باجوہ کی کوششوں کا نتیجہ ہےکیوں کہ ان کا مقصد دہشت گردی اور کرپشن کا خاتمہ ہے۔یہ ان کے سبب ہی ہے کہ وہ سول اداروں کے ساتھ کھڑے رہے ، جس کے نتیجے میں احتساب کا دائرہ وسیع ہوااور نیب اس قدر طاقت ور ہوگیا کہ وہ تین مرتبہ کے وزیر اعظم نواز شریف، دو مرتبہ کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ، سابق صدر آصف زرداری کو گرفتار کیا۔کاروباری برادری، نقیب اللہ محسود کے والد، اسٹیل مل اور پی آئی اے کے ملازمین اپنے مسائل کے ازالے کے لیے جنرل باجوہ کی قیادت کو دیکھ رہے تھے ۔اس کے باوجود انہوں نے سامنے آئے بغیر کام کیا۔اس کے باوجود جنرل باجوہ کی قیادت دنیا کی وسیع جیو پولیٹکس کا نتیجہ ہے، جسے شدت پسند قوتوں سے لڑنے کے لیے مضبوط فوجی قیادت کی ضرورت ہے۔اس کی ضرورت میں اس وقت مزید اضافہ ہوا ہے جب امریکا نے جنوب/مغربی ایشیا سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل کی ہے۔لہٰذا دنیا کو عالمی استحکام اور سیکورٹی کے لیے، جب کہ القائدہ اور داعش کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے ان کی معاونت کی ضرورت ہے۔جنرل باجوہ کی قیادت نے پاکستان کو ایسے وقت میں عالمی سطح پر کھڑا کردیا ہے ، جب یوروایشیا ترقی کررہا ہے۔آنے والے وقت میں پاکستان کی کامیابی کے تناظر میں ان کا جاری کردار اہمیت کا حامل ہوگا۔لہٰذا وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے لیے بھی اہم کام کیا ہے ، ملک اور خطے کے لیے بھی کہ جنرل باجوہ کو آئندہ آرمی چیف برقرار رکھا ہے۔(جان اچکزئی جیو پولیٹیکل تجزیہ کار، بلوچستان کے سیاست دان، بلوچستان حکومت کے سابق مشیر ہیں۔وہ بی بی سی ورلڈ سروسز کے ساتھ منسلک رہے ہیں ۔وہ مرکز برائے جیو پولیٹکس اور بلوچستان کے چیئرمین بھی ہیں)

اہم خبریں سے مزید