آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 18؍محرم الحرام 1441ھ 18؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عظمت کا ناقابلِ فراموش باب رقم کرنے والے راشد منہاس شہید کا 48واں یومِ شہادت


پاک فضائیہ کے آفیسر پائلٹ راشد منہاس کا 48واں یومِ شہادت آج منایا جا رہا ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز"نشانِ حیدر" پانے والے راشد منہاس نے پاکستانی جنگی جہاز بھارت لے جانے کا ناپاک منصوبہ ناکام بنادیا تھا اس بے مثال بہادری پر انہیں فوجی اعزاز ’نشان حیدر‘ سے نوازا گیا۔

17 فروری 1951ء کو کراچی کے ایک راجپوت گھرانہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا بچپن شہر قائد میں گزارا بعد ازاں اہل خانہ کے ہمراہ راولپنڈی منتقل ہوگئے اور کچھ عرصے بعد دوبارہ کراچی میں سکونت اختیار کی۔ راشد منہاس نے بی ایس سی، پی اے ایف رسال پور سے کیا۔

راشد منہاس کے خاندان اور عزیز و اقارب پاک فوج سے وابستہ تھےبعد ازاں انہوں نے بھی پاک فضائیہ کا انتخاب کیا۔

راشد منہاس نے 13 مارچ 1971 کو پاک فضائیہ میں بطور کمیشنڈ جی ڈی پائلٹ شمولیت اختیار کی۔ راشد منہاس شہید ابتدا ہی سے ایوی ایشن کی تاریخ اور ٹیکنالوجی سے متاثر تھے، ان کو مختلف طیاروں اور جنگی جہازوں کے ماڈلز جمع کرنے کا بھی شوق تھا۔

راشد منہاس اگست 1971ء کو پائلٹ آفیسر بنے۔ 20 اگست 1971ء کو ماڑی پور کے مسرور ایئربیس سے جنگی ہوا بازی کی تربیت کے دوران، اپنی دوسری سولو فلائٹ پر جس وقت راشد منہاس کا ڈبل کاک پٹ جہاز رن وے پر ٹیکسی کررہا تھا اسی دوران ان کے انسٹرکٹر اور فلائٹ سیفٹی آفیسر مطیع الرحمن، تیکنیکی خرابی کا بہانہ بنا کر جہاز کے کاک پٹ میں داخل ہوگیا اور جہاز کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیا۔

راشد منہاس نے وطن پر جان قربان کرتے ہوئے دشمن کی اس سازش کو ناکام بناتے ہوئے جہاز کا رخ زمین کی جانب موڑ دیا اور اس دشمن کے عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔

اُس ایک لمحے کے عظیم فیصلے نے راشد منہاس کو شہادت کی بلندیوں پر لے گیا، عظمت کا ناقابلِ فراموش باب رقم کر گیا۔

ایسے سپوت جو قوم کی راہ میں لڑتے ہوئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کریں، ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہیں، راشد منہاس کا شمار بھی ایسے ہی شہداء میں ہوتا ہے۔ جنہوں نے نہایت کم عمری میں قوم کی خاطر جان قربان کر کے جام شہادت نوش کیا۔

  29 ﺍﮔﺴﺖ 1971 ﺀ ﮐﻮ ﺭﺍﺷﺪ ﻣﻨﮩﺎﺱ ﮐﻮ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﭘﺮ حکومت پاکستان کی جانب سے ﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻓﻮﺟﯽ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﻧﺸﺎﻥ ﺣﯿﺪﺭ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ ﮔﯿﺎ۔اٹک میں قائم کامرہ ایئر بیس کو راشد منہاس شہید کے نام سے منسوب کیا گیا۔

پاکستان میں نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر شہید راشد منہاس کراچی کے فوجی قبرستان میں آسودہٗ خاک ہیں۔

آج قوم کے عظیم سپوت کی لازوال قربانی کو یاد کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین بھی پوسٹ کررہے ہیں اور اُن سے منسلک تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایک صارف نے راشد منہاس کی پاکستان ائیر فورس میں شمولیت اختیار کرنے سے پہلے لکھی گؕئی ڈائری کا ایک صفحہ پوسٹ کیا۔


ﻭﮦ ﺑﭽﭙﻦ ﮨﯽ ﺳﮯ ﻭﻃﻦ ﮐﮯ ﻟﮱ ﮨﺮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﮱ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔ ﺭﺍﺷﺪ ﻣﻨﮩﺎﺱ ﮐﯽ ﮈﺍﺋﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺌﯽ ﭘﯿﺮﺍﮔﺮﺍﻑ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﻃﻦ ﭘﺮ ﺟﺎﻥ ﻧﺜﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻋﺰﻡ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﻟﮑﮭﺎ :

"ﯾﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﻗﯿﺎﻡ ﮔﺎﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺗﮯ ﮨﻮئے ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﻣﺴﺎﺑﻘﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﮯ ﻭﮦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﺟﺎئے ﺗﺎ ﮐﮧ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﻧﺴﻠﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﻈﯿﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ۔"

ﺭﺍﺷﺪ ﻣﻨﮩﺎﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺟﮕﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯿﺎ :

"ﮨﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻃﻦ ﭘﺮ ﻧﺜﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮨﻢ ﺑﮩﺖ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔"

راشد منہاس کے یومِ شہادت کے دن ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز بھی پاکستان ائیر فورس اور راشد منہاس کے نام کر دئیے گئے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید