آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم عمران خان نے علاقائی سلامتی کی صورتحال اور خطہ میں امن کی کوششوں کا تسلسل جاری رکھنے کے لئے اپنا آئینی اور صوابدیدی اختیار استعمال کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مزید تین سال کے لئے چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کرنے کا جو بروقت فیصلہ کیا ہے، بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی اور بین الاقوامی سطح پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے طویل عرصہ بعد ایک بار پھر جو پیش رفت شروع ہوئی ہے اس کے تناظر میں اسے تزویراتی لحاظ سے نہایت دانشمندانہ اور دور رس نتائج کا حامل قرار دیا جائے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے درست کہا کہ موجودہ صورتحال میں دنیا کو یہ واضح پیغام دینا ضروری تھا کہ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت تسلسل اور یکسوئی کے ساتھ ایک پیج پر ہے۔ یہ حقیقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ جموں و کشمیر اور خطے کے حالات نیز افغانستان میں جاری امن عمل کے پیش نظر دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر لگی ہوئی ہیں جو ایک ایٹمی قوت ہے اور اسے ایک ایٹمی قوت بھارت کی جانب سے جارحانہ عزائم کا سامنا ہے۔ افغانستان میں تین عشروں سے جاری جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اس ضمن میں اپنا کردار کسی رکاوٹ کے بغیر ادا کرتا رہے، ایسے میں اس کی مشرقی سرحدوں پر جنگ کا خطرہ دنیا کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے

صدر ٹرمپ نے کشمیر کے مسئلے پر ثالثی کی پیشکش کی جسے بھارت نے مسترد کر دیا۔ 16اگست کو وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ سے پھر رابطہ کیا اور انہیں جارحانہ بھارتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے مودی سرکاری پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لئے کہا۔ صدر ٹرمپ نے پیر کی رات پہلے نریندر مودی اور بعد میں عمران خان سے براہ راست ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ دونوں ملک کشیدگی کا خاتمہ کریں اور امن قائم رکھیں۔ واشنگٹن میں وہائٹ ہائوس کے ترجمان کے مطابق صدر ٹرمپ نے تقریباً آدھ گھنٹہ تک بھارتی وزیراعظم مودی سے بات کی اور ان پر زور دیا کہ خطے کا امن برقرار رہنا چاہئے اور موجودہ کشیدگی کم کرنے کے لئے اقدامات کئے جانا چاہئیں۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے بھی اسی رات رابطہ کیا عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر کے مسئلہ پر سرگرم کردار ادا کرنے کو کہا تھا اور بتایا تھا کہ صورتحال اتنی تشویشناک ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مبصرین کو فوراً مقبوضہ کشمیر بھیجنا چاہئے تاکہ وہاں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دنیا کے سامنے لایا جا سکے، انہوں نے مقبوضہ ریاست میں کرفیو اور دوسری پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ پیر کو امریکی صدر نے وزیراعظم کو مودی سے ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا بعد میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں دوست وزرائے اعظم سے ان کی گفتگو اچھی رہی۔ عالمی دارالحکومتوں میں تنازع کشمیر اب سرد خانوں سے نکل کر سڑکوں پر آ گیا ہے اور کشمیری عوام کے حق میں زبردست مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی حالات بھارتی فوج کے بس سے باہر ہو رہے ہیں جس پر مودی سرکاری نے وہاں تشدد آمیز سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ پچھلے دو ہفتے میں 6ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، ان حالات میں بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کسی مہم جوئی کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس لئے حکومت اپوزیشن اور فوج کا ایک پیج پر ہونا انتہائی ضروری ہے۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے موجودہ صورتحال کو حالت جنگ سے تعبیر کیا ہے جس سے فوجی کمان کے تسلسل کے ساتھ ہی نمٹا جا سکتا ہے۔ اس لحاظ سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ایک دور اندیشانہ فیصلہ ہے، جنرل باجوہ کی قیادت میں پاک فوج نے سرحدوں کے دفاع اور آپریشن ردالفساد کے تحت دہشت گردی پر قابو پانے کے علاوہ عسکری سفارت کاری، اسلحہ سے پاک معاشرےکے فروغ، پائیدار امن کے قیام، ترقی کے لئے بلوچستان کو مرکزی حیثیت دینے، کے پی میں فاٹا کے انضمام، افغان سرحد پر باڑ کی تعمیر سمیت کئی قابل ستائش اقدامات کئے ہیں وہ نومبر 2022تک فوج کے سربراہ رہیں گے۔