آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معدنیات، بیش قیمت پتھر صوبے کی تمام ضروریات پوری کرسکتے ہیں

انٹرویو پینل : ……… سلطان صدیقی،گلزار محمد خان

عکّاسی : ……… فیاض عزیز

خیبر پختون خوا کے وزیرِ معدنیات، ڈاکٹر امجد علی کا تعلق سوات کے علاقے، شموزئی سے ہے۔ وہ سیاست سے وابستگی اختیار کرنےوالے اپنے خاندان کے پہلے فرد ہیں۔ انہوں نے شوکت خانم اسپتال کی تعمیر کے لیے فنڈ ریزنگ مُہم میں سرگرم کردار کیا اور پاکستان تحریکِ انصاف کے ابتدائی ارکان میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر امجد علی 2009ء میں پی ٹی آئی کے ضلعی صدر منتخب ہوئے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں سینئر سیاست دان، انجینئر امیر مقام کو شکست دے کر صوبائی اسمبلی کا حصّہ بنے اور کابینہ میں ہائوسنگ کے وزیر کے طور پر شامل ہوئے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے دونوں حلقوں میں کام یابی حاصل کی ،تو انہیں کابینہ میں شمولیت کی اطلاع طوافِ کعبہ کے دوران ملی۔ ڈاکٹر امجد علی سیاست کے ساتھ تبلیغی جماعت سے بھی وابستہ ہیں۔ گزشتہ دنوں ہماری ان سے ایک خصوصی نشست ہوئی۔ اس موقعے پر سیاست میں آمد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’’ مَیں سیاست میں قدم رکھنے والا اپنے خاندان کا پہلا فرد ہوں۔ دراصل، مَیں نے شوکت خانم اسپتال کی تعمیر کے لیے چلائی گئی فنڈ ریزنگ مُہم میں رضا کار کے طور پر بھرپور کردار ادا کیا تھا۔ لہٰذا، 1994ء میں جب عمران خان نے سیاسی جماعت کے قیام کا فیصلہ کیا، تو انہوں نے بہ ذریعہ خط مُجھے اس میں شمولیت کی دعوت دی، جسے مَیں نے قبول کر لیا ۔ 1997ء کے انتخابات میں پارٹی چیئرمین مُجھے ٹکٹ دینا چاہتے تھے، لیکن چُوں کہ اُس وقت ووٹر لسٹ تک میں میرا نام درج نہیں تھا، لہٰذا الیکشن میں حصّہ نہ لے سکا۔ 2002ء کے عام انتخابات میں مُجھے ایک بار پھر ٹکٹ کی پیش کش کی گئی، مگر مَیں نے انکار کر دیا۔ 2008ء کے عام انتخابات میں اپنی پارٹی کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلی کا امیدوار تھا، لیکن پھر ہماری جماعت نے انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا۔ 2013ء کے عام انتخابات میں پارٹی نے ایک بار پھر مُجھے ٹکٹ دیا ،تو میرے حلقے سے سینئر سیاست دان، انجینئر امیر مقام بھی امیدوار تھے۔ تاہم، میرے 15ہزار سے زاید ووٹوں کے مقابلے میں وہ صرف 8.5ہزار ووٹ حاصل کر سکے ۔ بعد ازاں، مُجھے 2014ء میں وزیرِ ہائوسنگ کے طور پر صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا۔‘‘ پی ٹی آئی کے پہلے دَورِ حکومت میں صوبائی وزیر کی حیثیت سے اپنی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہائوسنگ کی وزارت سنبھالنے کے بعد مَیں نے سرکاری ملازمین کے لیے ’’خپل کور ہائوسنگ اسکیم‘‘ (اپنا گھر ہائوسنگ اسکیم) شروع کی۔ اس اسکیم کے تحت حویلیاں، کوہاٹ، جلوزئی اور سوات میں کم لاگت والے گھروں کی تعمیر شروع کی گئی، جو آج بھی جاری ہے۔ ان خدمات کی بہ دولت ہی 2018ء کے عام انتخابات میں مُجھے صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے ٹکٹ دیا گیا اور مَیں نے دونوں ہی میں کام یابی حاصل کی۔ عمران خان مُجھے صوبائی حلقوں کے علاوہ قومی اسمبلی کا ٹکٹ بھی دینا چاہتے تھے، مگر مَیں نے انکار کر دیا۔ عام انتخابات کے بعد مَیں حج کی ادائیگی کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس دوران صوبائی کابینہ کی تشکیل کے لیے تمام سابق وزراء کو بنی گالہ طلب کیا گیا، جہاں اُن کے انٹرویوز ہوئے۔ تاہم، مَیں واحد وزیر تھا، جسے استثنیٰ حاصل تھا اور مُجھے کابینہ میں شمولیت کی اطلاع طوافِ کعبہ کے دوران بہ ذریعہ ایس ایم ایس ملی۔‘‘ جب ہم نے ڈاکٹر امجد علی سے استفسار کیا کہ انہوں نے وزارتِ ہائوسنگ کا چار سالہ تجربہ ہونے کے باوجود معدنیات کا قلم دان کیوں قبول کیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’ گرچہ مَیں اپنی وزارت کے علاوہ دوسرے محکموں کے بارے میں کماحقہ واقفیت نہیں رکھتا تھا، مگر مُجھے ماضی میں محکمۂ معدنیات میں ہونے والی کرپشن کی سُن گُن ضرور تھی۔ نیز، اس محکمے کے سابق وزیر، ضیاء اللہ آفریدی کو بد عنوانی کے الزام پر نیب نے گرفتار بھی کیا تھا۔ سو، جب مُجھے معدنیات کا قلم دان سونپے جانے کی اطلاع ملی، تو مَیں نے عمران خان سے کہا کہ ’’یہ تو بد نامِ زمانہ محکمہ ہے، اس کی وجہ سے میری ساکھ بھی خراب ہو جائے گی۔‘‘ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’تمہاری بات دُرست ہے، لیکن ہم نے محکمے کو ٹھیک کرنا ہے اور اسی لیے تمہارے حوالے کیا ہے۔‘ ‘توپارٹی چیئرمین کے اس جواب پر مَیں نے یہ نئی ذمّے داری قبول کی۔‘‘

معدنیات، بیش قیمت پتھر صوبے کی تمام ضروریات پوری کرسکتے ہیں
نمایندگانِ جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے

مائننگ پالیسی سے متعلق سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے صوبے، بالخصوص مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی علاقہ جات میں معدنیات اور بیش قیمت پتّھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اگر انہیں نکال کر استعمال میں لایا جائے، تو صرف ان سے ہونے والی آمدنی ہی سے پورے صوبے کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ بد قسمتی سے ماضی میں ذاتی مفادات کی وجہ سے معدنیات جیسے شعبے کو نظر انداز کیا گیا۔ پھر منرل گورنینس ایکٹ 2017ء میں بھی خاصی خامیاں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر اس کی وجہ سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے خواہش مند غیر مُلکی سرمایہ کاروں کی راہ میں، جن میں بیرونِ مُلک مقیم پاکستانی بھی شامل ہیں، رُکاوٹیں حائل ہیں۔ اس ایکٹ کے تحت صرف تین لیز زدی جا سکتی ہیں، جب کہ یہ پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ چناں چہ ہم معدنیات کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ’’فرسٹ کم، فرسٹ سَرو‘‘ کے نعرے کے تحت پالیسی وضع کر رہے ہیں۔ اسی طرح کوئلے کی تلاش کے حوالے سے ابھی تک 1974ء کی پالیسی نافذ العمل ہے اور اس کی وجہ سے بھی کافی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لہٰذا، مَیں نے متعلقہ افسران کو منرل پالیسی میں پائے جانے والے نقائص دُور کر کے اسے آسان اور سرمایہ کار دوست بنانے کی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ 5برس کے دوران صرف 150لیزز منظور کی گئیں، جب کہ 4ہزار سے زاید درخواستیں التوا کا شکار تھیں۔ مَیں نے متعلقہ افسران کو یہ ہدایت بھی کی کہ پہلے جمع کروائی گئی درخواستوں کو پہلے نمٹایا جائے اور کسی کی سفارش قبول نہ کی جائے۔ ہم نے گزشتہ 10ماہ کے دوران 1,500لیزز منظور کیں، جب کہ اس سے قبل گزشتہ 50برسوں میں صرف 1,208ٹھیکے دیے گئے۔ علاوہ ازیں، ہم کان کنی کے لیے نئے مقامات کی نشان دہی، نیلامی اور نگرانی بھی کر رہے ہیں۔ ماضی میں ایسے صرف 74مقامات تھے، جب کہ ہم نے 160مزید مقامات کی نشان دہی کی۔ جب ان کی نیلامی ہو گی، تو اس سے ملنے والی رقم سے صوبے کا ریونیو بھی بڑھے گا۔‘‘ غیر قانونی کان کنی کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات کی بابت انہوں نے بتایا کہ ’’ اس سلسلے میں ہم نے اضلاع کی سطح پر ڈپٹی کمشنرز کو 9ماہ کے دوران 1,143مراسلے بھیجے، جن میں سے 570مراسلے ایف آئی آرز میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ دراصل، جب مَیں نے معدنیات کی وزارت سنبھالی، تو اُس وقت نوشہرہ، صوابی، چارسدّہ اور پشاور میں ریت، بجری کی، جسے ’’وائٹ گولڈ‘‘ کہا جاتا ہے، غیر قانونی مائننگ کی شکایات عام تھیں۔ مَیں نے ایک ٹھیکے دار سے معلومات حاصل کیں، تو پتا چلا کہ وہ یومیہ 150گاڑیوں میں ریت ، بجری بھر کر فروخت کر رہا تھا اور اس طریقے سے ماہانہ کروڑوں روپے کما رہا تھا، جب کہ اس نےیہ لیز محض 12لاکھ روپے میں لی تھی۔ جب مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی، تو مَیں نے فوراً پرانے ٹھیکے منسوخ کر کے ریزرو پرائس میں اضافے کے ساتھ نئے ٹھیکے منظور کیے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی کان کنی کے خلاف مسلسل چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں اور اکثر مَیں خود بھی چھاپے مارتا ہوں۔ گرچہ کام کی کثرت کی وجہ سے میری کمر میں تکلیف شروع ہو گئی ہے، لیکن ان اقدامات کے نتیجے میں معدنیات سے ہونے والی آمدنی میں 147فی صد یعنی 68کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ نیز، غیر قانونی کان کنی کے جُرم میں ملوّث افراد سے بھی تقریباً ایک ارب 6کروڑ روپے کی ریکوری متوقّع ہے۔ اسی طرح محکمۂ آب پاشی کی طرف ہمارے 44کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔ ماضی میں محکمۂ معدنیات نے مذکورہ بالا معاملات کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا، لیکن ہم نے ہر قسم کے اندراجات کو قلم بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ سیمنٹ تیار کرنے والی فیکٹریز کی جانب سے غیر قانونی مائننگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ ’’ اس وقت پورے صوبے میں سیمنٹ تیار کرنے والی7فیکٹریز ہیں، جو صوبے کو صرف 20روپے فی ٹن ادا کرتی ہیں۔ اس مَد میں صوبے کو سالانہ 98کروڑ روپے ملتے ہیں، جب کہ انہی فیکٹریز سے جی ایس ٹی کی مَد میں وفاقی حکومت کو سالانہ 80ارب روپے مل رہے ہیں۔ ہم نے رائیلٹی میں اضافے کے علاوہ غیر قانونی مائننگ کا راستہ روکنا ہے اور وفاق سے فاریسٹ اور ہائیڈل انرجی کی طرح اس مَد میں ملنے والے جی ایس ٹی میں بھی اپنا حصّہ طلب کرنا ہے۔‘‘

ماربل انڈسٹری پر نافذ جی ایس ٹی سے متعلق کیے گئے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ’’اس حوالے سے وزیرِ اعظم سیکریٹریٹ میں ہونے والی میٹنگ کے دوران مَیں نے واضح کیا تھا کہ ماربل انڈسٹری پر جی ایس ٹی میں اضافے سے یہ شعبہ مزید کم زور جائے گا ۔ مَیں توقّع کرتا ہوں کہ اس فیصلے کو واپس لے لیا جائے گا۔‘‘ دریائے سندھ اور دریائے کابل سے چینی کمپنی کی جانب سے سونا نکال کر اپنے مُلک لے جانے کے سوال میں جواب میں انہوں نے بتایا کہ ’’سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب، میاں شہباز شریف نے اٹک کے قریب دریائے سندھ میں ایک چینی کمپنی کو کان کنی کا ٹھیکہ دیا تھا۔ گرچہ دریائے سندھ کی ریت میں سونا موجود ہے، لیکن یہ بات دُرست نہیں کہ چینی کمپنی دریا سے سونا نکال کر ساتھ لے گئی۔ البتہ اس سلسلے میں کابینہ کمیٹی کی سب کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے۔‘‘ کے پی کے میں ضم شُدہ قبائلی اضلاع میں کان کنی سے متعلق ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ ’’چُوں کہ ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں ہمارا منرل ایکٹ لاگو نہیں ہوتا، لہٰذا ہم اس حوالے سے ایس او پیز تیار کر رہے ہیں، جسے کابینہ سے منظور ہونے کے بعد اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ہم نے وہاں صرف کانوں کو لیز پر نہیں دینا، بلکہ ساتوں اضلاع میں دفاتر قائم کرنے کے علاوہ اسٹاف کا تقرر بھی کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے صوبے کی جیالوجیکل میپنگ نہیں کی گئی اور ابھی تک صوبے کا صرف 29فی صد حصّہ ہی ایکسپلور ہو سکا ہے۔ ہم قبائلی اضلاع سمیت پورے صوبے کی جیالوجیکل میپنگ کروائیں گے اور یہاں پائے جانے والے معدنی ذخائر نکال کر صوبے کے وسائل میں اضافہ کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ محکمۂ جنگلات اور محکمۂ سیّاحت کی فورس کی طرح 2017ء کے ایکٹ میں مجوّزہ 42ترامیم کے ذریعے محکمہ کے اے ڈیز کے مجسٹریٹس اور گارڈز کو بھی پولیس کے اختیارات دیے جائیں گے۔ آج صُورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے صوبے کا بیش قیمت پتّھر خام مال کی صورت برآمد کیا جاتا ہے اور ملائیشیا، تھائی لینڈ، چین اور بھارت سمیت دوسرے ممالک فنشنگ کے بعد اسے دُنیا بھر میں فروخت کر رہے ہیں۔ اس رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے ہم نے ایک چینی کمپنی سے مفاہمت کی یادداشت پر دست خط کیے ہیں، جس کے تعاون سے رشکئی اکنامک زون میں ان پتّھروں کی کٹنگ، پالشنگ اور مارکیٹنگ وغیرہ کے لیے ایک یونٹ قائم کیا جائے گا۔ اسی طرح ایک ملائیشین کمپنی سے بھی مذاکرات جاری ہیں۔ البتہ ترامیم کی منظوری کے بعد ہی اس ضمن میں پیش رفت ممکن ہو گی۔ ‘‘ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیرِ معدنیات کاکہنا تھا کہ ’’ماحول پر کان کنی کے اثرات کے جائزے کے لیے ایک کمیٹی موجود ہے، جس میں شامل محکمۂ ماحولیات، جنگلات، انڈسٹری اور سیّاحت کے اعلیٰ افسران اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ آیا مائننگ سے ماحول کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ غیر قانونی کاموں میں سرکاری محکموں کے اعلیٰ افسران ملوّث ہوتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے، سارے سرکاری افسران کرپٹ نہیں ہوتے۔ہوتا یہ ہے کہ ایمان دار افسران کو کُھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے، تاکہ بد عنوان افراد اپنی من مانی کر سکیں۔ مَیں نے آتے ہی ایسے سرکاری افسران کو اہم مناصب پر فائز کیا کہ جنہیں اُن کی شرافت و ایمان داری کی وجہ سے سائیڈ لائن کیا گیا تھا۔ مثال کے طور پر گریڈ 20کے سینئر افسر، فضل حسین کو، جو معدنیات کے حوالے سے اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں، چیف انسپکٹر آف مائنز تعینات کیا، جب کہ بد عنوانی میں ملوّث نصف درجن افسران کو معطّل کر کے اُن کے خلاف انکوائری اور تادیبی کارروائی کا حُکم بھی دیا۔ ‘‘

وزیرِ اعظم، عمران خان کی کارکردگی اور مُلک کی موجودہ صورتِ حا ل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ نبیٔ کریم، حضرت محمدﷺ میرے آئیڈیل ہیں، جب کہ قومی سیاست میں عمران خان پسندیدہ سیاست دان ، جو ہمیشہ اپنے ضمیر کی آواز پر لبّیک کہتے ہوئے صاف گوئی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی عمران خان سے بہت زیادہ توقعات وابستہ ہیں، لیکن 70برس کا’’ گند‘‘ ایک سال میں تو صاف نہیں ہو سکتا ۔جہاں تک اُن کے ’’یوٹرنز‘‘ کی بات ہے، تو جس طرح مُجھ سمیت کوئی بھی فرد ہر ایک کے معیار پر پورا نہیں اُتر سکتا، اسی طرح وزیرِ اعظم بھی سب کی امیدیں پوری نہیں کر سکتے۔ واضح رہے کہ سیاست میں جس قدر غلط فیصلے عمران خان نے کیے، اگر کوئی اور سیاست دان کرتا، تو اُس کا سیاسی سفر کب کا ختم ہو چکا ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو اُن کی اَن تھک محنت، دیانت داری اور خلوص کی وجہ سے کام یابی سے ہم کنار کیا۔ ہم اُن کے ویژن کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم کرپشن کرنے والے سابقہ حُکم رانوں کی گرفتاری پر خوش ہے۔‘‘ذاتی زندگی اور پسند و نا پسند سے متعلق کیے گئے سوالات کے جواب میں ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ ’’میری شادی والدین کی مرضی سے اپنی فرسٹ کزن سے ہوئی ، میری دو بیٹیاں اور دو ہی بیٹے ہیں۔ مَیں جنید جمشید مرحوم کی شخصیت اور تبلیغی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر تبلیغی جماعت کا رُکن بنا۔ کھیلوں میں کرکٹ، فُٹ بال، بیڈ منٹن اور ٹیبل ٹینس سے لگائو ہے۔ سبزیاں میری مرغوب خوراک ہیں اور تبلیغی جماعت کا رُکن ہونے کی وجہ سے کوکنگ میں مہارت رکھتا ہوں۔ سرکاری مصروفیات سے فراغت کے بعد باقی سارا وقت بیوی بچّوں اور والدین کے ساتھ گزارتا ہوں۔ گرچہ مُجھے پشاور میں سکونت اختیار کیے 6برس سے زاید کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن مخصوص مقامات کے علاوہ شہر کے دیگر حصّوں سے واقفیت نہیں رکھتا۔ مَیں کنسٹرکشن کے کاروبار سے وابستہ ہوں۔ اخوند زادہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف لوگ مجھ پر اعتماد کرتے ہیں، بلکہ میرے کاروبار میں بہ خوشی سرمایہ کاری بھی کرتے ہیں۔ فیصلوں کی طرح گھر کے لیے شاپنگ بھی خود کرتا ہوں۔ مذہبی گھرانا ہونے کی وجہ سے گھر میں ٹی وی موجود نہیں اور نہ ہی موسیقی سے رغبت ہے۔ ‘‘

سنڈے میگزین سے مزید