آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار15؍محرم الحرام 1441ھ 15؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے۔ قوم اس وقت حالتِ جنگ میں ہے۔ بھارت نے ہماری شہ رگ کاٹنے کی کوشش کی ہے اس کو منہ توڑ جواب دیا جانا چاہئے۔ پوری قوم سیاسی و عسکری قیادت کی پشت پر کھڑی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی قوم بھارت کے خلاف اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرے۔ اگر ہم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کسی قسم کی کمزوری دکھائی تو اس کے سنگین نتائج نکلیں گے۔ حکومت ایسی پالیسیاں مرتب کرے جن میں تسلسل ہو۔ پاکستان کی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ بھارت کی جانب سے بغیر اطلاع سیلابی ریلا چھوڑنا آبی جارحیت ہے۔ وہ دشمنی اور بغض میں مکمل طور پر اندھا ہو چکا ہے۔ بھارتی آبی جارحیت کے خلاف حکومت کو ٹھوس لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے۔ بھارت جب چاہے غیر علانیہ طور پر اچانک پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے پاکستان کے علاقے زیر آب آ جاتے ہیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ دریائے راوی، سندھ، ستلج اور چناب میں پانی کی سطح تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنا قابلِ مذمت امر ہے۔ عالمی برادری بھارت کے گھناؤنے کردار کی نفی کرتے ہوئے اس پر سفارتی دباؤ بڑھائے، وہ سوچی سمجھی سازش کے تحت علاقائی امن کو تہ و بالا کرنا چاہتا ہے، جس سے ڈیرھ ارب افراد کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔

دوسری جانب موجودہ حکومت کو ایک سال کا عرصہ ہو گیا، اس دوران اس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں دینے کے وعدے، مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن ختم کرنے کے دعوے سب ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں۔ بد حالی، بدامنی اور لاقانونیت عروج پر ہے۔ مہنگائی کی شرح آسمان سے باتیں کررہی ہے۔ 22کروڑ عوام کو ریلیف نام کی کوئی چیز میسر نہیں۔ گزشتہ 35سال میں عوام نے کرپشن، لوٹ مار اور قوم کی امانت میں خیانت کو دیکھا ہے جبکہ تبدیلی کے دعویداروں نےبھی قومی جذبات کو مجروح اور عوامی امیدوں کا خون کیا ہے۔ عوام کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ ملکی آبادی کا 40فیصد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ لوگوں کو دو وقت کی باعزت روٹی میسر نہیں۔ صنعت و تجارت کا پہیہ رکنے سے 10لاکھ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ ان کے گھروں میں نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کے قومی ادارے پی آئی اے، اسٹیل ملز، واپڈا، ریلوے سیاسی بھرتیوں کے باعث اب بھی خسارے میں جا رہے ہیں۔ کرپشن کی وجہ سےادارے تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ جب تک پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایماندار، پاک صاف اور باکردار قیادت میسر نہیں آجاتی ملکی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ ملک میں مسائل کے انبار لگے ہیں۔ لوگوں کے لئے دو وقت کی باعزت روٹی کمانا بھی مشکل ہو چکا ہے۔ کرپشن ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے اور بدعنوانی کے خاتمے تک ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ الحمدللہ آج ملک میں کرپٹ عناصر کا احتساب ہورہا ہے تاہم پاناما لیکس میں شامل دیگر پاکستانیوں کیخلاف بھی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں کرپشن کی انتہا ہو چکی ہے۔ اکثر سرکاری ادارے کرپٹ لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ لوگوں کو اپنے جائز کام کروانے کے لئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ تبدیلی کے دعویداروں نے عوام کو مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ پنجاب سمیت پورے ملک میں لاقانونیت ہے۔ صوبے میں آئین و قانون کی بالادستی کے لئے ضروری ہے کہ ان افسوسناک واقعات میں ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ حکمران خود تو سینکڑوں سیکورٹی گاڑیوں کے حصار میں گھومتے ہیں اور عوام کو اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ملک و قوم پہلے ہی اَن گنت مسائل کا شکار ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملکی حالات کو انتشار اور افراتفری کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق 2019کے پہلے چھ ماہ کے دوران جرائم کی شرح میں 18.7فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف صوبہ پنجاب میں مجموعی طور پر 2لاکھ سے زائد جرائم کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں جن میں سب سے زیادہ اغوا برائے تاوان کے 27واقعات سامنے آئے۔ دوسرے نمبر پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چوری کے واقعات میں 36فیصد اضافہ ہوا۔ پنجاب پولیس کے بجٹ میں ہر سال اضافے کے باوجود جرائم پر قابو پانے کی مناسب حکمت عملی نہ بن سکی۔ پنجاب میں رہزنی کی وارداتوں میں بھی خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ رواں سال جون تک رہزنی کے 6350مقدمات درج ہوئے جو گزشتہ سال کی نسبت 34.7فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال لڑائی جھگڑوں اور دشمنی کے مختلف واقعات میں 1550افراد کو قتل کردیا گیا جبکہ مختلف اضلاع سے 5835افراد کو اغوا کیا گیا۔ خواتین اور بچوں سے تشددکے 9فیصد اضافے کے ساتھ 1445واقعات رپورٹ ہوئے۔

ادارتی صفحہ سے مزید