آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کافی سال پہلے فیض احمد فیض کا ایک مکالمہ بڑا مشہور ہوا تھا۔ بقول راوی کسی نے فیض صاحب سے بڑے تشویشناک لہجے میں پوچھا کہ پاکستان کا کیا بنے گا۔ روایت ہے کہ اس کے جواب میں انہوں نے کہ ’’مجھے خوف ہے کہ یہ ایسے ہی چلتا رہے گا‘‘۔ جب یہ پہلی مرتبہ سنا تھا تو نیم سنجیدگی کے عالم میں کافی مزیدار لگا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ فیض صاحب نے بڑی معصومیت سے پاکستان کی ’تقدیر‘ کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا لیکن اب جب ’تقدیر‘ اور ’تدبیر‘ کی الجھنوں کا بہتر اندازہ ہونے لگا ہے (یا یہ بھی وہم ہے!) تو ملک عزیز کے مستقبل کے بارے میں خوف بڑھنے لگا ہے۔ دورِ قدیم کا ’تقدیر‘ کا تصور عہد حاضر میں ’تاریخی جبر‘ کے نام سے جانا جانے لگا ہے اور ’سیاسی معیشت‘ کے حوالے سے اس کا معروضی تجزیہ ہونے لگا ہے: یہ انسانی ذہنی نشو و ارتقا میں ادراک کی ایک نئی منزل ہے۔

ایک پہلو سے ذاتی اور اجتماعی سطح پر ’ادراک نو‘ باغ عدن سے نکالے جانے کے مترادف ہے: یعنی لا علمی کی فطری نعمت سے محروم ہونا ہے۔ علامہ اقبال نے آدم کے دانہ یا شجر ممنوع سے حظ اٹھاتے ہوئے بغاوت کرنے کے عمل کو انسانی شعور کا پیدا ہونا قرار دیا تھا یعنی انسان نے نفی کے ذریعے اپنی ہستی کی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ مرزا غالب اسی کو ’’ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتامیں تو کیا ہوتا‘‘۔ کہہ کرالمیہ رنگ دے دیتے ہیں۔ مشہور گائیک پٹھانے خان مرحوم جب نئے نئے لاہور آئے تھے تو پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس ہوسٹل میں میرے پاس ہی قیام کرتے تھے۔ ان کا وہ گانا جو بغیر طبلے کے صرف ہارمونیم پر سننے کو ملتا تھا وہ بہت کم لوگوں نے سنا ہے کیونکہ بعد میں تو ٹی وی اور ریڈیو کے آرکسٹرا نے ان کے گانے کی روح کو پامال کر دیا تھا۔ وہ بنیادی طور پر خواجہ غلام فرید کی کافی کے گائیک تھے لیکن بیچ بیچ میں کچھ دوہڑے بھی جوڑ دیتے تھے جن کے آخر میں کسی شاعر کا بھی نام ہوتا تھا۔ میرا خیال ہے یہ ان کی اپنی ہی تخلیق ہوتی تھی جس پر سوال کئے جائے پر وہ ہنس کر ٹال جاتے تھے۔ انہی میں سے ایک دوہڑا کے کچھ شعر تھے:

نہ ہاسے تاں خوش ہاسے ہُن ہاسے مار مکائی

بے دید ہاسے نت عید ہاسے ہن دید خرابت لائی

بے گوش ہاسے نت ہوش ہاسے، ہُن حالت حوش ونجائی

(جب نہیں تھے تو خوش تھے کیونکہ اب ہونے نے برباد کردیا ہے۔ جب دیکھنے سے عاری تھے تو عید کا سماں تھا لیکن اب قوت بصارت نے تباہی مچا دی ہے۔ جب سننے کو کان نہیں تھے تو ہوشمند تھے اور اب اسی نے ہوش کا خاتمہ کردیا ہے)۔

تو اب ادراک کی نئی کیفیت کے پس منظر میں فیض صاحب کا کہا دل دہلا دیتا ہے کیونکہ کسی بھی پہلو سے مثبت تبدیلی کے امکانات دور دور تک نظر نہیں آرہے۔ برصغیر میں دس سے زیادہ صدیوں میں کوئی ترقی نہیں ہوئی تھی سوائے اس کے کھشتریوں (جنگجوئوں) اور برہمنوں (مذہبی پروہتوں) کا ظلم بڑھتا رہا تھا: اس طویل دور میں ہماری طرح کے اربوں لوگ پیدا اور فنا ہو گئے۔ اس میں تبدیلی بیرونی حملوں اور چالیس سال پہلے پیداواری عمل کی تبدیلی کی وجہ سے آئی۔ اب تو اس طرح کے بیرونی حملوں سے سماجی ساخت تبدیل ہونے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور اب بہت لمبے عرصے تک کوئی تکنیکی انقلاب بھی نہیں آئے گا تو پھر اس میں ’’تمنا کا دوسرا قدم‘‘ کب اور کیسے آئے گا؟ کیا پاکستان صدیوں تک یونہی روایتی طاقتوں کی تجربہ گاہ بنا رہے گا؟

غالباً اسی ذہنی بے بسی اور آگے دیکھنے کے راستے میں کھڑی دیوار سے سر ٹکراتے ٹکراتے بے بنیاد سیاسی ایجنڈے پیش کئے جا رہے ہیں۔ انہی میں سے ’’پانچ چھ ہزار لوگوں کو الٹا کر ملک سدھارنے‘‘ کا نسخہ ہے اور اس کے الٹ قوم پرستوں کے ذریعے پاکستان کو توڑ کر نجات حاصل کرنے کا فارمولا ہے۔ نہ ہی لوگوں کو لٹکا کر ملک سدھرے ہیں اور نہ ہی قوم پرست ملک توڑ سکتے ہیں۔ ویسے بھی مختلف قومیتوں کے معاشی مفادات ہم ربط ہو رہے ہیں اور اس صورتحال میں علیحدگی کی کوئی با معنی تحریک ناممکن ہے۔ اگر پشتون پورے پنجاب اور سندھ میں اپنے کاروبار پھیلا لیں گے تو وہ ایک چھوٹے سے صوبہ تک اپنے آپ کو کیوں محدود کرنے کی نادانی کریں گے؟

سوائے چند بلوچ قبائل کے باقی سب کے معاشی مفادات وسیع تر پاکستان کے ساتھ مربوط ہیں۔ تاریخی حقیقت بھی یہ ہے کہ پچھلے چالیس سالوں میں تقریباً سارے پاکستان میں قوم پرستوں کے بجائے مرکز پرست سیاسی پارٹیوں کو ہی ووٹ ملے ہیں۔ قوم پرستی درمیانے طبقے کے محدود گروہوں کی مختلف علاقوں کی پس ماندگی کے خلاف جذباتی اور غیر منطقی فکری تحریک ہے جس کا عوام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ ان میں کچھ گروہوں کی جائز شکایات ہیں جن کا ازالہ ضروری ہے۔ ویسے دنیا کی تاریخ بھی بتاتی ہے کہ حکمران طبقوں کو کسی ملک کو متحد رکھنے یا توڑنے میں بنیادی دلچسپی نہیں ہوتی: حکمران طبقے اگر کسی علاقے پر ایک اکائی کی حیثیت سے حکومت کر سکتے ہیں تو فبہا اور اگر اس کے حصے بخرے کر کے اقتدار بچایا جا سکتا ہے توپھر یونہی سہی۔ جب سے مغربی پنجاب کے جاگیرداروں کے تخت لاہور پر حکومت کے امکانات معدوم ہوئے ہیں انکو علیحدہ صوبے کی ضرورت پڑ گئی ہے، کسی حد تک یہی حال سندھ پاکستان پیپلز پارٹی کا ہے۔

لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو کچھ ہورہا ہے وہ ٹھیک ہے۔ قطع نظر اس کے کہ پاکستان کے میڈیا میں ’’سارے جہاں میں دھوم ہمارے وطن کی ہے‘‘ کا تاثر عام ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان عالمی تنہائی میں شمالی کوریا کے آس پاس ہی کھڑا ہے۔ ان سب سے بڑی اور بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت تیزی سے سُکڑ رہی ہے اور اس کے مثبت رخ اختیار کرنے کے دور دور تک امکانات نہیں ہیں۔ پاکستان کے اپنے اور باہر کے سرمایہ کارراہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ اب صورتحال اس لئے بھی تشویشناک ہے کہ پہلے تو کسی نہ کسی وجہ سے معاشی ترقی ہو رہی تھی اور سب کہتر و مہتر اپنی معاشی حالت میں بہتری محسوس کرتے ہوئے سیاسی طور پر لا تعلقی کی عیاشی کے متحمل ہو سکتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ معاشی سکڑاؤ کا اظہار مہنگائی اور آمدنیوں میں کمی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جس سے لا تعلقی نا ممکن ہے۔ حکمرانوں کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو لیکن یہ ’حقیقت منتظر‘ کسی ’نئے لباس‘ میں آنے کے لئے بیتاب ہے! اور سب کچھ شاید ایسا ہی نہیں چلتا رہے گا۔