السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا ہی عجب قوم ہیں؟
تازہ شمارے کی آمد ہوئی۔ عروسی پہناوے سے آراستہ سرورق کچھ زیادہ دل کش تو نہیں تھا، البتہ مصرع ’’کہ جیسے رنگ دھنک کے کُھلی فضائوں میں…‘‘ ضرور اچھا لگا۔ ’’سنڈے اسپیشل‘‘ میں سیاست کی ہنگامہ خیزی پر فاروق اقدس نے ایک سنسنی خیز تحریر میں کئی انکشافات کر ڈالے۔ ویسے چیئرمین سینیٹ کو ہٹانےکامعاملہ بچگانہ ہی لگا۔ ’’سرچشمہ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی نےحضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی عظمت و وقار پر احسن قلم کشائی فرمائی۔ عالمی اُفق سے ہٹ کر حالات و واقعات پر مسند نشیں ہونے والے منور مرزا نے میثاق معیشت کا تفصیلاً جائزہ لیا، تو ’’لازم و ملزوم‘‘ میں ہمارے من پسند افسانہ نگار، پریم چند پر خُوب صورت سخن آرائی کی گئی۔ ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں ماہر امراضِ چشم، ڈاکٹر ضیاء المظہری سے کالے موتیے پر بات چیت مفید رہی، تو ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر شادی کے ضمن میں مختصراً اسٹائلشی تحریر قدرے بہتر تھی۔ پیارا گھر میں ’’درگزر کی عادت اپنائیں‘‘ ایک خاص الخاص تحریر تھی۔ واقعی ہمارے معاشرے میں برداشت کی عادت تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے۔ دسترخوان کی شان ’’سلاد‘‘ پر بھی اِک نگاہ ضرور کی۔ کہی اَن کہی میں خوش گفتار میزبان نصرت حارث کی گفتگو خاصی پُر اعتماد تھی۔ ہم ان کی بھرپورحمایت کرتےہیں کہ ’’اصلاحی مارننگ شوز ہی اصل شو ہیں‘‘۔ آپ کا صفحہ میں’’سر چشمہ ہدایت‘‘ کے بارے میں پھر کچھ سننے کو مل رہا ہے۔ پتا نہیں ہم بھی کیا ہی عجب قوم ہیں۔ شکریے کا ایک لفظ نہیں نکلتا منہ سے۔ میڈم! آپ بھی ڈٹ جائیں۔ ’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ کا صفحہ جہاں شایع ہوتا ہے۔ وہیں کیجیے،چاہے جتنے مرضی اعتراضات آئیں۔ قارئین نے تو اسلامی صفحے کی اشاعتی جگہ کو بھی مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ استغفراللہ ۔ (ملک محمد رضوان، محلہ نشیمن اقبال،واپڈا ٹاؤن، لاہور)
ج:یہی تو…اس قوم کی اس قدر فراغت ہی پر تو ہمارا خون بھی ہر وقت کھولتا رہتا ہے۔
اسٹریٹ کرکٹر کی کہانی
جنگ، سنڈے میگزین اپنی معیاری تحریروں اور موضوعات کےتنوّع کی وجہ سے قارئین میں خاصی پسندیدگی کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ مَیں اپنا ایک قسط وار ناول ’’پشیماں چاہتیں‘‘ ارسال کر رہا ہوں۔ یہ ایک اسٹریٹ کرکٹر کی کہانی ہے۔ جو اپنی محنت اور صلاحیت کے بل بوتے پر قومی ٹیم میں ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے میں کام یاب ہو جاتا ہے۔ نیز، ’’نئی کتابیں‘‘ کے زیر ِ عنوان میرے شعری مجموعے ’’خواب اور موسم‘‘ کا جس بھرپور انداز میں تعارف پیش کیا گیا، اُس پر میں آپ کا بےحد ممنون ہوں۔ بلاشبہ وطنِ عزیز میں شایع ہونے والے ادبی جرائد کے شانہ بہ شانہ جنگ، سنڈے میگزین ادب کے فروغ میں جو مثبت کردار ادا کر رہا ہے، اس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ (عزیز اعجاز، فیز7حیات آباد ،پشاور)
ج: آپ نے یہ جو ایک جِلد میں شایع شدہ تین عدد ناولز بھیجنے کی اس قدر زحمت اُٹھائی ہے، تو بھائی پہلےتھوڑی معلومات تو حاصل کرلیتے۔ ہمارے یہاں صرف وہی ناول شایع کیےجاتے ہیں، جو خاص طور پر ’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کے لیےلکھے گئے ہوں۔ اسکرپٹ کامعیاری ہونے کےساتھ نیاہونا بھی لازمی شرط ہے، وگرنہ تو ایک سے ایک ناول نگار موجود ہے، ہم پہ بھلا ایسی بھی کون سی اُفتاد پڑی ہے کہ چَھپا ہوا بھی چھاپیں، تو عزیز اعجاز صاحب کا۔ شوکت صدیقی، ابن صفی، بانو آپا، قراۃ العین حیدر یامستنصرحسین تارڑصاحب کےناولز نہ چھاپ دیں۔
افغان جہاد کی حقیقت
منور مرزا صاحب، پروفیسر منور مرزا مرحوم کے پَرتو لگتے ہیں۔ اُن کی تحریر کی پختگی بے مثال اور زبان و بیان خاصی عالمانہ ہے۔ مگر ان کا مضمون ’’عمران، ٹرمپ ملاقات، افغانستان محور ہوگا‘‘ پڑھ کر لگا کہ غالباً کسی دبائو کے تحت انہوں نے افغان جہاد 1979-88 کی حقیقت کو، جہاد مخالف گروہوں کی پھیلائی فضولیات کا ٹانکا لگا کر ساری تاریخ ہی مسخ کر ڈالی ہے۔ مَیں 1944ء سے تاریخِ تحریک ِآزادی اور تحریکِ پاکستان کا گواہ ہوں اور میرا حافظہ بھی بفضلِ خدا قوی ہے۔ مَیں نے بےشمار اخبارات و جرائد کے ذریعے جو جہادِ افغانستان سے متعلق پڑھا اور متعدد سیاست دانوں کی رائے کو حقیقت کی کسوٹی پر پرکھا، تو ہی اصل حقیقت تک پہنچا۔ اس لیے آسانی سے گمراہ نہیں ہوسکتا۔ جان لیجیےکہ جہاد افغانستان پہلے امریکا اور روس کی جنگ ہرگز نہ تھی۔ غاصب افغان حکمرانوں کی درخواست پر 1979ء میں روس نے اپنی فوجیں افغانستان میں داخل کیں، تو افغانستان کے مختلف غیور قبائل نے افغانستان کی پٹھو حکومت اور روسی فوجوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے۔ اِدھر پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے پاکستان کی طرف روسی یلغار کاخطرہ بھانپتے ہوئے افغان مجاہدین کو فوجی امداد پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ گرچہ جنرل ضیاء الحق کی حکومت کو سخت اندرونی مخالفت کا سامنا تھا اور بیرونی دبائو اور ڈراوا بھی تھا، لیکن انہوں نے مجاہدانہ قوّت سے فیصلہ کیا اور افغانستان میں مجاہدین کے متحدہ لشکر کی کمانڈ جنرل اختر عبدالرحمٰن کے حوالے کی، جب کہ وہ خود اس کے سپریم کمانڈر تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ امریکا، پاکستان کے روس جیسی خوف ناک سُپر پاور کے خلاف جنگ کے فیصلے پر انگشت بدنداں تھا۔ تاہم جب امریکا نے پاکستان اور مجاہدین کا پلّہ بھاری دیکھا تو اُس وقت کے صدر جمی کارٹر نے چالیس کروڑ ڈالرز امداد کی پیش کش کی، جسے جنرل ضیاء الحق نے یہ تاریخی جملہ کہہ کر لینے سے معذرت کرلی کہ ’’یہ کوئی مونگ پھلی کا سودا نہیں ہے‘‘ 1988ء کے اوائل میں جب مجاہدین نے پاکستان آرمی سے مل کر روس کو مکمل شکست سے دوچار کردیا تو امریکا کو خدشہ ہوا کہ جو مجاہدین پاکستان سے مل کر روس جیسی خوف ناک سُپرپاور کو شکست فاش دے سکتے ہیں، وہ اُسے بھی دنیا کی واحد سُپرپاور کے طور پر قبول نہیں کریں گے، لہٰذا اس نےوہی کیا،جس کاخدشہ تھا۔ جہادِ افغانستان کے ثمرات سبوتاژ کرنےکےلیےجنیوا جنگ بندی معاہدہ تیارکیا گیا اور پاکستان کے وزیرِاعظم، محمّد خان جونیجو سےکہاگیا کہ اس پر فوراً دستخط کردیں۔ مگرجنیوا معاہدے پر دستخط، محض دستخط نہیں، افغانستان کی تباہی کا پروانہ تھا۔ اس کے بعد کیا کیا ہوا۔ مُلک خانہ جنگ کی طرف چلا گیا۔ یہاں تک کہ جب ان وار لارڈز کا ظلم انتہا کو پہنچا تو طالبان نے کتاب، قلم چھوڑ کر دوبارہ اسلحہ سنبھال لیا۔ گیارہ ستمبر کا واقعہ ہوا اور اس کے بعد دنیا کی تاریخ ہی بدل گئی۔ اب آپ خود فیصلہ کرلیں کہ یہ افغانستان اور پاکستان کی بقا کی جنگ تھی یا خود امریکا کی جنگ۔ (میاں عبدالحمید خالد، کورنگ ٹائون،اسلام آباد)
ج :میاں صاحب! اس ضمن میں صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہم خود ذاتی طور پر اُسی اسکول آف تھاٹ کے فالور ہیں، جس کے آپ۔ لیکن کبھی کبھی کچھ باتیں موقع محل کی نزاکت دیکھتے ہوئے بھی کی جاتی ہیں۔ وہ کیا ہے ناں؎ اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل۔
تنقید کا نشانہ
’’عبداللہ (III)‘‘ کا آغاز تو اچھا ہی ہوا ہے، اب انجام خدا جانے۔ ویسے اس سات سالہ جیل کا قصّہ تو ابھی کافی چلے گا۔ دیکھتے ہیں، اہلِ زمانہ مجاز سے حقیقت تک کیسے پہنچتے ہیں۔ ’’عالمی اُفق‘‘ میں ایک نیا موضوع چِھڑاتھا، ’’ایران اور امریکا کے باہمی تعلقات‘‘ تو یہ نشیب و فراز دیرینہ ہیں، توجّہ مرکوز نہیں ہو سکتی، جب تک کسی نہج تک نہ پہنچ جائیں۔ البتہ برطانیہ کا تیل بردار جہاز اغوا کرنا قابلِ توجّہ امر ہے۔ ’’ناقابلِ فراموش‘‘ میں ’’اَسرار‘‘ کھلنے میں ذرا دیر ہوگئی۔ ویسے دونوں واقعات خُوب تھے۔ ’’آپ کا صفحہ‘‘ عُمدہ ہے کہ یہی تو ہمارے دل کو شاد اور مسرور کرتا ہے۔ آج کل ملیر کالونی سے تحریریں خُوب آرہی ہیں، اُن کی تو جیسےلاٹری نکل آئی ہے۔ ویسےمجھے لگتا ہےکہ جلد ہی ’’کراچی ازم‘‘ بھی شروع ہو جائے گا اور یہ سہرا شاید ’’سنڈے میگزین‘‘ ہی کے سر سجے۔ خادم ملک بے چارے بہت تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، اس کی وجوہ کیا ہیں؟ ہم تو ملک صاحب کی تحریر سے بے حد لُطف اندوز ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ہمیں جگا جٹ اور دُلّا بھٹی بھی یاد آجاتے ہیں۔ حیرت ہے، آپ کو ان کا اندازِ تحریر پسند نہیں۔ (ڈاکٹر محمد حمزہ خان ڈاھا،لاہور)
ج:دراصل خود آپ کے اندر بھی ایک خادم ملک چُھپا ہوا ہے، جو اکثر عیاں ہونے کی کوشش تو کرتا ہے، مگر ’’ایڈیٹنگ‘‘ کی نوک تلے کچلا جاتا ہے۔ اور یہ ایڈوانٹیج ہمیں ہر اُس تحریر میں مل جاتا ہے، جسے بلاوجہ طول دیا گیا ہو، مگر چوں کہ خادم ملک اپنے لٹھ مار اسٹائل کے ساتھ بھی ایک آدھ صفحے سے آگے نہیں بڑھتےتو عموماً خط پورا ہی شایع ہو جاتا ہے اور پھر ہمیں بھی کُھل کر عزت افزائی کا موقع مل جاتا ہے۔ رہی بات ’’کراچی ازم‘‘ کی تو اگر یہ گوہر افشانی آپ نے اس تناظر میں کی ہے کہ ہمارا تعلق کراچی سے ہے، تو ریکارڈ درست کر لیں، کراچی ہماری جائے پیدایش ضرور ہے، مگر اصلاً ہم کشمیری پنجابی ہیں۔
ہر مشکل کے بعد آسانی
تازہ شمارہ تازہ دَم، رنگا رنگ اور بہترین سرورق کے ساتھ ملا۔ ہمیشہ ہی مطالعے کی ابتدا ’’آپ کا صفحہ‘‘ سے ہوتی ہے، تو اس ہفتے بھی اِسی سے آغاز کیا۔ خطوط اور خطوط نگار سارے ہی جانے مانے تھے، خوب محظوظ کر گئے۔ مدیرہ صاحبہ نے تقریباً ہر خط کا جواب دیا، لیکن اس بار جوابات میں صحافتی ناقدری اور اخباری صنعت کا ایسا لہو رُلا دینے والا ’’کرب‘‘ موجود تھاکہ طبیعت بہت اُداس ہوگئی، دل سےاخباری صنعت سے وابستہ افراد کی بحالی، خوش حالی اور قدردانی کی دُعائیں نکلیں۔ ویسے دو تین ہفتے سے ’’ہرجائی توتا‘‘ غائب ہے، خاص الخاص چٹھی ’’محبت آمیز گلابی ربن اور سرخ پاش لفافے‘‘ میں پیش کی جا رہی ہے۔ کئی قارئین، صفحات میں کمی کی شکایت بھی کرتے ہیں، اُن سےدست بستہ التماس ہے، سب میگزین اور متعلقین و وابستگانِ میگزین کی ہر ممکن بقا کی دُعا فرمائیں کہ ہر ہفتے ہمیں مختصر ترین صفحات میں بھی دین و ہدایت، سیاست، صحافت، گھرگرہستی، عالمی احوال، انٹرویو، ادب، تعلیم، کتابوں پرتبصرے اورقارئین کی محفل وغیرہ سے مستفید ہونے کا موقع تو مل رہا ہے۔ بہرحال، ہرممکن تعاون کے لیے ہم بےبس قارئین بھی ہر لحظہ حاضر ہیں۔ سچ کہوں تو ’’جنگ، سنڈے میگزین‘‘ کے لیے ہماری جانیں بھی حاضر ہیں کہ اس جریدے نےہم سبھی قارئین پربڑےغیر محسوس احسانات کیے ہیں اور میرا تو یہ ایمان ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ بہرحال، مختصر تبصرہ پیش ہے، ’’قصص الانبیاء علیہم السلام‘‘ میں اس ہفتے محمود میاں نے حضرت دائودؑ پر لکھا اور ایک نادر تصویر بھی تحقیق کے ساتھ شایع کی گئی۔ جزاک اللہ۔ طلعت عمران نے مقبول مبلّغ اور نصاب ساز عالم شیخ شجاع الدین سے ملاقات کروا کے بہت سے ذہنوں کی گرہیں کھول دیں۔ مقبول ناول ’’عبداللہ‘‘ اپنے مخصوص انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں ڈاکٹر عزیزہ کی تحریر لاجواب تھی۔’’متفرق‘‘کےچاروں مضامین پسندآئے۔ ڈائجسٹ اور ناقابل ِ فراموش میں چَھپنے والے لکھاری بڑے ہی خوش نصیب ہیں کہ اوّل تو ’’لکھنا‘‘ جانتے ہیں، دوم ایک ماہر مدیرہ اُن کی تحریروں کی نوک پلک سنوارتی ہیں۔ سچ ہے کہ اگر نوآموز لکھاری کو ایک مشفق مدیر میسّر آجائے، تو اس کا قلم علم و ادب اور تحقیق و راہ نمائی کی بقاء کا ضامن بن جاتا ہے۔ (پروفیسر سید مجیب ظفر انوار حمیدی،گلبرگ ٹاؤن،کراچی)
ج:آج تو آپ نے ضرورت سے زیادہ سمجھ داری کی باتیں کر لیں۔ اہلیہ محترمہ سے نظر اُتروا لیجیے گا۔
دوسرے صفحے پر کیوں؟
’’سرچشمۂ ہدایت‘‘ دوسرے صفحے پر کیوں شایع ہوتا ہے، اس کو پہلے صفحے پر شایع کیا کریں۔ ہر کام اللہ تعالیٰ کے بابرکت نام سے شروع کرنا چاہیے اور اگر کوئی اعتراض کرے کہ ماڈل کی تصویر کے پیچھے ’’سرچشمہ ہدایت‘‘ کیوں شایع ہوتا ہے، تو سرورق پر ماڈل کی تصویر ہی شایع نہ کریں۔ کیا ماڈل کی تصویر کے بغیر سنڈے میگزین نہیں بِکے گا۔ (نواب زادہ خادم ملک، سعید آباد،کراچی)
ج: اور لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کو ’’بے چارے خادم ملک‘‘ کا اندازِ تحریر کیوں پسند نہیں۔ ؎ کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
بہت ا چھا تجزیہ
تازہ سنڈے میگزین میں ’’حالات و واقعات‘‘ پر ہمارے ہردل عزیز منور مرزا نے ’’عمران، ٹرمپ ملاقات‘‘ پر بہت اچھا تجزیہ پیش کیا۔ پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔ ’’سر چشمۂ ہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی نے حضرت دائود علیہ السلام پر بہترین مضمون تحریر کیا۔ ناول بھی زبردست جارہا ہے۔ ہاشم ندیم بہت اچھا لکھتے ہیں۔ پیارا گھر میں صحت بخش مشروبات، ذائقے دار بھی لگے۔ ’’متفرق‘‘ میں محمّد مظفر الحق فاروقی نے ’’چاند کہانی‘‘ خُوب لکھی اور ناقابلِ فراموش میں ’’قدرت خود حفاظت کرتی ہے‘‘ بھی بہترین کہانی تھی۔ (رونق افروز برقی، دستگیر کالونی، کراچی)
دھڑکنیں جامد کر دیں
لو جی، ہم نے بھی آخر قلم اُٹھا ہی لیا۔ بہت عرصے سے عالم یہ تھا کہ قلم اٹھاتے، مگر حوصلہ پست ہو جاتا۔ اِک ان جانا سا خوف تھا کہ خط کہیں ردّی کی نذر نہ کر دیا جائے یا اگر شایع بھی ہوا تو ہماری کم علمی، کم عقلی ہماری تذلیل کا باعث نہ بن جائے۔ خیر، پھر کمر کس ہی لی ہے۔ ایک طویل عرصے سے میگزین کے دیوانے ہیں۔ ابتداً صرف ’’ناقابلِ فراموش‘‘ ہی پڑھتے تھے، پھر ’’آپ کا صفحہ‘‘ کے کھٹے میٹھے خطوط بہت لُطف دینے لگے۔ اب تقریباً تمام ہی صفحات شوق کی تکمیل کا باعث بنتے ہیں۔ خصوصاً ناول، اور سچ کہیں تو آج قلم اٹھانے کی اصل وجہ بھی ’’عبداللہIII‘‘ کی اشاعت ہی ہے، جس نے ہماری دھڑکنیں جامد کر دی ہیں۔ بے صبری سے اگلی قسط کا انتظار رہنے لگا ہے۔ ’’کہی ان کہی‘‘ میں رمشا خان کی معصومانہ باتیں بہت متاثر کُن تھیں۔ ’’فیچر‘‘ بھی پسند آیا اور ’’ناقابلِ فراموش‘‘ تو آج بھی مَن پسند ہے۔ (بلال احمد خان، شاہ فیصل کالونی، کراچی)
ج:اپنی دھڑکنوں کو اعتدال میں لے آئیں۔ ناول تو ابھی لمبا چلےگا۔ایسانہ ہو ایکسائٹمنٹ، ایکسائٹمنٹ ہی میں ’’کارڈیو‘‘ میں حاضری دینی پڑ جائے۔
دلی مُراد پوری کر دی
آج پہلی مرتبہ سنڈے میگزین میں خط لکھ رہی ہوں۔ اللہ کرے میری تحریر آپ کے معیار کے مطابق ٹھہرے، ناقابلِ اشاعت نہ ہو۔ میگزین کا مطالعہ تو کافی سالوں سے کر رہی ہوں، پر خط لکھنے میں کوتاہی کرتی رہی۔ درحقیقت تمام تحریریں ہی لاجواب ہوتی ہیں۔ ہر ہر صفحہ آپ اور آپ کے اسٹاف کی محنت شاقّہ کا ثبوت معلوم ہوتا ہے اور ’’عبداللہ‘‘ کا تھرڈ پارٹ شروع کر کے تو آپ نے قارئین کی دلی مُراد پوری کر دی ہے۔ (حُرمت طاہر، راولا کوٹ، آزاد کشمیر)
ج:یعنی ’’دیر آید درست آید‘‘۔
معلومات، ہدایت و رہنمائی
سنڈے میگزین حسبِ روایت اعلیٰ معلوماتی مضامین اور نگارشات پر مشتمل تھا۔ ’’سرچشمٔہ ہدایت‘‘ سے لے کر آپ کا صفحہ تک ہر ہر سلسلے سے کچھ نہ کچھ ہدایت و رہنمائی اور معلومات ضرور حاصل ہو جاتی ہیں۔ (شری مرلی چند،گوپی چند گھوکلیہ، شکارپور)
فی امان اللہ
اس ہفتے کی چٹھی
شمارہ موصول ہوا ۔ میری چٹھی کو اعزاز دینے کا شکریہ۔ بجا فرمایا آپ نے کہ ہم ’’ثنا خوانِ تقدیس مشرق‘‘ کےمطالبے کی مزاحمت نہ کرسکے۔ دراصل ہم نے اس بات کو ایزی لیا کہ جیسے ڈیڑھ دو سال قبل تک ہر دوسرے خط میں ناول شروع کرنے کا مطالبہ ہوتا تھا، پھر شاذونادر ہی کوئی ذکر کرتا۔ اِسی طرح ان کا رولا بھی آپ ہی آپ کم ہو جائے گا۔ سرورق پر ماڈل دوپٹے سے دھنک رنگ دکھا رہی تھی تو فاروق اقدس نے سیاست کی ہنگامہ خیزی پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ سیاست دانوں کی بدعنوانیوں کے قصّے پڑھتے اور سُنتےتو کان پک گئے ہیں۔ احتساب احتساب کا شور بھی کئی سالوں سے مچا ہوا ہے، مگر عوام کو اس ساری بکواس سے کیا حاصل۔ منہگائی، غربت، بے روزگاری کا عفریت تو اب سروں پہ چڑھ کے ناچنے لگا ہے۔ ہم سے کوئی مخلص نہیں، سب نمبر گیمز میں لگے ہیں۔ زردار ہوں، نُونیے ہوں یا انصافیے، کوئی عوام کا سگا نہیں۔ خیر، بقیہ شمارے پر بات کرتے ہیں۔ ’’سر چشمہ ٔہدایت‘‘ میں محمود میاں نجمی اس بار حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کے ایمان افروز حالات بیان کر رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ قدیم بنی اسرائیل کی فطرت میں نافرمانی، سرکشی تھی۔ اُس نے بڑے بڑے عذاب بُھگتے، مگر سرکشی سے باز نہ آئی۔ منور مرزا حکومت اور اپوزیشن کو ’’میثاقِ معیشت‘‘ کی اہمیت و افادیت سمجھاتے دکھائی دیئے، مگر ہمارےخیال میں تو یہ بھینس کے آگے بین بجانے والی ہی بات ہے۔ سیاست دانوں کو ذاتی مفاد کے سوا بھلا کہاں کچھ سوجھتا ہے۔ کہاں کی معیشت، کیسی ترقی، یہ تو بس قوم کو جھوٹے وعدوں، دعووں ہی سے بہلاتے رہیں گے۔ ڈاکٹر قمر عباس مشہور افسانہ نگار، منشی پریم چند کی زندگی کی کہانی سُنا رہے تھے۔ ناقدین نے انہیں افسانہ نگاری کا بادشاہ قرار دیا ہے، تو غلط قرار نہیں دیا، مگر ایک بات، جس کا تذکرہ قمر عباس نے نہیں کیا (غالباً وہ مِدحت میں مُنقِصت پیدا نہیں کرنا چاہتے تھے) وہ یہ کہ پریم چند نے آخری وقتوں میں مسلمانوں کے علیحدہ وطن کے مطالبے کے بعد اُردو میں لکھنا ترک کردیا تھا کہ یہ مسلمانوں کی زبان ہے اور مسلمان علیحدگی کامطالبہ کررہے ہیں۔ وہ تعصب کا شکار ہوگئے تھے۔ حالاں کہ انہیں اُردو ہی نے شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا، اُن کے ہندی افسانوں کو توکچھ خاص پذیرائی ہی نہیں مِلی۔ خیر، ’’ہیلتھ اینڈ فٹنس‘‘ میں رئوف ظفر نے ماہر امراضِ چشم، ڈاکٹر ضیاء المظہری سے بات چیت کی،جوکہ حددرجہ مفیدثابت ہوئی۔ ’’سینٹر اسپریڈ‘‘ پر عالیہ کاشف نے عروسی پہناووں کا ذکر چھیڑا۔ ’’پیارا گھر‘‘ میں فرحی نعیم درگزر کی عادت اپنانے کی نصیحت کرتی نظر آئیں۔ واقعی درگزر سے بڑے بڑے اختلافات، اتحاد میں بدل جاتے ہیں۔ حافظ مسعود احمد نے سوہانجنا کی افادیت بھی خُوب بیان کی۔ اینکر،میزبان نصرت حارث سےشفق رفیع کا انٹرویو لاجواب تھا۔ سوالات عُمدہ تو جوابات بھی کمال۔ یہ جان کر تو بہت ہی خوشی ہوئی کہ نصرت نے شادی کے بعد کیریئر کا آغاز کیا۔ لڑکیوں کے لیے یہی بہتر رہتا ہے۔ ناقابل فراموش کی دونوں کہانیاں متاثر کُن تھیں، تو ڈاکٹر ذکیہ بتول دہائیوں سے جاری فرسودہ نظامِ تعلیم پردُہائیاں دے رہی تھیں، اور بالکل صحیح دے رہی تھیں۔ (شہزادہ بشیر محمّد نقشبندی، میر پورخاص)
ج: سیاست دانوں سےمتعلق آپ کے نظریات سے سو فی صد اتفاق کرتے ہوئے آج کی بزم کی ’’راج گدی‘‘ ایک بار پھر آپ کے نام۔
گوشہ برقی خُطوط
ج: رمضان المبارک، عید اور ابھی 14 اگست کے موقعے پرجو شوٹس کروائےگئے، اُن میں مرد موجود تو تھے۔ اب آپ کی فرمایش ہے تو اُن کے الگ سے بھی کروالیا کریں گے۔
ج: خوش آمدید ازکیٰ ۔ تم جیسے معصوم، پیارے اور بے ضرر لوگ تو آج کے دَور میں عنقا ہیں۔ اب آتی جاتی رہنا۔ پہلی اینٹری بھی اچھی لگی ہے، اُمید ہے تمہارا دوبارہ آنا بھی اچھاہی لگے گا۔
٭میگزین مَن پسند ہے۔ زیادہ تر سلسلے اچھے لگتے ہیں۔ ایک فرمایش ہے، ایمن خان کا انٹرویو بھی کروائیں۔ (افشاں الیاس راجپوت، مر غزار کالونی، لاہور)
ج: ہمارے یہاں تو فن کاروں سے لے کر ہر طبقۂ فکر کی نمائندگی کرنے والے افراد کے انٹرویوز مستقلاً شایع ہوتے ہیں۔ پتا نہیں، آپ کو یہ غلط فہمی کیوں کر ہو گئی۔
ج: جب آپ کے گھر میگزین ہی نہیں آتا، تو مضمون چھپوانے کی خواہش بھی کیوں کر بیدار ہوگئی۔ بہرحال، ہمارےلیےکسی ایک مضمون سےمتعلق اس طرح آگاہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ جریدے کا باقاعدگی سے مطالعہ کریں۔ قابلِ اشاعت مضامین باری آنے پر شایع ہوجاتے ہیں اور ناقابلِ اِشاعت کی فہرست بھی چھاپ دی جاتی ہے۔
قارئینِ کرام!
ہمارے ہر صفحے ، ہر سلسلے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیجیے۔ اس صفحے کو، جو آپ ہی کے خطوط سے مرصّع ہے، ’’ہائیڈ پارک‘‘ سمجھیے۔ جو دل میں آئے، جو کہنا چاہیں، جو سمجھ میں آئے۔ کسی جھجک، لاگ لپیٹ کے بغیر، ہمیں لکھ بھیجیے۔ ہم آپ کے تمام خیالات، تجاویز اور آراء کو بہت مقدّم ، بے حد اہم، جانتے ہوئے، ان کا بھرپور احترام کریں گے اور اُن ہی کی روشنی میں ’’سنڈے میگزین‘‘ کے بہتر سے بہتر معیار کے لیے مسلسل کوشاں رہیں گے۔ہمارا پتا یہ ہے۔
نرجس ملک
ایڈیٹر ’’ سنڈے میگزین‘‘
روزنامہ جنگ ، آئی آئی چندریگر روڈ، کراچی
sundaymagazine@janggroup.com.pk