آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات19؍محرم الحرام 1441ھ 19؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دو ہفتے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک ذمے دار نے ویسٹ انڈیز کے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر کورٹنی والش کے ایجنٹ کو جمیکا میں فون کر کے کہا کہ پی سی بی کا پینل کورٹنی والش کا بولنگ کوچ کے لیے انٹر ویو لینا چاہتا ہے۔

کورٹنی والش کے ایجنٹ نے فون تو ریسیو کر لیا لیکن وہ نیند سے جاگ کر غنودگی میں کہہ رہا تھا کہ جناب اس وقت کنگسٹن جمیکا میں رات کے دو بجے ہیں، آدھی رات کو کورٹنی والش کو نیند سے جگانا ممکن نہیں ہے، آپ صبح کال کر لیں میں ان سے بات کر کے انٹر ویو کا وقت لے لوں گا۔

پی سی بی کے حد درجہ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان سے فون کرنے والے کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس وقت ویسٹ انڈیز میں آدھی رات ہے، اگلے دن انٹر ویو کا وقت طے ہوا جس کے بعد کورٹنی والش کا انٹر یو لیا گیا، لیکن اس سے پہلے ہی پی سی بی وقار یونس کو بولنگ کوچ بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا، یہی وجہ تھی کہ وقار یونس نے اپنی اہلیہ کے ساتھ سڈنی سے لاہور کا سفر کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں جب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ کے انٹرویوز ہو رہے تھے تو انٹرویو لینے والے پینل کے سامنے بولنگ کوچ کے لیے ایک ہی نام وقار یونس کا سامنے آیا جس پر پینل نے حیرت کا اظہار کیا، کیوں کہ ہیڈ کوچ کے لیے مصباح الحق اور محسن حسن خان کے درمیان مقابلہ تھا۔

وہاں انٹر ویو کے ساتھ ہی مصباح الحق فیورٹ بن گئے تھے، دونوں نے لاہور میں انٹر ویو دیا، پینل کے اعتراض پر کہ بولنگ کوچ کے لیے صرف وقار یونس نے ہی اپلائی کیا ہے تو اچانک کورٹنی والش کے ایجنٹ کو نیند سے جگایا گیا۔

وسیم خان، ذاکر خان، اسد علی خان، بازید خان اور انتخاب عالم پر مشتمل کمیٹی نے مصباح اور وقار یونس کو تین تین سال کے لیے ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ بنانے کی منظوری دی جبکہ مالی معاملات پی سی بی نے خود طے کیے، مصباح کو چیف سلیکٹر کی اضافی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پینل نے انٹرویو شروع کیے تو انہیں سب سے پہلے یہ بتایا گیا کہ ہم نے ہیڈ کوچ اور بولنگ کوچ پاکستانی ہی مقرر کرنا ہے، اس لیے ہیڈ کوچ کے لیے ڈین جونز اور یوہان بوتھا پہلے ہی مرحلے میں آؤٹ ہوگئے، جبکہ بولنگ کوچ کے لیے جلال الدین اور یاسر عرفات کو پی سی بی نے خود ہی شارٹ لسٹ کر لیا تھا، دونوں کے انٹر ویوز سے گریز کیا گیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے لیے مصباح الحق، محسن خان کے علاوہ رسمی طور پر آسٹریلیا کے ڈین جونز اور جنوبی افریقہ کے یوہان بوتھا نے انٹرویوز دیے تھے، ڈین جونز اور یوہان بوتھا کے انٹرویوز ویڈیو لنک کے ذریعے کیے گئے۔

بولنگ کوچ کے لیے وقاریونس اور ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر کورٹنی والش کے انٹرویوز ہوئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بیٹنگ کوچ کے لیے بھی درخواستیں طلب کی تھیں تاہم اس عہدے کے لیے انٹرویوز نہیں ہو سکے ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کا عہدہ مکی آرتھر کے جانے سے خالی ہوا تھا جن کے عہدے کی مدت ورلڈ کپ کے بعد ختم ہو گئی تھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے معاہدے میں توسیع نہیں کی تھی۔

ہیڈ کوچ کے علاوہ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور بولنگ کوچ اظہر محمود کے معاہدے بھی ختم ہو گئے تھے جن کی توسیع نہیں کی گئی۔

مصباح الحق ہیڈ کوچ کے لیے درخواست دینے والے آخری امیدوار تھے جس کے لیے انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید