آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍جماد ی الثانی 1440ھ 17؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میری دانست میں سیاسی اور خاص طور پر جمہوری سیاست کے ضابطہ اخلاق کے تحت یہ ہرگز مناسب نہیں ہوتاکہ عوامی فلاح و بہبود اور لوگوں کے فائدے کے کسی بھی پروگرام ،منصوبے یا کارکردگی کی مخالفت کی جائے اور اسے تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ جب محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی دوسری حکومت کے دوران”موٹرے وے“ کی تعمیر روک دی گئی تھی تو ان کالموں میں اس کی مذمت کی گئی تھی اوریہی وجہ ہے کہ جب میاں شہباز شریف کی حکومت پنجاب نے چودھری پرویز الٰہی کے دور حکومت کے ایک بہت اچھے عوامی فلاحی پروگرام”1122“ کو جاری رکھنے اور مزید اضلاع تک پھیلانے کا فیصلہ کیا تو ان کالموں میں اس فیصلے کی تعریف کی گئی تھی۔
جانتا ہوں کہ بعض حلقے”میٹرو بس سکیم“ کے منصوبے پر بہت زیادہ اخراجات کا رونا روتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس پر اخراجات صرف30ارب روپے تک ہی محدود نہیں ہیں70ارب روپے سے بھی تجاوز کرچکے ہیں۔ کچھ عناصر کے خیال میں میٹرو بس سروس کے منصوبے کے مقابلے میں وہ منصوبہ بہتر تھا جس کو مسترد یا منسوخ کرکے یہ منصوبہ شروع کیا گیا۔ اس نوعیت کی شکایات بھی منظر عام پر لائی گئی ہیں کہ میٹرو بس سروس کے منصوبے کی تکمیل کے لئے عام لوگوں کو پہنچنے والی تکالیف کو نظر انداز کیا گیا ہے اور لوگوں کے معاملات زندگی میں ضرورت سے زیادہ دخل

اندازی کی گئی ہے مگر اس حقیقت کو کوئی نظر انداز نہیں کرسکتا کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں مذکورہ بالا نوعیت کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں اور اس عملدرآمد کے سلسلے میں کچھ لوگوں اور اداروں کو تکالیف اور مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر منصوبوں کی تکمیل کے بعد بعض عارضی اور فروعی مشکلات پر قابو پالیا جاتا ہے جیسے کہ موٹر وے کی تکمیل کے بعد بیشتر عناصر اتفاق کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ثابت ہوا ہے ۔توقع کی جاسکتی ہے کہ میٹرو بس منصوبے کی تکمیل اور اس پر عملدرآمد کے بعد اسے بھی لاہور کے شہریوں کے لئے کار آمد تصور کیا جائے گا۔ابتداء میں سیاسی اور خاص طور پر”جمہوری سیاست کے ضابطہ اخلاق“ کی بات کی گئی تھی کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ جمہوری سیاست کا کوئی ضابطہ اخلاق ہے ہی نہیں اور یہی سب سے ز یادہ افسوس کی بات ہے کہ ہم جمہوری سیاست کو بھی اقتدار کی دوسری لڑائیوں کی طرح ایک لڑائی سمجھتے ہیں اور ایسی جنگ قرار دیتے ہیں جس میں کچھ بھی کرنا جائز ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہے ۔ جمہوری سیاست میں سیاست سے زیادہ جمہوریت کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے کیونکہ جمہوری سیاست میں سیاسی فائدے اٹھانے سے زیادہ جمہوریت کی بقا ء کا خیال رکھنا ضروری اور لازمی ہوتا ہے۔ پاکستان میں جمہوری سیاست کی بحالی کے باوجود اگر غیر جمہوری عناصر غلبہ حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اور ہماری سیاسی جماعتوں نے جمہوری سیاست کی تقاضوں کا احترام نہیں کیا جس کی وجہ سے غیر جمہوری عناصر کو آگے بڑھنے کی سہولت نصیب ہوئی ہے اور انہوں نے اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ غیر جمہوری عناصر آپس میں متحد اور متفق ہیں جبکہ جمہوریت پسند عناصر اختلافات اور آویزشوں کے نرغے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کے اوپر کرپشن اور بددیانتی کی افواہوں کے الزامات کی بھرمار کرتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعے جمہوری سیاست کے خلاف سازش کررہے ہیں اور اپنے دشمنوں کی راہیں ہموار کررہے ہیں۔ اس معاملے میں ا ن کا کردار خود کش حملہ آوروں کے کردار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں