آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تین بار خاتون اول بننے کے باوجود بناوٹ ان سے کوسوں دور تھی، انہوں نے خود کو سیاسی اکڑفوں سے مکمل طور پر مبرا رکھا، ‎وہ بیک وقت رحم دل شفیق ترین ماں، وفادار شریک حیات اور غمگسار بہن تھیں۔ تحمل و بردباری سے معاملات کو نمٹانا انکے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ وہ نہ صرف کامیاب نواز شریف کے پیچھے کھڑی ہوتی تھیں بلکہ پورے خاندان کو یکجا کرنے کی ذمہ داری بھی احسن طریقے سے نبھاتی رہیں۔؎ خاندان کے مابین اختلافات کی تمام تر ریشہ دوانیوں پر مبنی خبروں کو کمال مہارت سے زائل کرتی رہیں۔ 12اکتوبر 1999کو جب پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہیں نظربند کردیا گیا۔ مریم نواز گواہ ہیں کہ جب سیاست کے نام نہاد بڑے برجوں اور شہسواروں نے مسلم لیگ نواز کا ساتھ چھوڑا تو اس وقت بھی خدائے وحدہٗ لاشریک پر غیر متزلزل یقین رکھنے والی اس خاتون نے چار دیواری تج کر دی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں انمٹ سیاسی کردار ادا کرتے ہوئے وقت کے آمر کو للکارا۔ 2000میں وہ پولیس کو چکمہ دیکر سڑک پر نکل آئیں اور ایک بڑی ریلی کی قیادت کی تاہم پولیس نے انہیں ایک بار پھر حراست میں لے لیا۔ رگوں میں غلام محمد بخش المعروف گاما پہلوان کا خون لئے وہ آخری وقت تک مقابلہ کرتی رہیں۔ جب جب شریف فیملی پر برا وقت آیا اور میاں نواز شریف مشکلات کے بھنور میں

پھنسے، انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ گھریلو خاتون کا لبادہ اتارتے ہوئے اپنا فرض نبھایا اور مردانہ وار ڈٹ کر مصائب کا مقابلہ کیا۔ ان کی زندگی عزم و ہمت سے عبارت رہی، وہ کبھی بھی کسی بھی آمریت سے خوفزدہ نہ ہوئیں۔ جب میاں نواز شریف کو غلط بنیادوں پر نااہل کیا گیا تو کلثوم نواز صاحبہ نے اسی سیٹ پر الیکشن جیتا۔ ‎ان کی جمہوریت کے لئے قربانیوں اور عزم کی بنا پر میاں نواز شریف نے انہیں مسلم لیگ کا صدر نامزد کیا۔ دھرنے اور پانامہ کے ڈرامے نے جب پوری قوم کو نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا کیا تو شدید بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود کلثوم نواز میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑی رہیں تاہم ان کا مدافعتی نظام تیزی سے شکست و ریخت کا شکار ہونے لگا۔ متعدد بار ان کی کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی کی گئی۔ گلے کا آپریشن بھی کیا گیا لیکن ان کی حالت بگڑتی گئی جوں جوں دوا کی۔ جون 2018میں جب انہیں دل کا دورہ پڑا تو ڈاکٹروں نے کلثوم نواز صاحبہ کی حالت بارے واضح طور پر دعا کرنے کا کہہ دیا تھا۔ کون نہیں سمجھتا کہ جب ڈاکٹر دعا کرنے کا کہہ دیں تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ کلثوم نواز صاحبہ کو لم فوما کینسر کی تشخیص کی گئی تھی، اس میں مریض کا مدافعتی نظام کمزور ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ جیسے ہی کلثوم نواز صاحبہ کی حالت محفوظ حد سے باہر ہو گئی ڈاکٹروں نے انہیں وینٹی لیٹر پر ڈال دیا۔ ایک طرف بائو جی کی شریک حیات موت و حیات کی کشمکش میں لمحہ لمحہ موت کے منہ میں جارہی تھیں تو دوسری جانب بے رحم اور بے ضمیر افراد انتہائی ڈھٹائی سے ان کا خوفناک میڈیا ٹرائل کر رہے تھے۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ امت محمدی کے دعویداروں نے کلثوم نواز صاحبہ کو بستر مرگ پر بھی نہ بخشا۔ ان کے پورے خاندان کو طنز کا نشانہ بنایا گیا جس پر ان کی ذہنی حالت حالت کیا ہوئی ہوگی یہ تو صرف وہی بتا سکتے ہیں۔ بعض افراد نے تو اتنے وثوق سے ان کی بیماری کو یوں جعلی قرار دیا کہ جیسے وہ آنکھوں دیکھا حال سنا رہے ہوں یا پھر ڈاکٹری رپورٹ انہوں نے ملاحظہ کی ہو۔ منصوبہ بندی کے تحت ہر روز سینکٹروں انصافی لندن میں ان کے فلیٹ کے باہر جمع ہوکر یوں طوفان بدتمیزی برپا کرتے تھے کہ ایسا تو انہوں نے کبھی ملک دشمن کے ساتھ بھی نہ کیا ہو گا۔ ان کے اہل خانہ کی راستوں میں چلتے ہوئے طنزیہ وڈیوز بنائی گئیں، ان کا ٹھٹھہ اڑایا گیا۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایک بے شرم انصافی نے کلینک میں گھس کر کلثوم نواز صاحبہ کی وڈیو بنانے کی ناکام کوشش بھی کی۔ سب پر عیاں ہے کہ وہ یہ کسی کے ایما پر کر رہے تھے جلد وہ وقت آجائے گا جب تمام سراب طشت از بام ہو جائیں گے، پچھتانے والوں کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ ان سب کو اللہ کے حضور معافی مانگنا چاہئے۔ کلثوم نواز شریف صاحبہ کے انتقال میں ہم سب کے لئے ایک سبق ہے کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن بنیادی انسانی و اخلاقی قدروں کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ یہ ظالم لوگ اس وقت بھی جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے جب میاں نواز شریف اور مریم نواز دونوں اپنے قیمتی ترین فرد کو بستر مرگ پر چھوڑ کر وطن واپس آگئے اور خود کو قانون کے حوالے کردیا۔ 11ستمبر کو میاں نواز شریف کو احتساب عدالت میں پیشی کے دوران کلثوم نواز صاحبہ کی طبیعت بگڑنے کی خبر دی گئی۔ بعد ازاں شام کو جیل میں جب انہیں کلثوم نواز صاحبہ کے انتقال کی خبر دی گئی تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دئیے اور دیر تک اسی حالت سوگ میں رہے، جیل کے اہلکار بھی آبدیدہ ہو گئے۔ میاں نواز شریف نے جیل افسر سے کہا کہ مجھے مریم کے پاس لے چلو۔ مریم اچانک انہیں اپنے سیل میں دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔ میاں نواز شریف نے بازو پھیلائے اور مریم کو گلے لگا کر زارو قطار رونا شروع کردیا۔ تھوڑی دیر بعد بولے کلثوم ہمیں چھوڑ گئی ان ظالموں کو جھوٹا ثابت کرنے کیلئے ہائے کلثوم کو مرنا پڑا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)