پاکستان کے موجودہ اندرونی و بیرونی قرض کے ساتھ آئندہ 5 برس میں قرض کا حجم کس حد تک پہنچ جائے گا، تفصیلات سامنے آگئیں۔
وزارت خزانہ نے موجودہ قرض اور آئندہ 5 سال کے قرض کی تفصیلات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو جمع کرادیں۔
پاکستان کا اندرونی و بیرونی قرض کل ملا کر 31 ہزار 19 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جو پاکستان کے جی ڈی پی کا 80 اعشاریہ 4 فیصد ہے۔
دستاویز کے مطابق پاکستان کی جی ڈی پی کا حجم اس وقت 38 ہزار 559 ارب روپے ہے جبکہ قرض 31 ہزار 19 ارب تک پہنچ چکا ہے، ان اعداد و شمار میں آئی ایم ایف سے لیا گیا قرض شامل ہے۔
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق پاکستان کا قرض 2024ء تک 45 ہزار 573 ارب تک پہنچ جائے جو اس وقت جی ڈی پی کا 66 اعشاریہ 5فیصد ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق 2020ء میں پاکستا ن کا کل قرض 35 ہزر 289 ارب، 2021ء میں 38 ہزار 620 ارب، 2022ء میں 41 ہزار 272 ارب، 2023ء میں 43 ہزار 513 ارب اور 2024ء میں یہ قرض بڑھ کر 45 ہزار 573 ارب روپے ہو جائے گا۔
اندرونی قرضے کی تفصیل
دستاویز کے مطابق 2020ء میں پاکستان کا اندرونی قرضہ 22 ہزار 521 ارب روپے، 2021ء میں 24 ہزار 192 ارب، 2022ء میں 25 ہزار 310 ارب، 2023ء میں اندرونی قرضوں کا حجم 25 ہزار 917 ارب اور 2024ء میں پاکستان کا اندرونی قرض 26 ہزار 803 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔
بیرونی قرضے کی تفصیل
دستاویز کے مطابق اسی طرح 2019ء میں پاکستان پر بیرونی قرضوں کا حجم 10 ہزار 446 ارب روپے، 2020ء میں 12 ہزار 769 ارب،2021ء میں 14 ہزار 428 ارب، 2022ء میں 15 ہزار 963 ارب، 2023ء میں17 ہزار 596 ارب اور 2024ء میں قرضوں کا حجم 18 ہزار 770 ارب روپے ہوجائیگا۔
پاکستان کا بیرونی قرض ملٹی اور بائی لیٹرل ، یورو و سکوک بانڈز اور کمرشل قرض کی صورت میں ہے جبکہ اندورنی قرض ٹی بلز، سرمایہ کاری بانڈز، سکوک بانڈز اور قومی بچت اسکیموں کی شکل میں ہے۔
ان دستاویزات کے مطابق روپے کی قیمت کم ہونے سے پاکستان کے ذمےقرضوں کے حجم میں ایک ہزار97 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔