آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 22؍ صفر المظفّر1441ھ22؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نئی ویزا پالیسی کا اطلاق یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم طلبا پر بھی کیا جائے، اسٹوڈنٹس کا مطالبہ

مانچسٹر( تنویر کھٹانہ) برطانیہ میں ہر سال تقریباً دو لاکھ کے لگ بھگ غیرملکی طلباء و طالبات تعلیم کی غرض سے مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ لیتے ہیں۔ ان میں اکثریت کا تعلق تو یوروپین یونین سے ہے لیکن تقریباً 30 ہزار طلباء و طالبات پاکستان،  بنگلادیش اور بھارت جیسے ممالک سے بھی تعلیم کی غرض سے برطانیہ آتے ہیں۔ سابق وزیراعظم تھریسا مے کے متنازع قانون کے تحت جس کااطلاق 2012 میں ہوا تھا گریجویشن مکمل ہوتے ہی ان طلباء کو چار ماہ کے اندر اندر یا تو نوکری حاصل کرنی ہوتی تھی ورنہ انہیں برطانیہ چھوڑنا ہوتا تھا لیکن موجودہ وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی کے تحت اب 2021 میں گریجویشن مکمل کر کے یہ طلباء مزید دو سال برطانیہ میں رہ سکتے ہیں۔ یونیورسٹی آف ہڈرزفیلڈ کے انٹرنیشنل طلباء اور طالبات نےبھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم انھوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس قانون کا اطلاق یونیورسٹی میں پڑھنے والےموجودہ سٹوڈنٹس پربھی کیا جائے کیونکہ اس سے انہیں تعلیم کے

ساتھ ساتھ بہتر تجربہ حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ لاہور سے تعلق رکھنے والےباسط شاہد کا کہنا تھا کہ تعلیم حاصل کر کے اگر اس کا پریکٹیکل تجربہ حاصل نہ ہو تو اس کی افادیت میں کمی رہتی ہے۔چار ماہ میں نوکری کا حصول انتہائی مشکل ہے اور کمپنیاں بھی انٹرنیشنل سٹوڈنٹس کو سپانسر کرنے سے کتراتی تھیں تاہم اب اس پالیسی سے سٹوڈنٹس کو بہت فائدہ ہو گا۔ بنگلور سے تعلق رکھنے والی طالبہ نیہا کا کہنا تھا کہ میں ایم اے ایجوکیشن کر رہی ہوں لیکن اگر مجھے نوکری نہ ملی تو یہ محض کتابی علم ہو گا ڈگری کے بعد تجربہ انتہائی ضروری ہے اور دو سال کی ویزا توسیع انتہائی دانشمندانہ فیصلہ ہے لیکن حکومت کو اس کا دائرہ کار موجودہ سٹوڈنٹس تک وسیع کرنا چاہیے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والے محمد ایوب کا کہنا تھاکہ اس فیصلے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ہم کافی عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ انھیں اپنی اس پالیسی پرنظرثانی کرنی چاہیے اگر ہم پر اس پالیسی کا اطلاق نہ بھی ہوا تو آنے والے سٹوڈینٹس اس سے ضرور فائدہ حاصل کریں گے۔ نیشنل سٹوڈنٹس عقیلہ اور انیسہ کا کہنا تھا کہ اس قانون سے برطانیہ کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا اور یہ سٹوڈنٹس میں برطانیہ کو حصول تعلیم کےلیے ’پہلی پسند‘ کی پرانی حیثیت کو بحال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ غیر ملکی طلبا کے سٹوڈنٹ ویزے کی میعاد نہیں بڑھائی جاتی جس کی بڑی وجہ نوکری یا سپانسر نہ ملنا ہے، گریجویشن کے بعد اکثر سٹوڈنٹس تو اپنے ملک واپس چلے جاتے ہیں لیکن کچھ غیر قانونی طور پر برطانیہ میں رہائش پذیر ہو جاتے ہیں۔ اس نئے قانون سے سٹوڈنٹس کو بہتر مستقبل اورنوکری تلاش کرنے میں خاصی مدد ملے گی۔اور غیر قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم ہونے والے سٹوڈنٹس کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوگی۔

یورپ سے سے مزید