آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ایک وہ کہ فقط ظالم، ایک ہم کہ ظالم بھی مظلوم بھی

وہ سے مراد بھارت کے آر ایس ایس نیتا، ہم سے مراد ظالم بھی مظلوم بھی اور اس پر طرہ یہ کہ عقل بھی ضرورت سے زیادہ، آبادی اتنی بڑھائی کہ کسی کا جلسہ ناکام نہیں ہوتا، ایک بیروزگار ہجوم کو اچھا خاصا روزگار مل جاتا ہے، ڈبے میں گھی نہیں مگر ہر انگلی ٹیڑھی، بس ٹیڑھی انگلیاں ہی بچی ہیں وہ بھی لٹانے کے لئے آئے ہیں، پیٹ کی جنگ میں جہاد کہاں، جذبے کی فراوانی نے جذباتی کر دیا، مقصد نے ہم سے پناہ لے لی، بد اخلاقی کی مذمت الگ اس پر عملدرآمد الگ دلیل یہ کہ اُس نے بد اخلاقی کی میں کیوں نہ کروں۔ صرف دلیل مانگتا ہے۔ ہم وکیل پیش کر دیتے ہیں، کہ بے دلیلوں کے پاس غلطی ہائے بیانات کے سوا کچھ بھی نہیں، پہلے خود کو کمزور کرتے ہیں پھر طاقتور بنانے پر رہی سہی طاقت استعمال کر کے اور کمزور ہو جاتے ہیں، آپس میں اپنی محرومیوں کی جنگ لڑ لڑ کر دشمن کو مضبوط بنا رہے ہیں، آپس کی اس جنگ میں نمائشی مقاصد اعلیٰ حقیقی مقاصد، ذاتی منفعت کے اہداف کچھ اور، 72سال کی ٹیڑھی چال ہماری کیٹ واک شعلہ و چنگاری کجا کہ نہیں ہے دامن میں راکھ، ارض وطن بھی نعمتوں کی ریل پیل بھی مگر ہم کہاں ہیں، ہاں کچھ طبقات ہیں جو کہتے سنائی دیتے خودی کو بیچ امیری میں نام پیدا کر اور فقیری میں نام پیدا کرنے والے ان طبقات کے یرغمال، ہمارے مانگنے کے انداز نرالے، اتنا جانتے ہیں کہ گھی کے خالی کنستر سے گھی ٹیڑھی انگلی سے کیسے نکالا جاتا ہے اسی لئے 72سالہ احتجاج کے باوجود دونوں ہاتھ خالی ہیں۔

٭٭٭٭

برد باریِٔ اقتدار کا فقدان

ایک بھوکا درندہ بھی جب شکار ملنے پر پیٹ بھر لیتا ہے تو بڑے تحمل و بردباری سے کسی جھاڑی کی اوٹ میں چین سے لیٹ جاتا ہے، کتنے ہی شکار سامنے سے گزرتے ہیں وہ دیکھتا بھی نہیں، انسان تو اشرف المخلوقات ہے اگر اسے اللہ تعالیٰ اچانک اقتدار کی کرسی پر بٹھا دے تو وہ اپوزیشن کے زمانے بھول جاتا ہے چاہے اپوزیشن اس کے سامنے آ کر مسلسل دھاڑتی چنگھاڑتی رہے، اگر حاکم وقت گالیاں سن کر بھی دعا دے تو وہ زیادہ مقتدر دکھائی دیتا ہے، جلتی پر تیل نہیں چھڑکتا کہ شعلے اس تک پہنچ جائیں اس نے جو کرنا ہے کرتا جائے اپوزیشن کو اپنا کام کرنے دے، اس کو پندار حکمرانی کہتے ہیں، وہ کیوں مخالفین کی مخالفت کو نہ صرف جواز بلکہ مزید قوت فراہم کرتا ہے، وطن عزیز میں یہ جو ایک طویل عرصے سے جواب آں غزل کا سلسلہ جاری ہے اسے شاعری تو کہا جا سکتا ہے سیاست نہیں مانا جا سکتا، اگر حزب اختلاف فرض کیا اپنے مقاصد کے لئے عوام کا سیلاب لے آتی ہے تو اس سے کیا یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ عوام بیڈ گورننس کے ہاتھوں نالاں ہیں، ورنہ وہ کیوں ہزاروں کی تعداد میں خطرات مول لے کر اپوزیشن کا ساتھ دیتے؟ ایک برس بھی کب کا اس طرح گزر گیا، گویا غریب آدمی جان سے گزر گیا، عوام کو ان کا بھرا ہوا پیٹ ہی سمجھاتا ہے، یہ جو اُن کو خالی پیٹ ہزار ملی گرام کی اینٹی بائیوٹکس دی جا رہی ہیں یہ تو اس کا اندر جلا دیں گی، بھلے کوئی لیڈر اپنی خاطر انہیں آواز دے وہ تو لبیک کہیں گے، مگر جب اقتدار میں شعور ہی نہ ہو تو حق حکمرانی کا کیا جواز؟

٭٭٭٭

انسان سازی کا کارخانہ لگائو

ایک اچھا کپتان اگر بری ٹیم کے ساتھ میدان میں اترے گا تو نتیجہ صفر ہو گا۔ ضروری تھا کہ 22سالہ سیاسی جدوجہد میں انسان سازی یعنی کردار سازی کی کوئی چھوٹی سی فیکٹری ہی لگا لی ہو تو آج مشینیں پیداوار کے بغیر نہ چل رہی ہوتیں، پنجاب اس ملک کا بڑا اور اہم صوبہ، آبادی بھی زیادہ، مسائل انبار در انبار، چاہئے تھا کہ اس کو چلانے کے لئے ہی ایک اچھا ڈرائیور ہی تیار کر لیتے مگر یوں لگتا ہے کہ اسے نہ چلانے کے لئے ایسا ڈرائیور بٹھا دیا گیا جو کھائی میں پڑی تباہ گاڑی کے پاس بیٹھا سب اچھا ہے کا گیت گا رہا ہے، اگر پنجاب کو گڈ گورننس کا ماڈل بنایا ہوتا تو آج اسلام آباد لاک ڈائون نہ ہوتا، اور پنجاب کی دیکھا دیکھی باقی صوبے بھی اس کا رنگ پکڑتے، رموز حکمرانی سے شناسائی ہی نہیں ورنہ زہد و تقویٰ کی تو کمی نہیں، غریبوں کی غربت سے شاخ پر بیٹھا ہر اُلو اپنا الو سیدھا کرے گا مگر غریب عوام کی وہ غربت برقرار رہے گی جو طالع آزمائوں کے لئے سونے کی کان ہے، جس کے پاس غربت کا ہیرا ہے وہ اسے بیچنے کے بجائے نگل رہے ہیں، صلاحیت محروم طبقوں میں ہوتی ہے اشرافیہ کے تو کملے بھی سیانے ہوتے ہیں، کہ ان کے پاس دانے ہوتے ہیں کچھ یہ بھی کہتے ہیں میڈیا نہ ہوتا تو سب کے شو فلاپ ہوتے، وہ یہ نہیں سوچتے کہ میڈیا نہ ہوتا تو کل کی بربادی آج ہی گلے لگا لیتی، برسوں پہلے اپنے ایک عالم فاضل دوست کو بدحال دیکھا تو پوچھا یہ کیا بنا لیا ہے خود کو اس نے کہا؎

سرگزشت من چہ پُرسی مَن چہ گویم سرگزشت

موئے سر از پا گزشت و خارِ پا از سر گزشت

(میری آپ بیتی کیا پوچھتے ہو، سر کے بال پائوں سے اور پائوں کے کانٹے سر سے گزر گئے) یہی آج عوام کی حالت ہے۔

٭٭٭٭

تمیز مرد و زن برمن حرام است

....Oجب ہم بداخلاق ہو جاتے ہیں تو رزق دور بھاگتا ہے۔

....Oہم ابھی تک مرد، عورت کے چکر سے باہر نہیں نکلے، جبکہ دنیا میں ’’تمیز مرد و زن برمن حرام است‘‘ کا فارمولا چل رہا ہے، اب بھی عورت کو دیکھ کر ہمارا مرد تجسس کا شکار ہو جاتا ہے۔

....O مذہب، مکتب فکر کو کہتے ہیں ہم دین کو بھی مذہب سمجھ بیٹھے۔

....Oعوام کی غربت کو خواص کیش کر لیتے ہیں اور انہیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ ان کے لئے سجائے گئے پنڈال ہی میں ان کی جیب سٹیج نے کاٹ لی ہے۔

....Oہمارے ہاں میڈیکل سائنس کے حوالے سے ہنوز پرانی میڈیکل سائنس مصروف علاج ہے، کینسر کا علاج امریکا میں چوتھے درجے پر بھی ممکن ہو چکا ہے، شاید ہمارے ہاں "New Arrivals"کو پڑھا جاتا ہے نہ ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔

....O ہمارا معیار تعلیم خارج از معیار ہے، پراڈکٹ دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

٭٭٭٭