آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ28؍جمادی الاوّل 1441ھ 24؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں گزشتہ روز ہی یورپ اور مراکش سے وطن واپس لوٹا ہوں۔ بلجیم، نیدرلینڈ اور مراکش کے دو ہفتے کے دورے میں، میں نے ان ممالک میں تعینات پاکستان کے سفیروں سے بھی ملاقاتیں کیں اور اُن ممالک میں پاکستان کی ایکسپورٹ کے فروغ کے سلسلے میں تبادلہ خیال کیا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں، میں نے یورپی یونین کے اہم ملک بلجیم کے دارالخلافہ برسلز میں کچھ دن گزارے۔ 12ملین آبادی رکھنے والا بلجیم دو بڑی کمیونٹیز پر مشتمل ہے جس میں 60فیصد آبادی ڈچ اسپیکنگ فلیمش اور باقی 40فیصد فرنچ بولنے والی کمیونٹی پر مشتمل ہے۔ بلجیم کے دارالخلافہ برسلز کو اس لحاظ سے بھی اہمیت حاصل ہے کہ یہاں یورپی یونین اور نیٹو سمیت کئی عالمی اداروں کے ہیڈ کوارٹرز موجود ہیں۔ برسلز میں قیام کے دوران یورپی یونین میں پاکستان کے سفیر ظہیر اسلم جنجوعہ سے ملاقات کیلئے جب پاکستانی سفارتخانے پہنچا تو عمارت کی خوبصورتی دیکھ کر متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ سفارتخانے کی یہ عمارت حکومت پاکستان کی ملکیت ہے۔

سفیر پاکستان ظہیر اسلم جنجوعہ نے حال ہی میں یورپی یونین میں اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے۔ یورپی یونین میں سفیر متعین ہونے سے قبل وہ وزارت خارجہ میں ایڈیشنل ڈائریکٹر برائے یورپ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ روس اور بیلاروس میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے بھی وہ خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یورپی یونین میں ایمبسڈرشپ ظہیر اسلم جنجوعہ کیلئے ایک چیلنج ہے۔ سفیر پاکستان سے جس روز میری ملاقات ہوئی، اُسی روز اُنہیں یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو اپنی سفارتی اسناد پیش کرنے جانا تھا۔ دوران ملاقات سفیر پاکستان ظہیر اسلم جنجوعہ نے بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان، یورپی یونین سے جی ایس پی سہولت ملنے کے باوجود یورپی یونین کو اپنی ایکسپورٹ میں اضافہ نہیں کرسکا تاہم اُن کی ترجیحات میں شامل ہے کہ پاکستان سے یورپ ایکسپورٹ کو فروغ دیا جائے اور اس سلسلے میں پاکستانی سفارتخانہ ایکسپورٹرز کو ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ سفیر پاکستان نے میری اس تجویز سے اتفاق کیا کہ پاک ای یو بزنس کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ پاکستان اور یورپی یونین کے بزنس مینوں اور چیمبرز کے مابین روابط میں اضافہ کیا جاسکے۔ پاکستانی صنعتکاروں اور تاجروں کی اپیکس تنظیم ایف پی سی سی آئی کی پاک چین، پاک مراکش، پاک یو اے ای اور کئی دیگر اہم ممالک کی بزنس کونسل پاکستان کی ایکسپورٹ کے فروغ میں فعال کردار ادا کررہی ہیں۔ میری اس تجویز پر وہاں موجود EU-Pakفرینڈشپ فیڈریشن کے چیئرمین پرویز لوسر، چیف آرگنائزر حیدر شاہ اور پاکستانی سفارتخانے کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن نعمان بشیر بھٹی نے بھی اتفاق کیا۔

پرویز لوسر کا شمار بلجیم کی سرکردہ شخصیات میں ہوتا ہے۔ EU-Pakفرینڈشپ فیڈریشن کے چیئرمین ہونے کی حیثیت سے یورپی پارلیمنٹ کے کئی ممبران سے اُن کے قریبی تعلقات ہیں اور ان کا یورپی پارلیمنٹ میں بڑا اثر و رسوخ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور بھارتی تسلط کے بعد یورپی یونین نے پہلی بار کشمیر پر پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی ظلم و بربریت کی مذمت کی جس کا سہرا پرویز لوسر کو بھی جاتا ہے جنہوں نے بھارتی تسلط کے خلاف کشمیریوں کے حق کیلئے آواز بلند کی اور کئی یورپی ممالک میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا جس میں پاکستانی مسلمانوں سمیت سکھوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں نے شرکت کی۔ میرے یورپ میں قیام کے دوران پرویز لوسر اور ان کے ساتھیوں نے برسلز میں یورپی پارلیمنٹ اور ہیگ میں عالمی عدالت انصاف اور اسپین کے شہر بارسلونا میں کامیاب مظاہرے کرکے دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا۔ پرویز لوسر کی سربراہی میں ہونے والے مظاہروں کو یورپین سکھ اتحاد کی بھی حمایت حاصل ہے۔ میرے دورۂ بلجیم سے کچھ روز قبل سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کا ایک وفد نے سینیٹر مشاہد حسین سید کی سربراہی میں برسلز کا دورہ کیا تھا اور پرویز لوسر نے ان کی ملاقاتیں یورپی پارلیمنٹ کے ممبران اور یورپی یونین کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کے ممبران سے بھی کروائی تھیں۔

برسلز میں قیام کے دوران برسلز پارلیمنٹ کے مراکش نژاد صدر فواد احیدر سے بھی میری ملاقات متوقع تھی مگر آخری وقت میں انہیں کسی اہم کام کے سلسلے میں بیرون ملک جانا پڑا تاہم ان کی خواہش پر برسلز پارلیمنٹ کی تاریخی عمارت کا دورہ کیا اور پارلیمنٹ کے مختلف حصے دیکھے جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ برسلز میں قیام کے دوران میرے قریبی دوست عباس خان نے میرے اعزاز میں ایک عشایئے کا اہتمام کیا جس میں پرویز لوسر، پختون اتحاد کے عرب گل، نوید خان اور میرے قریبی دوست برسلز پارلیمنٹ کے ممبر ڈاکٹر منظور الٰہی جو میرے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں، نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر منظور الٰہی کشمیر کاز میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور کشمیر کے حق میں ہونے والے مظاہروں میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ڈاکٹر منظور انسانی حقوق کی تنظیموں کیلئے بھی کام کررہے ہیں۔

یورپی یونین میں ایک اچھی شہرت کے حامل اور تجربہ کار سفیر ظہیر اسلم جنجوعہ کی تعیناتی خوش آئند قدم ہے جو یورپی ممالک میں پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے بزنس مینوں اور ایکسپورٹرز سے بھی گزارش ہے کہ وہ یورپی یونین سے ملنے والی جی ایس پی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کی گرتی ہوئی ایکسپورٹ میں اضافہ کریں جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید