آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کشمیر کی صورتحال برطانیہ کیلئے سیکورٹی رسک ہے، سیکورٹی ایڈوائزر سابق برطانوی وزراء اعظم

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) سابق برطانوی وزراء اعظم تھریسا مے اور ڈیوڈ کیمرون کے سیکورٹی ایڈوائزر سرمارک لائل گرانٹ نے متنبہ کیا ہے کہ کشمیر کی صورت حال برطانیہ کیلئے سیکورٹی رسک ہے۔ انھوں نے یہ انتباہ ’’کاسٹ ٹو بریٹن آف دی کشمیر کرائسس از دیئر اے سلوشن‘‘ کے زیر عنوان ایک پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی نے کہا کہ یکطرفہ بھارتی اقدامات سے بحران پیدا ہوئے، پینل ارکان نے کہا کہ مشرف دور میں شمالی آئر لینڈ طرز پر مسئلہ کشمیر کے حل کا موقع گنوا دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق برطانوی وزراء اعظم تھریسا مے اور ڈیوڈ کیمرون کے سیکورٹی ایڈوائزر سرمارک لائل گرانٹ نے کہا کہ کشمیری عوام میں بڑھتی ہوئی انقلابی سوچ کے برطانیہ میں مقیم کم وبیش ایک ملین کشمیریوں پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ سرمارک لائل نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں نریندرا مودی کے اقدامات سے برطانیہ کی سلامتی کیلئے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے اور برطانوی حکومت کو اس کے بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے موجودہ بحران سے انقلابی سوچ اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے برٹش کشمیریوں پر براہ راست اثرات مرتب

ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں موجود ڈیڑھ ملین پاکستانیوں میں سے 70-60 فیصد لوگوں کا تعلق آزادکشمیر باالخصوص میرپور اور ملحقہ علاقوں سے ہے۔ انھوں نے جیو نیوز سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ہم نے دیکھا ہے کہ اپنے وطن میں رہ جانے والوں کے مقابلے میں ان کی نئی نسل زیادہ انقلابی ہوتی ہے، اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ مودی کے اقدامات سے انتہا پسندی اور انقلابی سوچ کا براہ راست خطرہ ہے اور اس سے بھارت اور پاکستان پر ہی نہیں بلکہ برطانیہ کو بھی بھاری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ انھوں نے برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ برطانیہ کی اس حوالے سے ذمہ داری ہے، کیونکہ ہم 1947 کی تقسیم کے ذمہ دار ہیں اور کشمیر کا بحران تقسیم کے دیرینہ بحرانوں میں سے ایک ہے اور ہم صرف اس لئے نہیں بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان رابطوں کی وجہسے بھی یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم اس بحران کو طے کرانے کیلئے تیار ہیں لیکن اس کیلئے پاکستان اور بھارت دونوں کو رضامند ہونا پڑے گا۔ فی الوقت پاکستان اس کیلئے تیار ہے لیکن بھارت تیار نہیں ہے۔ مباحثے میں شامل پینل کے ارکان نے اس بات زور دیا کہ 2001 اور اس کے بعد 2006میں پرویز مشرف کے دور میں ہم نے شمالی آئرلینڈ کی طرز پر یہ مسئلہ حل کرنے کا موقع گنوا دیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت گڈ فرائی ڈے طرز کے معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے، جس سے دونوں فریقوں کو کچھ نہ کچھ مل جاتا۔ سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک سٹرا نے کہا کہ اس کے بعد چونکہ پرویز مشرف پاکستان میں اپنے مسائل میں پھنس گئے اور بھارت نے پرویز مشرف سے مل کر اس مسئلے کے حل کیلئے کام کرنے کے بجائے اس معاہدے ہی سے منہ موڑ لیا۔ انھوں نے کہا کہ مودی کشمیر کو تقسیم کر کے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں، میں اس کی حمایت نہیں کرتا۔ جیک سٹرا نے کہا کہ مودی نے آرٹیکل 370 ختم کر کے شرمناک، ظالمانہ اور بہیمانہ کام کیا ہے، جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کی اقتصادی طاقت کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو زیادہ اجاگر نہیں کرسکا۔ انھوں نے کہا کہ ممبئی حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کا دورہ کر کے میں حیران رہ گیا۔ انھوں نے کہا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بھارتی حکام کو اس بات کا کوئی اندازہ ہی نہیں کہ دونوں ملکوں میں ایٹمی جنگ کے کیا نتائج برآمد ہوں گے اور اگر بھارت پاکستان پر ایٹم بم گراتا ہے تو بھارت اور بنگلہ دیش پر اس کے کیا اثرات پڑیں گے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ موجود ہے، برطانیہ اور امریکہ نے دونوں ملکوں کو پرسکون کرنےکی کوشش کی، یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کہ دونوں ملکوں کو یہ اندازہ نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، انھیں یہ بھی اندازہ نہیں کہ انھیں کہاں حد مقرر کرنی ہے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کو یکطرفہ طورپر بھارت میں ضم کئے جانے سے مختلف بحران پیدا ہوگئے ہیں، جس میں مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کا بحران، انسانی بحران اور پاک بھارت تعلقات کا بحران شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ مودی کا یہ قدم سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حوالے سے سلامتی کونسل کی 11 قراردادیں موجود ہیں، جن میں کشمیری عوام کو حق خود اختیاری دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی 1948 کی ایک قرارداد نمبر 38 کے پیرا 2 کا حوالہ دیتی ہوں، جس میں واضح طورپر کہا گیا ہے کوئی بھی فریق جموں وکشمیر کی صورت حال میں کوئی مادی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے پیدا ہونےکے بعد ہی سے یہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک مسئلہ ہے اور یہ اقوام متحدہ کا سب سے زیادہ پرانا ایجنڈہ ہے، اسی کی بنیاد پر بھارت کی 5 اگست کی کارروائی پر پاکستان اور چین نے جموں وکشمیر کی صورت حال پر غور کیلئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی اور بھارت کی مخالفت کے باوجود کم وبیش 50 سال بعد یہ اجلاس ہوا۔ انھوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 3 ماہ سے جاری لاک ڈائون کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بڑے پیمانے پر کشمیریوں کی گرفتاریوں، ان پر بہیمانہ تشدد نصف شب کو گھروں پر چھاپوں کے دوران لوگوں کا اٹھایا جانا، ہسپتالوں میں دوائوں کے فقدان اور لوگوں کوعلاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی کے بجائے ان کے قبرستان جیسی صورت حال میں تبدیل ہوجانے کے معاملات شامل ہیں۔ انھوں نےبتایا کہ حقوق انسانی کے اداروں، ایمنسٹی، ہیومن رائٹس واچ، سی پی جے اور دیگر تنظیمیں اور ادارے مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور بھارت سے لاک ڈائون ختم کرنے، تمام سیاسی قیدیوں اور زیر حراست افراد کو رہاکرنے اور شہری آزادیاں بحال کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مباحثہ چنائے گروپ کے سربراہ معروف انٹرپرینیور عبدالرحمان چنائے نے اسپانسر کیا تھا جبکہ اس کا اہتمام ا سٹریٹیجک ایڈوائزری گروپ سی ٹی ڈی ایڈوائزر نے چیتھم میں کیا تھا۔ مباحثے سرمارک لائل گرانٹ کے علاوہ برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک سٹرا، اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب ڈاکٹرملیحہ لودھی، این ڈی ٹی وی کی صحافی ندھی رازدان، فنانشل ٹائمز کے انڈیا کے لئے سابق نامہ نگار جون ایلیٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ پینل میں شریک تمام ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عالمی برادری کو کشمیر میں جاری تنائو کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور پاک بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ عبدالرحمان چنائے نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس کانفرنس کا اہتمام بھارت، پاکستان اور برطانیہ کے دانشوروں کو یکجا کر کے مسئلہ کشمیر کا کوئی حل تلاش کرنے کیلئے کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کو یہ سمجھ لیناچاہئے کہ آرٹیکل 370 ختم کرنے سے بھارت کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ کشمیر کو غیر قانونی طورپر ضم کرنے سے کشمیری عوام بھارت کے خلاف انتہاپسند ہوجائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ پینل میں شامل ارکان نے مسئلہ کشمیر کے بارے میں طریقہ کار پر بھارت اور پاکستان دونوں پر تنقید کی ہے لیکن سب اس بات پر متفق ہیں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال ناقابل برداشت ہے اور یہ بھارت ہے جو جنگ چاہتا ہے جبکہ پاکستان جنگی جنون سے دور ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان دونوں ہی پرامن مذاکرات کے ذریعے اپنے تمام دیرینہ مسائل حل کر کے اپنے وسائل سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید