آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ہمیں مسجد کی ضرورت نہیں ہے، سلیم خان

بھارتی پروڈیوسر اور اسکرپٹ رائٹر سلیم عبدالرشید خان کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد کی ضرورت نہیں ہے۔

ہمیں مسجد کی ضرورت نہیں ہے، سلیم خان


بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے بابری مسجد کا فیصلہ ہندوؤں کے حق میں سُنانے کے بعد بھارتی پروڈیوسر و اسکرپٹ رائٹر سلیم خان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو مسجد کی ضرورت نہیں ہے اور 5 ایکڑ زمین پر مسجد کے بجائے مسلمانوں کے لیے اسکول بنانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیے: بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کو دینے کا فیصلہ

سلیم خان نے کہا کہ ’بھارت کے مسلمانوں کو مسجد کی نہیں بلکہ اسکول اور تعلیم کی ضرورت ہے کیونکہ نماز تو ہم کہیں بھی پڑھ سکتے ہیں، جہاز میں، ٹرین میں، زمین پر کہیں بھی پڑھ لیں گے۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’بھارت کے مسلمانوں کو بہتر اسکولوں کی ضرورت ہے، اگر 22 کروڑ بھارتی مسلمانوں کو تعلیم ملے گی تو اِس سے بھارت کی بہت سی خامیاں دور ہو جائیں گی۔‘

یہ بھی پڑھیے: بھارت میں شدید ہندو مسلم فسادات کا خدشہ

اُن کا کہنا تھا کہ ’بھارت کے مسلمان ایودھیا کے تنازعے پر بات نہیں کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے بنیادی مسائل کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں اور اُن کے لیے حل نکالنا چاہتے ہیں،‘ سلیم خان نے کہا کہ ’اِسی وجہ سے میں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ 5 ایکڑ زمین پر مسجد نہیں بنائی جائے بلکہ اسکول، اسپتال اور کالج تعمیر کیے جائیں۔‘

اُنہوں نے کہا کہ ’ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کی دو خوبیاں محبت اور مغفرت ہے، لہٰذا مسلمانوں کو اِن دو فضیلتوں پر قائم رہنا چاہیے، محبت ظاہر کیجئے، معاف کیجئے اور سب کچھ بھول کر آگے بڑھیں۔‘

سلیم خان نے کہا کہ ’ایودھیا تنازعے کے فیصلے کے بعد بھی بھارت میں امن قائم ہے جسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے اور میں دِل سے سپریم کورٹ کے اِس فیصلے کو قبول کرتا ہوں۔‘

واضح رہے کہ ہفتے کے روز بھارتی سپریم کورٹ کی جانب بابری مسجد، رام مندر تنازعے کا فیصلہ سُنایا گیا تھا جو ہندوؤں کے حق میں تھا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید