آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شہریوں کی شکایات کا ازالہ حقیقی جمہوریت کا بنیادی وصف ہونا چاہئے، مقررین

پشاور (وقائع نگار) مستحکم جمہوریت کیلئے قومی و معاشی استحکام اور انسانی حقوق کا تحفظ ضروری ہے اور اس مقصد کیلئے نوجوان کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں جبکہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ حقیقی جمہوریت کا بنیادی وصف ہونا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین نے سی آر ایس ایس کے زیراہتمام پشاور یونیورسٹی میں اولسی تڑون کے نام سے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جس میں مختلف یونیورسٹیز کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر یونیورسٹی آف پشاور کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل چترالی نے کہا کہ قومی تحفظ اور استحکام کے حوالے سے دو مختلف نظریات ہیں‘ ایک نظریئے کے مطابق اسلحہ اور محفوظ سرحدیں ملکی ترقی و استحکام کی ضامن ہے جبکہ دوسرے نظریئے کے مطابق قانون کی حکمرانی‘ انسانی حقوق کی فراہمی اور حقیقی جمہوریت قومی استحکام کے بنیادی لوازمات ہیں جس کو حاصل کرنے کیلئے مزید جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اداروں کا ایک موثر اندرونی احتساب جمہوریت کی بقاء اور استحکام کا ذریعہ بنتی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے ڈاکٹر عامر رضا نے کہا کہ عوام کے ساتھ ساتھ تمام ریاستی اداروں کو بھی قانون کے دائرے میں رہ کر اختیارات کا متوازن استعمال کرنا چاہئے تاکہ ایک پر امن اور ترقی یافتہ معاشرے کی جانب سفر کو تیز کیا جاسکے۔ سوشل ورک ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رشید

احمد نے کہا کہ پاکستان میں وسائل موجود ہیں جنہیں بہتر طریقے سے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نفرتوں‘ دوریوں اور فرقوں میں بٹنے کی بجائے محبت اتفاق اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ سی آر ایس ایس کی شگفتہ خلیق اور مصطفیٰ ملک نے کہا کہ ایک ایسا معاشرہ جس میں مختلف طبقات اقوام مذہبی اور لسانی گروپوں کو ایک ساتھ رہنے اور ترقی کے ایک جیسے مواقع میسر ہوں اسے مشترکہ اور ترقی یافتہ معاشرہ کہا جاتا ہے۔ ورکشاپ میں حصہ لینے والے طلبہ میں سرٹیفیکیٹس بھی تقسیم کئے گئے۔

پشاور سے مزید