آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد دے، سر لائل گرانٹ

لندن (مرتضیٰ علی شاہ) اقوام متحدہ میں برطانیہ کے سابق سفیر اور دو وزرائے اعظم کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر سر مارک لائل گرانٹ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر پر پاک بھارت جنگ ہوئی تو برطانیہ کو 20 بلین پونڈ کی لاگت برداشت کرنا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل کمیونٹی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد کرے، ورنہ مستقبل میں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ دی فوربس میں ایک مضمون میں انہوں نے لکھا کہ برطانیہ پر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، کیونکہ 1947 میں تقسیم ہند کے وقت جلدبازی میں برطانیہ وہاں سے چلا گیا تھا اور کشمیر پر اختلافات کو حل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ اس طرح بھارت اور پاکستان کے مابین یہ مسئلہ نزاع بن گیا، جس کے بعد سے خطہ کشیدہ صورت حال سے دوچار ہے۔ انہوں نے لکھا کہ 72 سال کے تلخ تنازع میں تین جنگیں لڑی گئیں اور پاکستان اور بھارت (دونوں ایٹمی قوتوں) کے درمیان بہت سی جھڑپیں ہوئیں۔ دہشت گردی کی لاتعداد کارروائیوں، مقبوضہ وادی میں بڑھتی ہوئی حقوق انسانی کی خلاف

ورزیوں کے ماحول میں اب وقت آگیا ہے کہ آدھے بھلا دیئے گئے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں انٹرنیشنل کمیونٹی کو اس سلسلے میں کوشش میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کرنے کے فرمان پر رواں ماہ میں باضابطہ طور پر عملدرآمد ہوا، اس علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا، دونوں علاقے براہ راست دہلی کے زیر انتظام ہیں۔ ہزاروں بھارتی فوجی امن کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، کیونکہ سیاسی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا، انٹرنیٹ سروسز کاٹ دی گئی ہیں اور مقامی نقل و حرکت محدود ہے۔ سر مارک لائل گرانٹ نے گزشتہ ہفتے تھنک ٹینک چیتہم ہاؤس میں عبدالرحمٰن چنائے کے سپانسر کردہ کشمیر سیمینار میں بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا۔ اس پروگرام میں سر گرانٹ، جیک سٹرا، ڈاکٹر ملیحہ لودھی، ندی رازدان نے خطاب کیا تھا۔ سر گرانٹ نے لکھا کہ اس بات کا حقیقی خطرہ ہے کہ مسئلہ کشمیر دو جوہری ہتھیاروں والی ریاستوں میں فوجی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے اس کی مثالیں پیش کیں کہ کس طرح بھارت اور پاکستان گزشتہ 18 برسوں میں جنگ کے قریب پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے لکھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے کشمیر تنازع کی بڑی قیمت چکائی ہے اور اس سے وسیع تر انٹرنیشنل کمیونٹی بھی متاثر ہوئی ہے۔