آپ آف لائن ہیں
جمعہ7؍صفر المظفّر 1442ھ 25؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فیض احمد فیض

تیرگی ہے کہ امنڈتی ہی چلی آتی ہے

شب کی رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جیسے

چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی

دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جیسے

رات کا گرم لہو اور بھی بہ جانے دو

یہی تاریکی تو ہے غازہء رخسارِ سحر

صبح ہونے ہی کو ہے اے دلِ بیتاب ٹھہر

ابھی زنجیر چھنکتی ہے پسِ پردہء ساز

مطلق الحکم ہے شیرازہء اسباب ابھی

ساغرِ ناب میں آنسو بھی ڈھلک جاتے ہیں

لغزشِ پا میں ہے پابندئ آداب ابھی

اپنے دیوانوں کو دیوانہ تو بن لینے دو

اپنے میخانوں کو میخانہ تو بن لینے دو

جلد یہ سطوتِ اسباب بھی اُٹھ جائے گی

یہ گرانبارئ آداب بھی اُٹھ جائے گی

خواہ زنجیر چھنکتی ہی، چھنکتی ہی رہے