آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آج کی ریاست مدینہ کیسی ہونی چاہئے؟

’’اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے۔ میرا کام آسان کر دے۔ میری زبان سے گرہ کھول دے کہ میری بات سمجھ لیں‘‘۔

یہ ہم سب کی آرزو ہے۔ واہگہ سے گوادر تک سب ہی یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اپنے عظیم پیغمبرﷺ کے دور جیسا زمانہ نصیب ہو۔ خلفائے راشدینؓ جیسے حکمراں عطا ہوں۔ اگر پاکستان میں ریفرنڈم کروائیں یقیناً 100فیصد اسلامی نظام کے حق میں ہی رائے ملے گی۔ 

سبب یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام۔ مغربی جمہوریت۔ صدارتی نظام۔ فوجی حکمرانی سب تجربے ناکام ہو چکے ہیں۔ ان سے پاکستانیوں کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ تاریخ گواہی دیتی ہے کہ یہ سب نظام ان کے قائم کرنے والوں نے خود ہی ناکام کیے۔ اس تناظر میں اگر کوئی حکمران ’’ریاست ِ مدینہ‘‘ کی تشکیل کا عزم ظاہر کرتا ہے تو ہمیں کیا اس کی مدد نہیں کرنی چاہئے۔ 

 ہم میں سے کون ہوگا جو مدینے جیسی ریاست میں نہیں رہنا چاہے گا۔ مدینے میں بھی اگرچہ اب ریاستِ مدینہ جیسا نظام نہیں ہے۔ پھر بھی ہم سے اکثر کی التجا ہوتی ہے کہ ’مولا بلا لے مدینے مجھے‘۔

میں سب سے پہلے تو آپ سے معافی چاہوں گا اور اللّٰہ تعالیٰ کے حضور بھی اپنی غلطی پر عفو کی التجا کروں گا کہ مجھے یہ تحریر دو سال قبل قلمبند کرنا چاہئے تھی۔ لیکن اب بھی کسی نے اس عظیم منصوبے پر کام نہیں کیا۔ اس لیے میری درخواست اور اظہارِ تمنّا اب بھی بروقت ہے۔

’ریاست مدینہ‘۔ مسلم امّہ کی تمنّائوں اور امنگوں کا محور مرکز۔ ہم پندرہ صدیاں پیچھے لوٹ کر اس ارض مقدس کی گلیوں میں گھومنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ رحمتیں برستی دیکھتی ہیں۔ سب کو انصاف ملتا نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر آخر الزماںﷺ خود سربراہِ مملکت ہیں۔ 

سربراہِ حکومت ہیں۔ سپہ سالار ہیں۔ دین کا منبع ہیں۔ ہدایت کا سر چشمہ ہیں۔ پھر ان کے عظیم صحابہ کرامؓ۔ ان کے جاں نثار انتہائی مشکل حالات میں، چیلنجوں کے مقابلے میں کلمۂ طیبہ کی آواز بلند کرنے والے۔ جن کے سینے خوف خدا سے اور عشقِ نبیؐ سے معمور ہیں۔

آج کا ایک حکمراں ہمیں اس دَور میں لے جا رہا ہے۔ اس کی نیت پر تو شک نہیں کر سکتے لیکن یہ سوال ضرور کر سکتے ہیں کہ وہ اتنی نازک کٹھن ذمہ داری کیوں اپنے سر لے رہا ہے۔ کیا اسے اندازہ ہے کہ وہ جس ریاستِ مدینہ کی بات کر رہا ہے اس کے حکام اور عمال کون تھے۔ سربراہ کون سی ذات اقدسؐ تھی۔ 

ہم گناہ گار کہاں۔ وہ بر گزیدہ ہستیاں کہاں۔ ہم ان کے قدموں کی خاک بھی نہیں ہیں۔ ہم میں ان کے ایثار، جذبے، عشق کا کروڑواں حصّہ بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہم اگر یہ ٹھان رہے ہیں کہ ہمیں اس جیسی ریاست تشکیل دینے کے راستے پر چلنا ہے، ایک 1500سال طویل کوریڈور تعمیر کرنی ہے تو اس کے لیے اس دعویدار کو بھی چاہئے کہ اپنی ٹیم میں ان لوگوں کو شامل کرے جو ریاست مدینہ کے باسیوں کے ایثار سے آگاہ ہوں، جو مال و دولت دنیا سے بے نیاز ہوں، جن کے دل میں خوفِ خدا ہو، جنہوں نے سیرتِ رسولؐ، اسوۂ حسنہ کا تفصیلی مطالعہ کیا ہو۔ 

22سالہ جدو جہد کہنا آسان ہے لیکن اس میں جدوجہد تو گزشتہ چار پانچ سال ہی کی ہے۔ 22سال وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کا انتظار تو کہہ سکتے ہیں۔ ان 22سال میں آپ نے ریاست مدینہ کے والیؐ کی سیرت، انتظام، جنگی حکمتِ عملی، دوسرے حکمرانوں سے خط و کتابت، اپنے لوگوں سے حسن سلوک پر کس کس کی کتابیں پڑھیں۔ کیا شبلی نعمانی کی سیرت النبیؐ پڑھی۔ محمد حسنین ہیکل کی حیاتِ محمدؐ کا مطالعہ کیا۔ 

بہت سے غیر مسلموں نے انگریزی، فرانسیسی، جرمن میں حضور اکرمؐ کے بارے میں مبسوط دستاویزات مرتب کی ہیں، ان پر نظر ڈالی؟ اگر آپ واقعی ریاست مدینہ کے قیام کے لیے مخلص ہیں تو کیا کوئی ٹاسک فورس تشکیل دی جو اکیسویں صدی میں ریاستِ مدینہ جیسے نظام کے قیام کے لیے رہنما خطوط مرتب کرے؟ آج کے قوانین اور ضوابط و قواعد میں کون کون سے ریاست مدینہ کے اصولوں سے متصادم ہیں، ان کا متبادل کیا ہو سکتا ہے۔

چلئے! اس حکمران نے تو اب تک ایسا نہیں کیا۔ لیکن کیا ہماری یونیورسٹیوں، دینی مدارس، تحقیقی اداروں اور علمائے کرام اور سیرت نگاروں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ آگے بڑھیں اور سیرت النبیؐ کے تناظر میں آج کی ریاست مدینہ کی حدود و قیود کا تعین کریں۔ 

ایک حاکم اگر اچھی بات کر رہا ہے تو اس کے دست و بازو بنیں۔ اگر صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے ریاست مدینہ کا سہارا لے رہا ہے تو اسے بے نقاب کریں۔ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک اسلامی ریاست کی ہیئت حاکمہ تو قلمبند کر ڈالیں۔ عمران خان اپنے زلفیوں، اسدوں، فوادوں، قریشیوں، نعیموں، فردوسوں کی مدد سے تو ریاست مدینہ وجود میں نہیں لا سکتا۔ 

یہ عالمی بینک، آئی ایم ایف کے سامنے کشکول لے جانے والے ریاست مدینہ کی عظمتوں سے کیسے واقف ہو سکتے ہیں۔ علماء اور محققوں کو واضح الفاظ میں بتانا ہوگا کہ اکیسویں صدی کی ریاست مدینہ میں مالیاتی نظام کیا ہو سکتا ہے، بینکنگ کیسے ہوگی، اسٹیٹ بینک ہوگا یا نہیں، زراعت، صنعت کی کیا حدود ہیں، جرم و سزا کا تعین کیسے ہوگا، اپنوں کے ساتھ اور غیروں کے ساتھ تجارت کی کیا جہات ہوں گی، ریاست مدینہ میں میڈیا ہوگا کہ نہیں، یہاں سربراہِ مملکت، سربراہ حکومت، سپہ سالار الگ الگ ہوں گے یا سارے اختیارات کسی ایک کے پاس ہوں گے۔

ریاست مدینہ میں الیکشن کمیشن کیا یہی والا چل سکتا ہے یا اس کی ہیئت مختلف ہوگی۔ پارلیمنٹ میں سب صادق و امین ہوں گے تو صادق و امین کا تعین کون کرے گا؟ اگر ہم یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تو ہمارے گنہگار ہونٹوں سے ریاست مدینہ جیسے مقدس الفاظ ادا نہیں ہونے چاہئیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)