آپ آف لائن ہیں
اتوار20؍ذیقعد 1441ھ 12؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اسرائیل ایک بار پھر حکومت کی تشکیل کے لئے ایک سال میں تیسری بار الیکشن کی تیاری کرتا نظر آرہا ہے۔ اپریل اور ستمبر میں دوبار الیکشن ہوئے مگر دونوں حریف جماعتوں نے مساوی ووٹ حاصل کئے۔ ملک میں دو بڑی جماعتوں کے درمیان مقابلہ ہر چند کہ اسرائیل میں ایک درجن سے زائد سیاسی اور مذہبی جماعتیں انتخابات میں حصہ لیتی ہیں مگر وہ چند ووٹوں سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کرسکتیں۔ 

ملک کی پرانی جماعت وزیراعظم نیتن یاہو کی لیکڈ پارٹی ہے جو ملک میں اپنا بڑا سیاسی اور سماجی اثر رکھتی ہے۔ مگر حال ہی میں اسرائیلی فوج کے سربراہ بینس گینیٹز نے اپنی نئی پارٹی بلیو اینڈ وائٹ تشکیل دی جس نے پہلے ہی انتخابات میں تجربہ کیا دو بار وزیراعظم اور اس بار بھی وزیراعظم ہیں ان جیسے سیاستدان کو بہت سخت ٹائم دیا اور نتیجہ دونوں کے حق میں برابر ہے۔ نیتن یاہو کی پارٹی کو 34 اور بینس گنٹز کو بھی 34 ووٹ ملے جبکہ ایوان کے 120 ووٹ ہیں جس میں سے حکومت سازی کے لئے کسی بھی پارٹی کو 61 نشستیں حاصل کرنا ضروری ہیں۔ 

پہلے انتخابات اپریل 2019 میں منعقد ہوئے دوسرے اپریل 2019 میں مگر نتیجہ بالکل نہ بدلا۔ نیتن یاہو نے اپنی پارٹی کی بڑی مہم چلائی تھی اور انہیں امید تھی کہ وہ اکثریت سے ضرور کامیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ نیتن یاہو بہت سینئر سیاستدان ہیں۔ 1996 سے وہ میدان سیاست میں ہیں اور چار بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے ہیں اس کے علاوہ درمیانی مدتوں میں دیگر اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے، اس کے علاوہ انہیں یہ بھی خیال ہے کہ وہ ملکی سیاست کے ماہر اور ہر مسئلے سے واقف ہیں، بین الاقوامی معاملات پر گہری نظر ہے۔ 

فلسطین کے مسئلے پر ہر عالمی فورم میں وہ شریک رہے ہیں اور جاری خطے کی صورت حال میں وہ اسرائیل کی بہتر طور پر نمائندگی کرسکتے ہیں۔ ان حوالوں سے نیتن یاہو اور ان کے قریبی رفقاء ان کی بھرپور حمایت کررہے ہیں۔ وہ کسی بھی طور پر اپنے عہدے سے دستبردار ہونا نہیں چاہتے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی آئین کے تحت ان پر الزامات عائد کرنے کے باوجود انہیں عہدے سے نہیں ہٹایا جاسکتا، تاوقتیکہ ان پر الزامات ثابت نہ ہوجائیں۔

اس صورت حال میں اسرائیل میں شدید غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ اسرائیل کی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا سیاسی ڈیڈ لاک نہیں آیا تھا۔ سیاسی صورت حال کے ساتھ ساتھ معاشی معاملات بگڑتے جارہے ہیں اور غزہ کی پٹی کا مسئلہ پھر سر اٹھا رہا ہے۔ نیتن یاہو کی جماعت میں صیہونیت پرست، قدامت پسند یہودیوں کا غلبہ ہے۔ جبکہ بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے صدر بینی گنیٹز کے تقریباً سیاسی رفقاء جمہوریت پسند اور لبرل ہیں جو نیتن یاہو کی جماعت لیکڈ (Likud Party) کے خلاف ہیں۔ قدامت اور رجعت پسند صیہونیوں کو خدشہ ہے کہ اگر بلیو اینڈ وائٹ پارٹی اقتدار میں آگئی تو اسرائیل کی سیاست کا کلاسیک رنگ تبدیل ہوجائے گا۔ 

اسرائیل کو مشرق وسطی میں سب سے زیادہ خوف ایران سے ہے۔ اسرائیل کے فوجی تھنک ٹینک یہ بات بہت پہلے سے جانتے ہیں کہ انقلاب ایران کے بعد اس خطے میں ایران ان کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بات ایک حد تک درست تصور کی جاتی ہے کہ اس وقت خطے میں ایران کا عسکری پلہ بھاری ہے۔ اسرائیل اپنی پوشیدہ جوہری قوت پر نازاں ہے مگر آج کے دور میں کوئی بھی طاقت جوہری قوت استعمال کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی۔ پوپ پال سمیت دنیا کے پانچ ہزار سے زائد سائنس دانوں، ماہرین، دانشوروں اور سیاسی رہنمائوں نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال نہ کرنے کی دستاویز پر دستخط کر رکھے ہیں۔ 

چند برس قبل پیرس میں ہونے والی ماحولیات کی عالمی کانفرنس بہت اہم دستاویز ہے،مگر اسرائیلی وزیراعظم کو چوتھی بار وزیراعظم بننے کی فکر کھا رہی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں عدلیہ، پولیس اور دیگر اداروں پر غلط الزامات عائد کرنے کی سازش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے آئینی سربراہ ہیں، ان کے خلاف اداروں کو استعمال کیا جارہا ہے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوسکتے۔ ان کا استدلال ہے کہ اگر ملک کی دولت مند شخصیات انہیں تحفے تحائف نذر کرتی ہیں تو اس میں بڑائی کیا ہے۔ دوسرا استدلال یہ ہے کہ حزب اختلاف ان پر جھوٹا الزام لگاتی رہی ہے کہ وہ میڈیا کو رشوت دیتے ہیں، جو قطعی غلط ہے اور یہ سب محض میرے خلاف پروپیگنڈا ہے۔ 

اس دوران بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے رہنما نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ اڑتالیس گھنٹے مسلسل کوششیں کی کہ دونوں بڑی جماعتیں کسی ایجنڈے پر راضی ہوکر مخلوط حکومت تشکیل دے لیں، مگر لیکڈ پارٹی کے ہارڈ لائنر کسی بھی نکتے پر راضی نہیں ہوئے۔ اسرائیل کے بیشتر لبرل افراد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو کا چوتھی باری کے لئے جو اضطراب اور بے چینی ہے وہ بے سبب نہیں ہے ان کی رجعت پسند صیہونی جماعت کے قدیم ایجنڈے میں یہ شامل ہے کہ اسرائیل کی سرحدوں کو شام، دریائے ؟؟ کے پار اور لبنان کے کچھ علاقوں تک وسعت دینا شامل ہے جس کی جدوجہد جاری ہے۔ اسرائیل کے راستے میں شام کے صدر بشارالاسد بڑا کانٹا ہیں۔ دوسری طرف لبنان میں حزب اللہ کی موجودگی رکاوٹ ہے۔

قطع نظر اس بحث کے اسرائیل کس طرح توسیع پسندی پر مائل ہے۔ اسرائیلی عوام کو اس امر کی فکر ہے کہ ملک میں جاری افراتفری میں کون سا سیاسی نظام لاگو ہوگا۔ جمہوری نظام، نیم جمہوری نظام، صدارتی نظام یا آمرانہ نظام۔ اسرائیل کا آئین جمہوری اور سیکولر ہے۔ ہر چند کہ اس پر مذہبی ریاست کی چھاپ ہے مگر عوام کی اکثریت جمہوریت پسند اور لبرل ہے، مگر صیہونیت پرستوں اور قدامت پرستوں کا طبقہ بااثر ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پوری دنیا اور اسرائیل سمیت یہودیوں کی آبادی ایک کروڑ چھیالیس لاکھ سے کچھ زیادہ ہے۔ جس میں سے 62 لاکھ اسرائیل میں آباد ہیں اور 56 لاکھ امریکہ میں آباد ہیں باقی اٹھائیس لاکھ دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں بستے ہیں۔

جو یہودی اسرائیل سے دور رہتے ہیں اور اپنی الگ الگ شہریت رکھتے ہیں انہیں اسرائیل کی سیاست اور دیگر معاملات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے۔ اسرائیل سب سے زیادہ مقروض ملک ہے۔ امریکا ہر سال اس کے زیادہ تر قرضے معاف کرتا رہا ہے۔ اسرائیلی بجٹ کا خسارہ بڑھ رہا ہے۔ ملک میں مہنگائی، بے روزگاری اور افراط زد کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی اور جدید دنیا کی طرف پیش رفت کی جدوجہد جاری ہے۔ مگر اسرائیل کی نئی نسل مطمئن ہرگز نہیں ہے۔

وزیراعظم نیتن یاہو جن حالات میں گھرے ہوئے ہیں اس سے ظاہر ہے کہ انہیں جلد اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ایسے میں بلیو اینڈ وائٹ پارٹی کے رہنمائوں کو فکر ہے کہ نیتن یاہو اپنے پیچھے بڑے گھمبیر مسائل چھوڑ جائیں گے۔ مثلاً اسرائیل مسلسل مغربی کنارے پر بستیاں آباد کررہا ہے جس پر اقوام متحدہ نے ایک درجن مراسلے ارسال کئے ہیں کہ، اسرائیل یہ کام بند کردے ۔مغربی کنارے پر بستیاں تعمیر کرنا غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، مگر اسرائیل غزہ سمیت مغربی کنارے پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی وزیر مائیک پمپیو نے حالیہ بیان میں کہاہے کہ امریکا مغربی کنارہ کی تعمیرات سے متفق نہیں ہے۔

امریکا کی یہ دو عملی پالیسی خطے کے امن کو مسلسل خطرے سے دوچار کررہی ہے۔ اسرائیل کے حالیہ انتخابات اور اس کے غیر یقینی اور حیران کن نتائج بھی بے سبب نظر نہیں آئے۔ حزب اختلاف بلیو اینڈ وائٹ پارٹی اگر اقتدار میں آجاتی ہے تو امید کی جاسکتی ہے کہ لبرل رہنما قدامت پسندوں کی ماضی کی پالیسیوں میں کچھ تبدیلی ضرور لائیں گے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید