آپ آف لائن ہیں
منگل22؍ذیقعد 1441ھ 14؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عالمی ماحولیاتی تبدیلی اور پاکستان

پاکستان میں رواں سال بھی شدید گرمی پڑی جبکہ کراچی میں سمندری ہوائیں بند ہونے سے درجہ حرارت کہیں زیادہ معلوم ہوا۔ معمول سے ہٹ کر گرمی اور بارشیں ہونا موسمی تغیرات کا شاخسانہ ہے، جس نےدنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھی عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ا س کے نتیجے میں آنے والے اثرات کا شکار ہورہا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کیا ہے؟

آب و ہوا کی تبدیلی جو بلاواسطہ یا بالواسطہ انسانی سرگرمیوں (صنعتکاری، جنگلات کی کٹائی وغیرہ ) سے متعلق ہے، عالمی ماحول کے تشکیلی عمل کو تبدیل کرتی ہے اور مختلف ادوار میں قدرتی آب و ہوا میں تغیرکو سامنے لاتی ہے۔

درجہ حرارت میں متوقع تبدیلیاں

انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائیمٹ چینج (IPCC) کے حالیہ سائنسی جائزے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس صدی کے آخر یعنی2100ء تک زمین پر عالمی سطح کا اوسط درجہ حرارت ایک ڈگری سے3.5ڈگری تک بڑھ جائے گا اور درجہ حرارت کے اس اضافے سے سطح سمندر میں سے95سے 115سینٹی میٹر (تقریباً6سے37انچ) اضافہ ہوجائے گا اور اس طرح سمندری طوفانوں اور سونامی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔

اگر آپ کو30قیراط ہیرے اور زمین پر زندہ رہنے کیلئے پانی کے ذخائر کے درمیان انتخاب کرنے کو کہا جائے تو آپ کیا منتخب کریں گے؟ یقیناً پانی۔ تو بھلا ایسا کیوں ہے کہ ہم موجودہ صورتحال میں یہ محسوس نہیں کرتے کہ پانی زمین کے تمام ہیروں سے زیادہ قیمتی ہے؟ چونکہ یہ آسانی سے مل جاتا ہے، اس لیے ہم اسے بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور اس کی قلت کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ زندہ رہنے کے لیے درکار چار عناصر (آگ، ہوا، پانی اور مٹی) کی اہمیت کو شاید ہم نظرانداز کیے ہوئے ہیں، اسی لیے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ان عناصر پر بھی پڑ رہے ہیں۔

پاکستان پر اثرات

گرین ہاؤس گیسز کے مجموعی اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے، لیکن آب و ہوا کی تبدیلی کے منفی اثرات کی وجہ سے درج ذیل صورتوں میں پاکستان بری طرح متاثر ہوسکتا ہے۔

■امکا ن ہے کہ ہمالیہ میں گلیشیر پگھلنے سے سیلاب کی آمد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ عمل اگلی دو سے تین دہائیوں میں آبی وسائل کو متاثر کرے گا۔ اس کے بعد گلیشیرز کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ دریاؤں کے بہاؤ میں بھی کمی واقع ہوگی۔

■میٹھے پانی کی دستیابی میں بھی کمی کا امکان ہے، جس کی وجہ سے بائیو ڈائیورسٹی (پاکستان میں یا کسی خاص ماحول میں پودوں اور جانوروں کی زندگی کے لیے موافق حالات) میں تبدیلی رونما ہوگی اورلوگوں کے پینے کے لئے بھی کم مقدار میں میٹھا پانی دستیاب ہوگا۔

■پاکستان کے جنوب میں بحیرہ عرب کے ساحل سے متصل علاقوں کو سمندری طوفان اور کچھ شہروں میں دریاؤں کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ ہوگا۔

■ہماری معیشت کا زیادہ تر دارومدار زراعت پر ہے، اس حوالے سے موسمیاتی تبدیلیوں کا تخمینہ لگایا جاتا ہے کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداوار میں کمی واقع ہوگی، جس کے نتیجے میں معاش اور خوراک کی پیداوار متاثر ہوگی۔ ملک میں تیزی سے بڑھتی آبادی، شہرکی طرف نقل مکانی اور کم ہوتی پیداوارکی وجہ سے قحط سالی کا خدشہ ہوگا۔

■بنیادی طور پر سیلاب اور خشک سالی سے وابستہ بیماریوں کی وجہ سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ساحلی پانی کے درجہ حرارت میں اضافے سے ہیضے کی وباء پھیل سکتی ہے۔

■ آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات اوروسائل کا بے دریغ استعمال معاشرے میں عدم مساوات کو بھی بڑھاوا دیں گے اور معاشرتی عوامل کو عدم استحکام، تنازعات اور لوگوں کی نقل مکانی کا باعث بنیں گے۔

عالمی سطح پر اثرات

معروف برطانوی اخبار کے مطابق "لانسیٹ" نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ 2050ء تک ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے رونما ہونے والے صحت عامہ کے مسائل کی وجہ سے50لاکھ افراد لقمہ اجل بن جائیں گے۔ ان اموات کی بڑی وجہ دل کے دورے، ہیٹ اسٹروک، فوڈ پوائزننگ ، ملیریا اور بہت سی دیگر بیماریاں ہو ں گی۔ 

اگر آج کی بات کریں تو بیماریوں کی وجوہات بھی پہلے کے مقابلے میں بڑھتی جارہی ہیں، ان میں وہ بیماریاں بھی شامل ہیں جن کا سدباب ہمارے ہاتھ میں ہے جیسے کہ ہیضے کا حل یہ ہے کہ اپنی غذاؤں اور ہاتھوں کوصاف ستھرا رکھیں، انہیں گندے پانی سے نہ دھوئیں کیونکہ فوڈ پوائزننگ کا خدشہ عموماً اسی وجہ سے ہوتاہے۔ ملیریا کے علاج کے لئے وقت پر دوا لینا جیسی شرط ضروری ہے، تاہم اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ مچھر پیدا کرنے والے پانی کے جوہڑوں کا سد باب کیا جائے۔