آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

تصوف، شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی نظر میں

تحریر: علامہ محمد سجاد رضوی۔۔ہیلی فیکس
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں اہل تصوف کو صوف کے نام سے اس لئے جانا جاتا ہے کہ ان کا باطن نور معرفت سے روشن ہوتا ہے یا اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان کی نسبت اصحاب صفہ کی طرف ہے جو گھر بار چھوڑ کر مسجد نبوی سے متصل چبرترے پرعزلت نشیں ہوگئے تاکہ دین کے حقائق براہ راست سراج منیر سے وصول کرسکیں اور ہوسکتا ہے کہ صوف کا لباس پہننے کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑ گیا ہو کیونکہ اس میدان میں قدم رکھنے والے کھردرا لباس پہنتے تاکہ مجاہدہ کی منزل سے گزر کر عرفان و حقیقت تک پہنچیں۔لفظ تصوف چار حروف پہ مشتمل ہے، ت ، ص، و اور ف۔ ت سے مراد توبہ ہے اور توبہ کے دو پہلو ہیں، ظاہر کی توبہ اور باطن کی توبہ، ظاہر کی توبہ یہ ہے کہ تمام اعضائے بدن گناہوں سے محفوظ ہو جائیں اور نافرمانی کی آلائش ترک کرکے اطاعت خداوندی کی طرف لوٹ آئیں۔ رب تعالیٰ کی مخالفت سے نکل کر اس کی موافقت اور رضا کی طرف پلٹ جائیں۔ قول و فعل میں صرف مالک بحروبر کے مطیع ہوں، جبکہ باطن کی توبہ یہ ہے کہ انسان اپنا دل تمام کدورات و کثافات سے اس طرح صاف کرے کہ باطن کی زمین منور و روشن ہو جائے۔ تصوف کا صاد، صفا سے ہے صفائے قلب اور صفائے سر، صفائے قلب یہ ہے کہ بشری کثافتوں سے دل کو پاک کیا جائے، وہ تمام رذائل جو کثرت طعام، کلام اور

منام (نیند) نیز حرص دنیا سے پیدا ہوتے ہیں مثلاً غفلت، حب جاہ، لالچ، طمع اور خود پرستی وغیرہ، ان تمام سے کنارہ کشی ہو جائے اور یہ صفائی صرف رب تعالیٰ کے ذکر پہ ہمیشگی اختیار کرنے سے میسر آتی ہے ابتداء میں زبان کے ساتھ بلند آواز سے ذکر کرے یہاں تک کہ مقام حقیقت کو پالے، ارشاد ربانی ہے کہ بے شک مومنین وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا ذکر سنیں تو ان کے دل نرم پڑجائیں ، یعنی قلوب کو خشیت الٰہی حاصل ہو جائیے اور یہ کیفیت اسی وقت ملے گی جب دل غفلت سے بیدار ہو جائیے اور اس کا ذنگ اتر جائے یہاں تک کہ اس صفائی اور نظافت کے نتیجے میں خیرو شر کی غیبی صورتیں اس پہ عیاں (ظاہر) ہو جائیں، جبکہ صفائیے سر یہ ہے کہ ماسوا اللہ (اللہ کے علاوہ) سے توجہ ہٹا کر صرف رب تعالیٰ کی طرف مشغول ہو، جب یہ مقام مل جائے تو صاد کی منزل مکمل ہو جاتی ہے۔تصوف کی واو، ولایت کا بیان ہے۔ ولایت کا مدار تصفیہ و تنویر قلب پہ ہے، ارشاد ربانی ہے’’بے شک اللہ کے ولیوں پہ نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے‘‘ اور ولایت کا ثمر یہ ہےکہ بندہ مومن اخلاق الہیہ سے مزین ہو جاتا ہے جیسا کہ حدیث نبوی میں وارد ہوا ’’اللہ کی صفات (کے رنگ) میں ڈھل جائو‘‘ یعنی اس معبود حقیقی کی پسند کو اپنا لو اور اس کی ناپسند کو ترک کردو۔ یہاں تک کہ صفات ربانیہ، احوال بشری پہ غالب آجائیں اور بمطابق حدیث قدسی، (رب تعالیٰ فرماتا ہے) ’’جب میں کسی بندے سے محبت کرتا ہوں تو اس کی سماعت ہو جاتا ہوں اس کی بصارت اور دست و زبان ہو جاتا ہوں پس وہ مجھ سے سنتا ہے مجھ سے دیکھتا ہے مجھ سے پکڑتا ہے مجھ سے بولتا ہے اور مجھ سے چلتا ہے‘‘ پس ماسوا اللہ سے کٹ کر خالق کے رن(صبغۃ اللہ) میں ڈھل جاتا ہے کیونکہ جب حق آجائے تو باطل بھاگ نکلتا ہے۔شیخ فرماتے ہیں تصوف کی فا ، فنا فی اللہ کی طرف اشارہ کررہا ہے جب صفات بشریہ فنا ہو جائیں اور بندہ مومن، صفات ربایہ کو پوری طرح اپنے اوپر غلبہ دیدے تو انسان کا قلب فانی اس باقی ذات (وحدہ لاشریک) سے ایسا تعلق پالیتا ہے کہ ’’ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے‘‘ کا مصداق بن جاتا ہے۔ ’’میں‘‘ ختم ہو جاتی ہے ’’تو‘‘ باقی رہتا ہے اور حقیقت یہی ہے صرف وہ رب ہی باقی ہے دیگر سب کچھ فانی اور زوال پذیر۔ خود ربہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ہر چیز ہلاک ہوجانے والی ہے صرف اس (اللہ تعالیٰ) کی ذات کو بقا ہے‘‘ پس جب بندہ مومن اس مقام پہ فائز ہو تا ہے تو عالم قرب میں بقا سے ہم کنار ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے مقام صدق سے تعبیر فرمایا ہے جو مالک حقیقی کے قرب خاص کی منزل ہے اور اس کے خاص بندوں کو حاصل ہے پس جب فنا کا دور مکم لہو جائے تو صوفی کو ہمیشہ کیلئے الحق (رب تعالیٰ) کی معیت حاصل ہو جاتی ہے۔درج بالا سطور میں آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے تصوف کے حروف ترکیبی کو ایسے خوبصورت حقائق کے ساتھ تعبیر کیا ہے کہ عقل دن رہ جاتی ہے اور تصوف کی اصلیت کھل کر سامنے آجاتی ہے، ایسے جامع کلمات کہ عبد و معبود کا حسین تعلق واضح ہو تا ہے ذات انسانی حقیقت کی تلاش میں صعوبتوں اور مشقتوں کی گھاٹیوں سے گذر کر ذات باری تعالیٰ کے قرب سے سرفراز ہو جاتی ہے مٹی کا پتلا، حیات دوامی پاکر ’’راضیۃ و مرضیۃ‘‘ کی مسند پہ سرفراز ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ باطنی سفر توبہ سے شروع ہو کر رضائے الیٰہی کے حصول پہ ختم ہو تا ہے۔ مقام رضا کے جلووے اور حسین نظارے صرف وہی بیان کرسکتا ہے جسے عملی تجربہ ہوا ہو، بلکہ صوفیاء فرماتے ہیں کہ ان نظاروں کو بیان کرنے کی زبان میں طاقت نہیں، قلم میں استطاعت نہیں اور نہ ہی انسانی عقل و فرد کی مجال کی تعبیر کرسکے۔ جس طرح ظاہری سفر دنیا میں مصائب و آلام آڑے آتے ہیں اور طرح طرح سے مسافر کے حوصلے اور جرأت کی آزمائش ہو تی ہے۔ ویسے ہی باط کی وادیوں کے مسافر بھی شدید مشقت اٹھاتے ہیں، مجاہدے کرتے ہیں، نفس کی خواہشات کو کچلتے ہیں ظاہر ہے یہ مقام علم دین اور شریعت پہ عمل کئے بغیر ہر گز ہر گز حاصل نہیں ہوسکتا، لہٰذا ان پڑھ صوف، جاہل پیر اور شعبدے دکھانے والے روحانیت فروش کبھی بھی اس مقام کے حامل نہیں ہوسکتے، یہ حقیقی صوفی کو شرف ملتا ہے کہ سلوک کی منزلیں طے کرتا، مضبوط توکل، نورانی ہمت اور خالص جذبے کے ساتھ ہر گھاٹی عبور کرکے آخر کار رب العالمین کی صفات کے انوار میں جگہ پالیتا ہے۔ اسی کے لئے قرآن مجید اعلان فرماتا ہے۔ ’’اے مطمئن جان! لوٹ آ اپنے رب کی طرف، اس حالت میں کہ تو اپنے رب سے راضی اور تیرا رب تجھ سے راضی۔ پس میرے بندوں میں داخل ہوکر میری جنت میں داخل ہو جا‘‘۔

یورپ سے سے مزید