آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم عمران خان کا فوکس کسی کو ٹارگٹ کرنے پر نہیں، شہزاد اکبر

کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور امور داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا فوکس کسی کو ٹارگٹ کرنے پر نہیں ہے۔

سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود خان نے کہا کہ عوام میں معیشت کے استحکام کیلئے اب مزید قربانی دینے کا حوصلہ نہیں ہے۔ 

سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ پنجاب میں خرابی بیوروکریٹس میں نہیں بلکہ اوپر ہے۔ 

نمائندہ خصوصی جیو نیوز زاہد گشکوری نے کہا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کے استعفے کے پیچھے چھ مہینے کی چھپی کہانی ہے۔

دیکھئےجیوکا پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘


وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب اور امور داخلہ شہزاد اکبر نے کہا کہ واضح کردوں وزیرداخلہ ہی وزیرداخلہ برقرار ہیں، مجھے امور داخلہ میں ان کا ہاتھ بٹانے کے لیے اضافی ذمہ داریاں دی گئی ہیں، وزیراعظم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے ذمہ داری دی ہے، ہمارے سامنے ایف اے ٹی ایف سب سے بڑا چیلنج ہے، معیشت کی بحالی کے ساتھ منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم پر فوکس کرنا ہے، ایف آئی اے کی ری اسٹرکچرنگ، ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ اور پراسیکیوشن کی بہتری بڑا ٹاسک ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ملاقات میں اپوزیشن رہنمائوں کیخلاف کریک ڈائون کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، وزیراعظم کا فوکس کسی کو ٹارگٹ کرنے پر نہیں ہے، اس طرح کے تمام کیسز نیب کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ پر فوکس کرنا ہے،اینٹی کرپشن اور احتساب میں ایف آئی اے کے کردار کو ادا کرنے کی بات کی گئی ہے، لوگوں کو ایف آئی اے سے بے جا تنگ کرنے کی شکایات بھی ہیں۔

سابق سیکرٹری خزانہ وقار مسعود خان نے کہا کہ معیشت میں مثبت پیشرفت دیکھنے میں آرہی ہے، آئی ایم ایف کے پروگرام میں اوسطاً تین فیصد گروتھ کی پیشگوئی ہے مگر اس سے کام نہیں چلے گا، عوام میں معیشت کے استحکام کیلئے اب مزید قربانی دینے کا حوصلہ نہیں ہے، اہم شعبوں میں پروڈکشن میں چھ فیصد کمی کافی زیادہ ہے، امپورٹس کو ایک حد سے زیادہ دبایا جائے گا تو اس کے نتائج بھی آئیں گے۔

ماضی قریب میں اتنی زیادہ مہنگائی دیکھنے میں نہیں آئی، مہنگائی میں سب سے زیادہ اضافہ کھانے پینے کی چیزوں میں ہوا ہے، پچھلے سال کے مقابلہ میں پندرہ فیصد زیادہ فوڈ انفلیشن ہے، بظاہر شرح سود اور مہنگائی کم ہوتی اور سرمایہ کاری بڑھتی نظر نہیں آرہی ہے، شرح سود بڑھنے کی وجہ سے بدحالی پھیل رہی ہے۔

سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ پارلیمانی نظام میں ویژن وزیراعظم اور سیاستدانوں کی طرف سے آتا ہے جس پر بیوروکریٹس عملدرآمد کرتے ہیں، عثمان بزدار اب تک کون سا ایسا ویژن دے رہے تھے جس پر عمل نہیں ہورہا تھا، اگر ویژن بھی بیوروکریٹس نے دینا ہے تو وزیراعلیٰ تو مجبور بن جائے گا جو درست نہیں ہوگا، پنجاب میں خرابی بیوروکریٹس میں نہیں بلکہ اوپر ہے، وہاں پندرہ مہینے میں کئی کئی دفعہ بیوروکریٹس بدلے جاچکے ہیں، اگر شہباز شریف کی ٹیم کو کھلانا ہے تو پھر شہباز شریف کو ہی لائیں، شہباز شریف کے بغیر ان کی ٹیم کیسے کھیلے گی۔

عثمان بزدار کم از کم شہباز شریف کے کپڑے اور ہیٹ پہننے کا طریقہ ہی اپنالیں ، پنجاب کی وجہ سے وزیراعظم کو بہت زیادہ سیاسی نقصان ہوچکا ہے، صوبائی و وفاقی کابینہ کے علاوہ اتحادی بھی عثمان بزدار سے مطمئن نہیں ہے، وزیراعظم پر عثمان بزدار کی تبدیلی کیلئے فروری مارچ تک مزید دبائو بڑھے گا، بیوروکریسی کی تبدیلی وقتی ریلیف ہوسکتا ہے لیکن مستقل حل نہیں ہے، مستقل حل کیلئے پنجاب میں قیادت تبدیل کرنا ہوگی، پنجاب کی گورننس ٹھیک نہیں ہوئی تو وفاق کوبھی لے بیٹھے گا۔

اہم خبریں سے مزید