آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

شرمین عبید چنائے کی اکیڈمی نے ہراسانی کے موضوع پر اینیمیٹد فلم جاری کردی

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کی فلم اکیڈمی ’ایس او ایس‘ گزشتہ 2 سال سے آگاہی مہم کے سلسلے میں خواتین اور بچوں پر تشدد سمیت ان کے حقوق سمیت ماحولیاتی آلودگی اور دیگر معاملات پر مختصر اینیمیٹڈ ویڈیوز جاری کرتی آ رہی ہیں۔’جنسی ہراسانی‘ سے متعلق 3 منٹ 14 سیکنڈز دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں آسان الفاظ میں سمجھایا گیا ہے کہ ’جنسی ہراسانی‘ کیا ہے اور اس حوالے سے پاکستانی قانون کیا کیا کہتا ہے؟ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کمپنیاں یا ملازمت فراہم کرنے والے ادارے ’جنسی ہراسانی‘ کی روک تھام کے لیے کیا کیا اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ عام طور پر ’جنسی ہراسانی‘ کی شکایت کرنے والی خاتون کو کہا جاتا ہے کہ یہ عمل اور مسائل تو دنیا کی ہر خاتون کے ساتھ ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ایسی باتوں پر دھیان نہیں دینا چاہیے، جو کہ غلط مشورہ ہوتا ہے۔ ’جنسی ہراسانی‘ کسی کے ساتھ بھی اس کے گھر میں، اس کی کام کی جگہ پر، عوامی سواری کے سفر کے دوران اور کسی بھی عوامی مقام میں ہو سکتی ہے۔ ’غیر اخلاقی گفتگو، نامناسب حرکت اور غیر مناسب رابطہ‘ جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں، یہاں تک کہ خوتین کے ساتھ چھیڑ خانی اور بدسلوکی دفعہ 509 کے تحت غیر قانونی اور قابل سزا جرم ہے۔

جنسی ہراسانی کے لیے لازمی نہیں کہ خاتون دفتر میں ہی موجود ہو بلکہ یہ عمل ان کے ساتھ کہیں بھی ہوسکتا ہے۔جنسی مطالبہ کو پورا نہ کرنے پر سزا کے طور پر عہدے سے تنزلی کرنا، ملازمت سے برطرف کرنا یا ملازمت پر نہ رکھنے جیسے عوامل بھی جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔ کام کی جگہوں پر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے پر دفعہ 509 کے تحت ملزم کے خلاف شکایت اور کارروائی کی جا سکتی ہے اور اس کی سزا تین سال قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں ہی سزائیں ہوسکتی ہیں۔اینیمیٹڈ ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ کوئی بھی کمپنی یا ادارہ بھی دفعہ 509 کے تحت اس بات کا پابند ہے کہ وہ کام کی جگہ پر ’جنسی ہراسانی‘ سے متعلق معلومات آویزاں کرے اور رو ک تھام کے لیے سخت ضوابط اپنائے۔ سخت ضوابط نہ اپنانے والے اداروں اور دفاتر پر بھی ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا اور ایسے اداروں کے خلاف ملازمین ضلعی محتسب سمیت صوبائی گورنر اور صدر مملکت سے شکایت کر سکتے ہیں۔ کمپنیاں یا ادارے اس بات کے قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ اپنے دفتر میں ’جنسی ہراسانی‘ کی شکایات کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی بنائیں اور مذکورہ کمیٹی میں کم سے کم ایک خاتون رکن کا ہونا لازمی ہے۔دفتری کمیٹی کسی کو جنسی ہراساں کرنے والے ملزم کو سخت ڈانٹ ڈپٹ کرنے، اسے ملازمت سے برطرف کرنے، اس کی ترقی روکنے اور تنزلی کرنے سمیت متاثرہ شخص کو جرمانہ ادا کرنے جیسی سزائیں تجویز کر سکتی ہے۔

دل لگی سے مزید