• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف الیکشن کمشنر کے معاملے پر حکومت و اپوزیشن میں ڈیڈلا ک برقرار

چیف الیکشن کمشنر کے معاملے پر حکومت و اپوزیشن میں ڈیڈلا ک برقرار


حکومت اور اپوزیشن میں چیف الیکشن کمشنر کے نام پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔

اپوزیشن کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے تین نام سامنے آگئے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بابر یعقوب، فضل عباس اور عارف خان کے نام تجویز کردیے ہیں۔

اس سے پہلے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے چیف الیکشن کمشنر کے لیے جلیل عباس جیلانی، ناصر محمود کھوسہ اور اخلاق احمد تارڑ کے نام تجویز کیے تھے۔

چیف الیکشن کمشزکے معاملے پر پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس اگلے ہفتے ہوگا، جبکہ چیف الیکشن کمشنر سر دار رضا آج اپنے عہدے سے ریٹائر ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے : حکومت الیکشن کمیشن ارکان کا معاملہ 10 روز میں حل کرے

دوسری طرف اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی کا معاملہ 10 روز میں حل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے الیکشن کمیشن کے 2 ممبران کی تعیناتی کے خلاف کیس کی سماعت کی جس میں وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر پیش ہوئے اور معاملے کے حل کے لیے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹیرینز کا پارلیمنٹ کے مسائل عدالتوں میں لانا سمجھ سے بالا ہے، یہ عدالت پارلیمنٹ کو سپریم دیکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ ماضی میں غلط ہوتا رہا لیکن اب پارلیمنٹ کی بالادستی ہونی چاہیے، اپوزیشن کے ساتھ حکومتی بینچز کی ذمہ داری زیادہ ہے، سب کچھ پارلیمنٹیرینز کے ہاتھ میں ہے عدالت مداخلت نہیں کرسکتی۔

چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی کوششوں کو سراہتے ہیں، حکومت اور اپوزیشن کی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللّٰہ نے لیگی ایم این اے محسن شاہ نواز رانجھا سے کہا کہ جب معاملات حل کی طرف جارہے ہیں تو آپ عدالت کیوں آئے جس پر محسن شاہ نواز رانجھا نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں۔

اس پر عدالت نے ریماکس دیے کہ نیلسن مینڈیلا نے 24 سال کی قید کے بعد بھی اپنے مخالفین کو معاف کردیا تھا۔

اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نےحکومت کو الیکشن کمیشن ممبران کا معاملہ 10 روز میں حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 17 دسمبر تک ملتوی کردی۔

تازہ ترین