آپ آف لائن ہیں
ہفتہ19؍ذیقعد 1441ھ11؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پرانی کہاوت ہے ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ جبکہ نئے زمانے کے نئے تقاضوں میں اولین یہ ہے کہ ’’نیکی کر اور اخبار میں ڈال‘‘۔

ہمارے وزیراعظم عمران خان نے کیا خوب بات کہی ہے کہ ہمارے وسیم اکرم پلس یعنی وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھرپور کام کر رہے ہیں لیکن اُن کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے اچھے کاموں کی تشہیر نہیں کرواتے جس کی وجہ سے اُن کی اعلیٰ کارکردگی پر مبنی اچھائیاں دب جاتی ہیں اور عام لوگو ں کو پتا ہی نہیں چلتا۔

آخر کوئی بات تو ہے جو ایک وزیر نے اُنہیں شیر شاہ سوری کا خطاب دے دیا ہے۔ قاضی حسین احمد جیسے صالحین کی جماعت کے امیر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ موجودہ حالات میں نیکیوں کی تشہیر ضروری ہے تاکہ دوسرے بھی اس راہ پر چلیں لہٰذا مارکیٹ کے اس اصول کو سمجھیں چاہے پچیس پیسے کی چیز بنائیں، ایک روپے کی تشہیر کرتے ہوئے ڈیڑھ روپے میں بیچ دیں۔

وزیراعظم کی معاونِ خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے چند روز قبل سینئر صحافیوں کو گورنر ہاؤس میں بریفنگ پلس ڈنر پر مدعو کیا تو شامی صاحب کے ساتھ درویش کو بھی اس میں شرکت کا موقع ملا، یوں ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ کوئی چوبیس برسوں بعد ہم کلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔

ڈاکٹر صاحبہ اُسی دبنگ لب و لہجہ میں گفتگو فرما رہی تھیں جو 1995ء میں تھا۔

تب وہ سر گنگا رام اسپتال میں شیڈ کے نام سے NGOچلا رہی تھیں اور اپنے بڑے بڑے عزائم کا اظہار فرماتی تھیں۔ شامی صاحب کو بتایا کہ پچیس برس قبل ناچیز نے ڈاکٹر صاحبہ میں لیڈر بننے کی بھرپور تمنا دیکھی تو وہ بولے، دیکھ لیں انہوں نے لیڈری کی تمنا کی تو آج وہ لیڈر بن کر گورنر ہاؤس میں بول رہی ہیں۔

وہ فرما رہی تھیں کہ گڈ گورننس کے جو جو تقاضے ہیں، ہم انہیں پورا کرنے کے لیے جو کچھ ممکن ہے وہ کر رہے ہیں۔ عرض کی میڈم جی گڈ گورننس کا ایک تقاضا یہ ہے کہ سسٹم میں استحکام آئے، سرکاری افسران درحقیقت قوم کے خادم ہوتے ہیں، جن کی کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہوتی، جو بھی بر سراقتدار حکومت ہو، سرکاری ذمہ داران کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کے وفادار بن کر حکومتی پالیسیوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے عوام کی خدمت کریں لیکن اس کے بہترین نتائج اسی صورت برآمد ہو سکتے ہیں جب آپ انہیں اعتماد بخشتے ہوئے خوف و ہراس کے بجائے اطمینان سے کام کرنے کا موقع دیں۔

اگر اُن کے سروں پر ہمہ وقت تبادلوں یا پکڑ دھکڑ کی تلوار لٹکتی رہے گی تو وہ اپنی تمام توانائیاں عوامی خدمت میں کھپانے کے بجائے اپنی سیٹ بچانے کے چکر میں لگائیں گے۔

اس پر انہوں نے حال ہی میں تھوک کے حساب سے ہونے والے افسران کے تبادلوں کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کی تطہیر ضروری تھی۔

نئے پاکستان میں نئے چہرے سامنے آنے چاہئیں اور کارکردگی کو بہر صورت پیشِ نظر رکھا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی افسران کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ عہدے پر رہنا ہے تو کارکردگی دکھانا پڑے گی۔

ہم نے اپنے افسران کو سیاسی دباؤ سے آزاد کر دیا ہے، ہر کام میرٹ پر کرنا ہے، پرانے مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہے۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ایک خوبی ہے کہ وہ جس بات پر زور دیتی ہیں، وہ چاہے غلط بھی ہو وہ اپنے زورِ خطابت سے اُسے درست ثابت کر کے چھوڑتی ہیں۔ اُن کے زورِ بیان کے سامنے ہر چیز عاجز و بےبس محسوس ہوتی ہے۔

دوسری خوبی اُن کی حاضر دماغی ہے۔ ہم تین لکھاریوں نے یکے بعد دیگرے سوالات اٹھائے تو انہوں نے مآبعد سب کے حوالے دیتے ہوئے جوابات عنایت فرمائے۔ انہیں صحافی صاحبان سے شکایت ہے کہ وہ کسی بھی بات کے منفی معنی کیوں نکالتے ہیں، اُس طرح کیوں نہیں دیکھتے جس طرح وہ دیکھتی یا بیان فرماتی ہیں۔

ہماری موجودہ حکومت کو گڈ گورننس کے حوالے سے جو چیلنجز در پیش ہیں وہ محض افسران کے تبادلوں یا بلدیاتی اداروں میں نئی منتخب قیادت لانے جیسے انتظامی امور تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ آئینی، جمہوری اور سیاسی حوالوں کے ساتھ ساتھ سماجی مذہبی اور بالخصوص معاشی حوالوں سے بھی ہیں۔

پچھلے دنوں ایک حکومتی اتحادی جماعت کے سربراہ نے کہا تھا کہ دیگر تمام باتیں اپنی جگہ عوام تو اپنے بنیادی انسانی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔

پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بھی ہمارے میڈیا میں اچھی خاصی بحثیں چلتی رہتی ہیں۔

کئی لوگ اس حوالے سے تنقیدی نقطہ نظر بھی بیان کرتے ہیں مگر دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ بہت سے عوامی مسائل و معاملات وفاقی پالیسیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر مہنگی بجلی یا بلوں کا معاملہ ہو یا پٹرول کی قیمت یا ان جیسے دیگر وفاقی وزارتوں سے جڑے معاملات، اب ان میں بہتری لانے کے لیے صوبائی حکومت زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتی ہے؟

یہی وجہ ہے کہ بہت سی شکایات کے باوجود وزیراعظم عمران خان کا اپنی صوبائی قیادت پر اعتماد متزلزل نہیں ہو پایا۔

انہوں نے صاف کہا ہے کہ میں نے اور عثمان بزدار نے مل کر اصلاحات کی ہیں، بہترین بیوروکریٹس لے کر آئے ہیں، پنجاب میں وہ آئی جی لے کر آئے ہیں پولیس ڈپارٹمنٹ میں جس کی سب سے زیادہ عزت ہے۔

میں چیلنج کرتا ہوں کہ جتنی اصلاحات ہم نے کی ہیں اتنی پہلے نہیں ہوئیں، کچھ لوگ وزیراعلیٰ بزدار کے پیچھے اس لیے پڑے ہیں کہ وہ بڑے بڑے محلوں میں نہیں رہتے۔

بہرحال وفاقی سیکریٹریز نے بیوروکریسی کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے حال ہی میں وزیراعظم کو جو رپورٹ ارسال کی ہے اس میں ملازمین کو تحفظ دینے کیلئے کافی اچھی تجاویز دی گئی ہیں جیسے انکوائری اور گرفتاری کی منظوری 6رکنی اسکروٹنی کمیٹی دے اور نیب کی تحویل 90روز کے بجائے 14روز کی جائے یا ہائیکورٹ میں حتمی فیصلوں کے خلاف اپیلوں کو 30دن کے بجائے 10دن میں نمٹایا جائے یا چیئرمین نیب شکایات کے ازالے کا میکنزم تیار کر یںاور احتسابی اداروں کو بھی کچھ حدود قیود کا پابند بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بلا تحقیق و ثبوت کسی کے خلاف بھی کرپٹ کرپٹ کا پروپیگنڈا کرنے سے گریز کیا جائے۔

بارہا حقائق کچھ اور ہوتے ہیں منفی مقاصد کے تحت دکھائے کچھ اور جاتے ہیں۔ انسانی عزت و حرمت کے تقدس کا بھی کچھ لحاظ ہونا چاہئے، اسی کا نام تہذیب و شائستگی ہے۔ گڈ گورننس اور انسانی حرمت و وقار لازم و ملزوم ہیں۔