آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نامور فلمساز ایم اے رشید کی بیٹی ڈھابہ چلانے پر مجبور


ماضی میں پاکستان کو کامیاب فلمیں دینے والے ایم اے رشید کی بیٹی اسلام آباد میں ایک چھوٹا سا ڈھابہ چلانے پر مجبور ہوگئی۔

ایم اے رشید جن کا شمار پاکستان کے اُن نامور اور معروف فلمساز میں ہوتا ہے جنہوں نے ماضی میں پاکستانی فلم انڈسٹری کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، فلم ’پاٹے خان‘ سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے ایم اے رشید اپنے دور کے ایک بہترین فلمساز، ہدایت کار اور مکالمہ نگار تھے اور وہ اُس وقت کے امیر ترین شخص تھے جن کے پاس شان و شوکت، پیسہ، گاڑیاں ہر وہ چیز تھی جو ایک اعلیٰ زندگی گُزارنے والے شخص کے پاس ہوتی ہے۔

یہ شان و شوکت ایم اے رشید نے تو اپنی زندگی میں دیکھی اور اُن کے بچوں نے بھی اپنے والد کی طرح اعلیٰ زندگی گُزاری لیکن والد کے انتقال کے بعد سے ایم اے رشید کی لاڈلی بیٹی رفیعہ رشید اسلام آباد میں سڑک کے کنارے ایک چھوٹا سا ڈھابہ لگانے پر مجبور ہوگئی ہے، ایم اے رشید نے اپنی زندگی میں 2 شادیاں کی تھیں جن سے اُن کے 14 بچے تھے، اِن بچوں میں رفیعہ رشید اُن کی سب سے لاڈلی بیٹی تھی۔

نامور فلمساز کی بیٹی سڑک کنارے ڈھابہ چلانے پر مجبور
رافعہ رشید اپنے والد کے ہمراہ

آج وہی لاڈوں میں پلی ایک کمرے کے مکان میں اپنی بیمار بیٹی کے ساتھ رہتی ہے اور بیٹی کے علاج کے لیے ڈھابہ چلا رہی ہے۔

رفیعہ رشید کا کہنا ہے کہ جب اُن کے والد صاحب حیات تھے تو اُس وقت اُنہوں نے اپنی زندگی کے بہت اچھے لمحات گُزارے لیکن والد کے انتقال کے بعد سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔

رفیعہ رشید نے کہا ’ جب میری شادی ہوئی تو سسرال والے اور شوہر سب میرے ساتھ بہت اچھے تھے پھر میرے یہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی، جب میری بیٹی تھوڑی بڑی ہوئی تو اُس کو ایک ’بائی پولر ڈس آرڈر‘ کا مرض لاحق ہوگیا تھا جو کہ ایک نفسیاتی مرض ہے، اُس کے بعد میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا تھا، اُس کے بعد میں اپنی بیٹی کے ہمراہ الگ گھر میں رہنے لگی  میرے والد صاحب اُس وقت حیات تھے اور وہ ہر مہینے مجھےلندن سے 50 ہزار روپے بھیجا کرتے تھے۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ ’جب بیٹی کی شادی ہونے لگی تو میں نے اپنے داماد اور بیٹی کے سُسرال والوں کو بیٹی کے نفسیاتی مرض سے آگاہ کردیا تھا، شادی کے ابتدائی دِنوں میں تو اُن کا رویہ میری بیٹی کے ساتھ بلکل ٹھیک تھا، میرے پاس اُس وقت لاہور میں 2 گھر بھی تھے اور زیور اور پیسے بھی تھے تو میرا داماد اکثر آتا تھا اور مجھ سے پیسے لے کر چلاجاتا تھا لیکن کبھی واپس نہیں کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ جب میری جمع پونجی ختم ہوگئی تو میرے داماد نے آنا چھوڑ دیا اور میری بیٹی کو میرے پاس چھوڑ کے چلاگیا‘۔

اُنہوں نے کہا کہ اِس کے بعد میں اپنے 7 سالہ نواسے اور بیٹی کو لے کر اسلام آباد آگئی او ر یہاں آکر کرائے پرایک کمرے کا مکان لیا، گھر چلانے اور بیٹی کا علاج کروانے کے لیے ڈھابہ کھولا جہاں وہ اپنے ہاتھ سےکھانا تیار کرکے بیچتی ہیں، اُنہوں نے کہا کہ بیٹی کے علاج پر ماہانہ 8 سے 9 ہزار تک  خرچہ کاآتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ اسلام آباد آنے کا اصل مقصد یہ تھا کہ کسی سرکاری ادارے میں بیٹی کو علاج کرواسکوں لیکن یہاں کوئی ایسا ادارہ نہیں جو میری مدد کرے۔

واضح رہے کہ فلمساز ایم اے رشید یکم جون 2011 میں لندن میں انتقال کرگئے تھے۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید