آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل25؍جمادی الاوّل 1441ھ 21؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

قومی اسمبلی میں وقفۂ سوالات کے دوران پیٹرولیم ڈویژن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق حکومت اس وقت ڈیزل پر 45.75، پیٹرول پر 35، مٹی کے تیل پر 20اور لائٹ ڈیزل پر 14.98روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے جس کے تحت ایک سال میں پیٹرولیم ٹیکسوں کی مد میں 206ارب 28کروڑ روپے عوام کی جیبوں سے نکلوائے گئے۔ دوسری طرف عوام الناس کا بڑا حصہ ایسے تنخواہ و اجرت دار غریب اور درمیانے طبقے کا ہے جس میں اکثریت کی فی کس ماہانہ اوسط آمدنی 17ہزار روپے سے بھی کم ہے جو پیٹ بھر کر دو وقت کی روٹی کھائے یا نہ کھائے روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ، موٹر سائیکلوں پر سفر کرنے کے عوض سرکار کو سالانہ متذکرہ 206ارب 28کروڑ روپے کا بڑا حصہ ادا کرتا ہے۔ رہی سہی کسر توانائی کے دوسرے شعبوں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے پوری ہو جاتی ہے جبکہ گیس کی نعمت سے محروم افراد مٹی کے تیل کا بھاری بھرکم بوجھ بھی اٹھاتے ہیں۔ ادھر یکم دسمبر سے نیپرا نے 26پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کا جو نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اس کی رو سے عوام پر 14ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جس کی وصولی ایک سال میں کی جائے گی۔ عوامی صورتحال اس لئے زیادہ گمبھیر ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ گزشتہ برس صرف سرکاری تنخواہوں میں دس فیصد کا اضافہ ہو سکا ہے جبکہ عوام الناس کی اکثریت نجی شعبے سے وابستہ ہے جہاں تنخواہیں اور اجرتیں انتہائی قلیل ہیں۔ دنیا میں کسی بھی جگہ اس شرح اور رفتار سے توانائی کے نرخوں میں اضافے دیکھنے میں نہیں آتا۔ اس کی بنیادی وجہ محاصل کی کمی اور معیشت پر بڑھتے ہوئے بھاری قرضوں کا بوجھ ہے جس کیلئے حکومت کو متبادل ذرائع استعمال میں لانا چاہئیں اور عوام کو جس قدر ہو سکے ریلیف دینا چاہئے۔

اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998