آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل25؍جمادی الاوّل 1441ھ 21؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک حقیقی احتساب نہیں ہوگا۔ ہر کسی کو خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، قانون کا پابند بنایا جانا چاہیے۔ ہمارا 72برسوں سے یہی المیہ رہا ہے کہ بااثر اشرافیہ ملکی آئین و قانون سے ہمیشہ بالاتر رہی ہے۔ ملکی قانون ان کیلئے موم کی ناک سمجھا جاتا رہا ہے۔ تبدیلی سرکار بھی ماضی کے حکمرانوں کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف قومی مجرم ہیں۔ ایسے شخص کے ساتھ حکومت کی ہمدردی ناقابل فہم ہے۔ پاکستان تبدیل ہو چکا ہے۔ عوام کے سامنے موجودہ حکمرانوں کی اصلیت بھی کھل چکی ہے۔ وزیراعظم اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے قوم کو آخر کیا پیغام دے رہے ہیں؟ غداری کیس کے فیصلے کو روکنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کی سپریم کورٹ سے استدعا اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت ہی انصاف کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے عوامی توقعات پر پانی پھیر دیا ہے۔ عوام نے جن مسائل کے حل کے لئے انہیں مینڈیٹ دیا تھا اس کو اب پامال کیا جا رہا ہے۔ ملک کی آزادی خود مختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان الیکشن سے قبل کنٹینر پر چڑھ کر اعلان کیا کرتے تھے کہ جب حکمران کرپٹ ہوں تو مہنگائی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ گزشتہ پندرہ ماہ میں ہونے والی مہنگائی کا کون ذمہ دار ہے؟ عوامی مسائل روز بروز بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ عوام سوال پوچھتے ہیں کہ کہاں ہے وہ تبدیلی جس کا خواب دکھایا گیا؟

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ چلانے کے لیے تحریک انصاف کے پاس اہل ٹیم ہی موجود نہیں ہے۔ 14ماہ کے دوران 5آئی جی تبدیل کر دیے گئے۔ متعدد بار بیورو کریسی میں ردّ و بدل کے باوجود حکومت کو مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کا کوئی ریلیف میسر آیا۔ حکومت من پسند افراد کو نوازنے کیلئے اداروں کے قواعد و ضوابط کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ضروری ہے کہ اداروں کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے۔ ملک و قوم مزید کسی بھی قسم کے سیاسی عدم استحکام کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ حساس معاملات پر حکمرانوں کی غیر سنجیدگی تشویشناک ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انہیں معاملات کا ٹھیک طرح ادراک ہی نہیں۔ جلد بازی سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے، اب حکمرانوں کے ماورائے آئین اقدامات کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

اب کنٹینر کی سیاست وزیراعظم کو زیب نہیں دیتی۔اربابِ اقتدار کی توجہ صرف اور صرف سیاسی مخالفین کو دبانے پر مرکوز ہو چکی ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ ہمارے کتنے ہی بااختیار صاحبان ایسے ہیں جنہوں نے ملک کو اپنی جاگیر سمجھے رکھا۔ موجودہ حکمران بھی اپنوں کو نوازنے میں مصروف رہے۔ اس اقربا پروری نے اداروں کو تباہ کر دیا اور خوشامد کو میرٹ کا درجہ دے دیا ہے۔ آج ہماری تنزلی کی اصل وجہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونا اور تعلیم کی کمی ہے۔

قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں مضمر ہوتا ہے۔ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک بچے بڑے سبھی تعلیم کے زیور سے آراستہ نہ ہو جائیں۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں جو ہماری تباہی کی وجوہ میں شامل ہیں۔ نوجوانوں کی ملکی ترقی میں شمولیت کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ یونینز پر پابندی ختم کی جائے۔ یہ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ طلبا یونینز سے ہی ملک و قوم کو اچھی پڑھی لکھی اور بھرپور صلاحیت کی حامل قیادت میسر آ سکتی ہے۔ گزشتہ 35برسوں سے یونین پر پابندی ہے جو قومی سیاست کی نرسری ہوتی ہے۔ ریاست نے 18سال کی عمر میں نوجوانوں کو ووٹ کاسٹ کرنے کا اختیار تو دے دیا ہے مگر انہی نوجوانوں کو قومی سیاست میں آنے سے روک رکھا ہے۔ طلبہ یونین کی بحالی ایک آئینی و قانونی حق ہے۔ تحریک انصاف نے نوجوانوں کے مسائل کو حل کرنے کا نعرہ لگایا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ حکومت ان کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کرے۔ المیہ یہ ہے کہ ملکی حالات سے دلبرداشتہ ہو کر ہر سال 8ہزار سے زائد اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بیرونِ ملک کا رخ کر لیتے ہیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری بھی اربابِ بست و کشاد سے سنبھل نہیں پا رہی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں معمولی کمی کا اعلان کرکے غریب عوام کے ساتھ ریلیف کے نام پر سنگین مذاق کیا ہے۔ پٹرول کی قیمت فی لیٹر 25پیسے کمی کرکے عوام پر حکمرانوں نے جو احسان کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ الیکشن سے پہلے موجودہ حکومت نے کئی وعدے کئے جو وہ پورے نہ ہو سکے۔ روز بروز مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے اور تنخواہیں اس تناسب سے نہیں بڑھ سکیں۔ جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ اگر سب کچھ ایسے ہی چلتا رہا تو حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔