آپ آف لائن ہیں
منگل4؍صفر المظفّر 1442ھ 22؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

پی ٹی آئی کو سندھ حکومت تبدیل کرنیکی جلدی، گورنر راج پر غور

کراچی (حیدر نقوی) پاکستان تحریک انصاف کو سندھ حکومت تبدیل کرنے کی جلدی ہے اور انہوں نے سندھ میں گورنر راج لگانے پرغور شروع کردیا ہے تاہم پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں جلد بازی میں کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی کام نہیں کریں گے ۔

دوسری جانب پی پی رہنما نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا دیوانے کا خواب ہے ، یہ وار کرکے بھی دیکھ لیں ہماری حکمت عملی تیار ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایک دفعہ پھر سندھ میں تبدیلی کے مطالبہ نے زور پکڑ لیا ہے اور سندھ کی تمام اپوزیشن جماعتوں نے کل گورنر سندھ عمران اسمٰعیل کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کرکے سندھ حکومت کے خلاف شکایتوں کے انبار لگادیئے ۔

اطلاعات یہ ہیں کہ سندھ حکومت کو کارکردگی کی بنیاد پر نشانہ بناکر اقتدار سے الگ کردیا جائے گا جس کا فوری اور واحد طریقہ فی الحال گورنر راج ہی نظر آتا ہے اس کے علاوہ کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ فوری طور پر سندھ حکومت کو ختم کیا جاسکے۔

پیپلز پارٹی کے ارکان سندھ اسمبلی کو باغی کرکے فارورڈ بلاک بنانے کی کوشش فی الحال تو کسی صورت کامیاب ہوتی نظر نہیں آرہی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات میں جی ڈی اے کی اعلیٰ قیادت نے شرکت نہیں کی جبکہ ایم کیو ایم کی طرف سے بھی سینئر لیڈروں میں بس کنور نوید جمیل شریک ہوئی اور پریس ریلیز میں جاری ہونے والے ناموں میں سے کوئی بھی میٹنگ میں نہیں تھا۔

سندھ سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما جن کا پیپلز پارٹی سے تعلق تھا نے عمران خان کو کہا کہ اگر انھیں موقع دیا جائے تو وہ سندھ حکومت کے کئی ممبران اسمبلی کو اپنے ساتھ ملاسکتے ہیں کیونکہ وہ اُن سے رابطے میں ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی آخر کیوں گورنر راج کے لیے اتنی بے چین ہے جب ہم نے یہ سوال سندھ کی ایک اہم شخصیت سے کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہماری اتحادی جماعت ایم کیو ایم کی طرف سے ترقیاتی کاموں کو آگے بڑھانے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ہے مگر وفاقی حکومت یہ کام سندھ حکومت کے ذریعے نہیں کرنا چاہتی کیونکہ سندھ حکومت کرپشن کی شہنشاہ ہے اور وفاقی حکومت اتنا بڑا خطرہ لینے کو تیار نہیں اس لیے کراچی اور سندھ میں ترقیاتی کام شروع کرانے کے لیے سب سے پہلے پی ٹی آئی کو سندھ حکومت میں اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنا ضروری ہے بصورت دیگر سندھ حکومت کو ترقیاتی کاموں کے لیے کسی بھی قسم کی رقم وفاق سے نہیں دی جائیگی۔

پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے جب اس سلسلے میں بات کی گئی تو انھوں نے اسے دیوانے کا خواب قرار دیا اور کہا کہ پی ٹی آئی یہ وار کرکے دیکھ لے دوسرے ہی دن عدالت اس فیصلے کو اُٹھاکر پھینک دے گی ہماری مکمل حکمت عملی تیار ہے ۔

پی ٹی آئی کے پاس سوائے جھوٹے الزامات کے کوئی ٹھوس ثبوت یا وجہ نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر گورنر راج کا نفاذ کیا جائے۔ ایک پی پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ مراد علی شاہ کی گرفتاری کا خواب دیکھنے والے خود جلد گرفتار ہونے والے ہیں مگر بدقسمتی یہ ہے کہ وہ دیوار پر لکھا ہوا پڑھنے سے قاصر ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ جو بھی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی فارورڈ بلاک بنانے کے لیے اُس سے رابطے میں ہیں وہ جھوٹوں کا سردار ہے اور کچھ نہیں۔ بلکہ اُلٹا جی ڈی اے کے رہنما ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں وہ سندھ حکومت کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کو ایک بہت بڑی غلطی قرار دیتے ہیں اگر ہماری بات کا یقین نہیں تو کل وزیر اعظم سے ملاقات کرنے والوں کی فہرست نکال کر دیکھ لیں سب ہارے ہوئے پہنچے تھے باقی کوئی نہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم جمہوری لوگ ہیں جلد بازی میں کوئی غیر آئینی اور غیر قانونی کام نہیں کریں گے۔

اہم خبریں سے مزید