آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر29؍ جمادی الثانی 1441ھ 24؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی

لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی غنڈہ گردی نے اسپتال کو میدانِ جنگ بنا دیا، مشتعل وکلاء نے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض چوہان پر بھی تشدد کیا اور انہیں بالوں سے پکڑ لیا۔

وزیرِ اعظم عمران خان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

اطلاعات کے مطابق وکلاء کی ہنگامہ آرائی کے باعث ڈاکٹر وارڈ چھوڑ کر چلے گئے جبکہ طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے 3 سے 4 مریض دم توڑ گئے۔

وکلاء کے احتجاج کے نتیجے میں اسپتال میں داخل مریضوں کے تیمارداروں میں بھی خوف و ہراس پھیل گیا۔

متعدد وکلاء اسپتال کا گیٹ زبردستی کھلوا کر اسپتال کے اندر داخل ہو گئے جہاں دل کے تشویش ناک حالت کے مریض داخل ہیں۔

وکلاء نے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہو کر ہلڑ بازی کی جس کے باعث ڈرپ لگے مریض ڈرپ سمیت اسپتال سے باہر آنے پر مجبور ہو گئے۔

چیئرمین گرینڈ ہیلتھ الائنس ڈاکٹر سلمان حسیب کے مطابق وکلاء صف بندی کر کے اسپتال میں داخل ہوئے، جنہوں نے کارڈیالوجی اسپتال کے اندر توڑ پھوڑ کی، جس کے باعث ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور مریضوں کی جانوں کو خدشات لاحق ہیں۔

مشتعل وکلاء نے ایمرجنسی وارڈ کے داخلی دروازے کے شیشوں سمیت اسپتال میں کھڑی گاڑیوں کے شیشے بھی توڑ دیئے، ڈاکٹروں کے کپڑے تک پھاڑ دیئے، ایک ڈاکٹر کا سر پھوڑ کر انہیں زخمی کر دیا۔

وکلاء کے پر تشدد احتجاج کے دوران پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی جبکہ ایک مریض کا بھائی چلاتا رہا کہ میرے بھائی کے دل کا آپریشن ہو رہا ہے، وکلاء کیا کر رہے ہیں؟ اس دوران بھی وکلاء نے ایک نہ سنی اور توڑ پھوڑ جاری رکھی۔

وکلاء کا پولیس پر پتھراؤ، جواب میں لاٹھی چارج، شیلنگ

وکلاء نے پی آئی سی کے باہر ہوائی فائرنگ کی اور پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگا دی، پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔

پولیس نے مشتعل مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور ان کے خلاف آنسو گیس شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ کئی وکلاء کو گرفتار بھی کیا۔

محکمۂ داخلہ کے ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کے کہنے پر ہنگامہ آرائی پر قابو پانے کے لیے رینجرز کو کارڈیالوجی اسپتال بھیجا گیا ہے۔

وکلاء کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے جی روڈ کے دونوں اطراف واقع مارکیٹیں بند کر دی گئی ہیں۔

طبی امداد نہ ملنے سے کئی مریض انتقال کر گئے

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں جھگڑے کے دوران بر وقت علاج نہ ہونے سے ایک خاتون انتقال کر گئیں، خاتون کے بیٹےکا کہنا ہے کہ والدہ نے تکلیف کی شکایت کی لیکن ڈاکٹر نہیں ملا، وکلاء کے ہنگامے کی وجہ سے ڈاکٹرز وارڈ چھوڑ کر چلے گئے تھے، انتقال کرنے والی خاتون مریضہ مغلپورہ کی رہائشی تھیں۔

وکلاء کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے طبی امداد نہ ملنے کے سبب 3 سے 4 مریضوں کے انتقال کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

وکلاء کا صحافیوں پر بھی حملہ

وکلاء کی جانب سے اسپتال کی فوٹیج بنانے والے صحافیوں پر بھی حملہ کیا گیا ہے، وکلاء نے ’جیو نیوز‘ کے رپورٹر احمد فراز سمیت نجی ٹی وی چینل کے کیمرہ مین پر بھی تشدد کیا اور کیمرہ توڑ دیا۔

وکلاء کے احتجاج کی کوریج کرنے پر خاتون صحافی پر بھی تشدد کیا گیا جبکہ رپورٹنگ کرنے پر ٹی وی چینل کی رپورٹر کو بھی مارا پیٹا گیا۔

وکلاء کا فیاض چوہان پر بھی تشدد

مشتعل افراد نے وہاں آنے والے وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض چوہان پر بھی تشدد کیا اور انہیں بالوں سے پکڑ لیا۔

مشتعل افراد وزیرِ اطلاعات پنجاب فیاض چوہان کو دھکے دیتے رہے، انہیں گریبان سے پکڑا اور تھپڑ بھی مارے، فیاض چوہان پولیس کو مدد کے لیے بلاتے ہی رہ گئے۔

فیاض الحسن چوہان نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اغواء کرنے کی کوشش کی گئی، میں بیچ بچاؤ کرانے آیا تھا، مگر مجھ پر تشدد کیا گیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انصاف پسند وکلاء آج رنجیدہ اور دکھی ہیں، ذمے داروں کے خلاف ایف آئی آر کٹوائی جائے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لے لیا

وزیرِ اعظم عمران خان نے لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی غنڈہ گردی کے واقعے کا نوٹس لے لیا۔

انہوں نے پنجاب کے چیف سیکریٹری اور آئی جی سے واقعے کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا واقعے کی تحقیقات کا حکم

دوسری جانب وزیرِ اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی ہنگامہ آرائی کا نوٹس لیتے ہوئے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

اس سلسلے میں انہوں نے سی سی پی او لاہور اور صوبائی سیکریٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار نے پولیس اور انتظامیہ کو ہنگامہ آرائی کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ دل کے اسپتال میں ایسا واقعہ ناقابلِ برداشت ہے، مریضوں کے علاج میں رکاوٹ ڈالنا غیر انسانی اور مجرمانہ اقدام ہے، پنجاب حکومت ذمے داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گی۔

یاسمین راشد کی پی آئی سی آمد، ڈاکٹروں کے نعرے

وکلاء کی ہنگامہ آرائی ختم ہونے کے بعد وزیرِ صحت پنجاب یاسمین راشد لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچ گئیں۔

صوبائی وزیرِ صحت یاسمین راشد کی پی آئی سی آمد پر ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس نے پنجاب حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

اس موقع پر ڈاکٹروں نے وزیرِ قانون پنجاب راجہ بشارت کو اسپتال اور مریضوں کے نقصان کا ذمہ دار قرار دیا۔

واضح رہے کہ کچھ روز قبل پی آئی سی میں وکلاء اور ڈاکٹرز کی لڑائی کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے خاکروب اور سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کر لیا تھا، جس کے بعد گرینڈ ہیلتھ الائنس نے  پی آئی سی کی او پی ڈی میں ہڑتال کر دی تھی۔

قومی خبریں سے مزید