آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کئی تہذیبوں اور سلطنتوں کی آماجگاہ

کچھ دن پہلے ایک دوست نے مجھے ایک سندھی کتاب پڑھنے کے لئے دی‘ یہ کتاب انگریزی میں لکھی گئی ایک کتاب "Empires of the Indus" (دریائے سندھ کی سلطنتیں) کا سندھی میں ترجمہ ہے‘ جوبرطانیہ کی ایک خاتون محقق ایلائیس البینیا کی لکھی ہوئی ہے‘ یہ کتاب مختصر پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ اس کتاب میں انڈس بیسن‘ دریائے سندھ اور اس کے اردگرد کے علاقوں کے بارے میں جو تحقیق کی گئی ہے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ اس نقطہ نگاہ سے اس کتاب کو اس موضوع پر ایک لاثانی (Unique)کتاب کہا جا سکتا ہے۔ میں اس کتاب میں دیئے گئے حقائق سے اس حد تک متاثر ہوا کہ میں نے طے کیا کہ میں ’’جنگ‘‘ میں ان پر کالم لکھوں تاکہ قارئین ان حقائق سے آگاہ ہو سکیں۔ مناسب ہو گا کہ پہلےاس کتاب کی مصنفہ ایلائیس البینیا کا مختصر تعارف کرایا جائے۔ ایلائیس برطانیہ کی شہری ہیں‘ انہوں نے 1976میں لندن میں جنم لیا‘انگریزی ادب کی تعلیم کیمبرج میں حاصل کی اور جنوبی ایشیا کی تاریخ کے بارے میں ڈگری ایس او اے ایس سے حاصل کی‘ اس عرصے کے دوران انہوں نے دو سال تک دہلی (بھارت) میں صحافی اور ایڈیٹر کی حیثیت میں کام کیا۔ اس دوران ایلائیس نے افغانستان‘ ہندوستان ‘ پاکستان اور تبت کا سفر کیا اور اپنی پہلی کتاب "Empires of the Indus" پر کام شروع کیا۔ یہ کتاب ابھی شائع بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایلائیس کواس کتاب پر رائل سوسائٹی آف لٹریچر ’’جیرووڈ‘‘ کی طرف سے ایوارڈ دیا گیا۔ اس کتاب کا پیش لفظ بھی ان حقائق کے حوالے سے کافی دلچسپ ہے۔ پیش لفظ میں کہا گیا ہے کہ ’’وہ دیس جہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں وہاں دریا کی حیثیت سونے سے کم نہیں ہوتی‘ پانی میں تخلیق کی استعداد بہت زیادہ ہوتی ہے‘ پانی انسانی خوابوں کا تخلیق کار ہے‘ زندگی کی علامت ہے‘ زراعت کے لئے آکسیجن ہے تو ساتھ ہی کافی عرصے سے پانی جنگ کا باعث بھی بنا رہا ہے‘ جیسے ہی پہلے قدیم افریقی ’’ہوموسنیئنس نے ہجرت کی تو دریائے سندھ کے کنارے بھوکے ’’فاتحین‘‘ کی آماجگاہ بن گئے‘ دنیا کے اوائلی شہروں نے یہاں جنم لیا جہاں تعمیرات شروع ہوگئیں‘ ہندوستان کا قدیمی سنسکرت ادب دریائوں کے متعلق ہی ہے‘ اسلام کے مبلغ ان پانیوں کے کناروں پر ظاہر ہوئے‘ پاکستان وادی سندھ کی تہذیب کا نیا مالک ہے‘ مجھے یاد ہے کہ جب پہلی بار میرے دل میں دریائے سندھ کو دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی تو میری عمر 23 سال تھی اور اس وقت میں دہلی میں فلیٹ کی چھت پر گرمی سے بچنے کے لئے بیٹھی ہوئی رگ وید کا مطالعہ کررہی تھی‘ اس کے بعد میں نے 3 ہزار سال پرانے اشلوک کا مطالعہ کرنا شروع کردیا‘ اس وقت میرے کانوں میں ظہر کی اذان کی آواز پڑی‘ یہ آوازیں دہلی کی مساجد سے آرہی تھیں‘ میں نے سنسکرت کے سادھوئوں کی دریا کے بارے میں کی گئی تعریف پڑھی‘ انہوں نے دریائے سندھ کو ’’ناقابل تسخیر‘‘ قرار دیا تھا۔ ہندو مت کی ’’ماتر بھومی‘‘ ہندوستان نہیں پاکستان ہے‘ اس وقت مجھ پر ہر وقت بس میں سفر کے دوران‘ چھٹیوں میں اور رات کے وقت پنکھے کے نیچے لیٹے ہوئے ہندوستان کی تاریخ کے مطالعہ کا جنون سوار رہتا تھا‘ یہی سبب تھا کہ اس وقت میں جس طرف اپنا چہرہ کرتی تھی تو مجھے دریائے سندھ نظر آتا تھا‘ وہاں کے بیوپاری پانچ ہزار سال پہلے میسو پوٹیمیا کے ساتھ تجارت کرتے تھے‘ فارس کے ایک شہنشاہ نے چھ صدیاں قبل مسیح اس کا نقشہ بھی بنایا‘ گوتم بدھ‘ تخت اور تاج ترک کرنے کے بعد دریائے سندھ کے کنارے پر آکر آباد ہوئے‘ یونانی بادشاہ‘ افغان سلطان بڑے لشکر لیکر دریائے سندھ کے کناروں پر آباد شہروں کو فتح کرتے تھے‘ سکھ مت کے بانی گرونانک پر بھی دریائے سندھ میں داخل ہونے والے ایک دریا میں نہاتے ہوئے کئی حقیقتوں کے راز فاش ہوئے‘ برطانیہ نے بھی اپنے گن بوٹس کے ذریعے دریائے سندھ پر حملے کئے‘ 1947تک دریائے سندھ ہی ہندوستان کی زندگی کا حصہ تھا‘ انڈیا کا نام بھی انڈس سے مستعار لیا گیا ہے‘ قدیم ہندو بھی سنسکرت میں اسے ’’سندھو‘‘ کہتے تھے۔ فارسیوں نے اس کا نام ’’ہندو‘‘ میں تبدیل کیا اور یونانیوں نے ’’ہندو‘‘ میں سے ایچ نکال کر ’’انڈو‘‘ کردیا‘ چینیوں نے اسے ’’انڈس‘‘ بنایا‘ اسی طرح سندھو میں سے انڈیا‘ ہندو اور انڈیز تخلیق کئے گئے۔ سکندر اعظم کے وقت کے تاریخ دانوں نے اسے انڈس ویلی (سندھو ماتھوی) کرکے لکھا۔ دلچسپ کہانیاں تخلیق کیں اور انہوں نے دریائے سندھ کو انڈیکا (Indica) کا نام دیا‘ سینکڑوں سال بعد جب ہندوستان تقسیم ہوا تو انگریزوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو مشورہ دیا کہ وہ نئی مسلم ریاست کا نام انڈس ویلی کے نام کے توسط سے انڈیا رکھیں یا اس کو ’’انڈستان‘‘ قرار دیں‘ جیسے 18 ویں صدی میں انگریز ملاحوں نے اس علاقے کو یہ نام دیا تھا مگر قائد اعظم نے انگریزوں کی طرف سے دیئے گئے اس مشورے کو رد کردیا اور اس ملک کا نام ’’پاکستان‘‘ رکھا۔ (جاری ہے)

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)